586 total views, 1 views today

کالا جمعہ یا بلیک فرائیڈے سے مراد ریاست ہائے متحدہ میں یوم شکرانہ (نومبر کی چوتھی جمعرات) کے بعد آنے والا جمعہ ہے۔ 2000ء کے اوائل سے ریاست ہائے متحدہ میں یہ دن کرسمس کی خریداری کرنے کے آغاز کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اس موقع پر خریداری کے بیشتر مراکز صبح سویرے سے رات گئے تک کھلے رہتے ہیں اور خریداری کی اشیا پر خصوصی رعایت کی پیش کش بھی کرتے ہیں۔ بلیک فرائیڈے اگرچہ سرکاری تعطیل نہیں ہوتی، تاہم کیلیفورنیا اور بعض دیگر ریاستوں میں سرکاری ملازمین کسی دوسری وفاقی تعطیل (مثلاً یوم کولمبس) کے بدلے یومِ شکرانہ سے اگلا دن چھٹی کے طور پر مناتے ہیں۔ بیشتر اسکولوں میں یومِ شکرانہ جمعرات اور اس سے اگلے دن جمعہ کو بھی چھٹی ہوتی ہے۔ یوں وہ چار چھٹیوں پر مشتمل طویل ’’ویک اینڈ‘‘ مناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خریداروں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوجاتا ہے۔ 2005ء سے یہ دن خریداری کے اعتبار سے سال کا سب سے مصروف ترین دن بنتا جارہا ہے۔ 2014ء میں بلیک فرائیڈے کی چار تعطیلات پر مشتمل ویک اینڈ میں خریداری پر 50. 9 بلین ڈالر خرچ کیے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فی صد کم تھے۔ جب کہ اس عرصے کے دوران میں ریاست ہائے متحدہ کے 13 3 ملین صارفین نے خریداری کی جو پچھلے سال کے 144 ملین کے مقابلے میں 5.2 فی صد کم تھے۔اس دن کو یہ نام فلاڈیلفیا سے ملا، جہاں یومِ شکرانہ سے اگلے دن سڑکوں پر پاپیادہ چلنے والوں اور گاڑیوں کے بے پناہ ازدحام کے باعث اس دن کو بلیک فرائیڈے کہا جانے لگا۔ اس اصطلاح کا استعمال 1961ء سے بھی قبل ہوا، اور 1975ء کے لگ بھگ اسے فلاڈیلفیا سے باہر بھی جانا جانے لگا۔ بعد ازاں، اس کی ایک دوسری توجیہ بھی پیش کی گئی۔ پرچون فروشوں کو عموماً جنوری سے نومبر تک مالیاتی خسارے کا سامنا رہتا تھا (جسے سرخ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے) اور بلیک فرائیڈے اس نقطے کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ منافع کمانا شروع کرتے ہیں (جو سیاہ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے)۔ 1951-52ء میں بھی اس اصطلاح کو استعمال کیا گیا ہے۔ عام طور پر یوم تشکر کی چھٹیوں کے بعد مزدور بیمار ہوجاتے تھے، جس کی وجہ سے اس دن کو بلیک فرائیڈے کہنے لگے۔




2000ء کے اوائل سے ریاست ہائے متحدہ میں یہ دن کرسمس کی خریداری کرنے کے آغاز کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ (Photo: Evening Standard)

دین اسلام میں جمعۃ المبارک کو خاص اہمیت اور فضیلت حاصل ہے۔ جمعہ کا دن انتہائی عظیم الشان، پُرسعادت، مقدس اور بابرکت دن ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے جمعہ کے دن کو عید کا دن اور تمام دنوں کا سردار دن قرار دیا ہے۔ اب ذرا اسلامی نقطۂ نظر اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس دن کا جائزہ لیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں:
۱:۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
۲:۔ اِسی دن اُن کو زمین پر اتارا۔
۳:۔ اِسی دن اُن کو موت دی۔
۴:۔ اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں۔ بشرط یہ کہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔
۵:۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
تمام مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے۔ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ (ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے۔ (صحیح ابن حبان)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا: مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے۔ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو (طبرانی، مجمع الزوائد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔

تمام مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے۔ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ (ابن ماجہ)
(Photo: books.urdutube.net)

اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہ بروج میں’’وشاہد ومشہود‘‘کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس کی گواہی دے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ (طبرانی ، بزاز)
جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی۔ (زاد المعاد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے (بخاری)۔
بحیثیت مسلمان دنوں کے سردار کو کالا جمعہ کہنے کا بائیکاٹ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آئیں عہد کریں کہ کالا جمعہ منانے والوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور کسی بھی ایسے سٹور سے خریداری نہیں کریں گے جو اس نام پر ڈسکاؤنٹس دیتے ہیں۔

………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے