1,438 total views, 1 views today

دنیا کی ہر منظم جماعت کی ایک خاص پہچان ہوا کرتی ہے۔ جو ان کے کپڑوں، بالوں کی تراش خراش، رہن سہن، کھانے پینے کی عادات، عبادات و رسومات، تعلق و سلوک، رکھ رکھاؤ اور اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی بھی آدمی کی جانب دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں قوم، مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ بدھوں کے بھکشو ہوں یا ہندوؤں کے پنڈت، یہودیوں کے رِبی ہوں یا عیسائیوں کے پادری، سب کی پہچان ان کے طور طریقوں سے فوراً ہو جاتی ہے۔ اسی طرح عسکری اداروں سے تعلق رکھنے والے ملازمین ہوں یا تعلیمی اداروں کے طلبہ، ان کی وردیوں سے ان کے شعبے کا پتا چل جاتا ہے۔
اسلام دنیا کا مہذب اور منظم ترین مذہب ہے۔ لہٰذا یہ بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس کے ماننے والے خاص طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور خاص قسم کا اسلوبِ زندگی رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصطلاح میں ان خاص امور کو شعائرِ اسلام کہا جاتا ہے، یعنی ’’اسلام کی علامات۔‘‘ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے اس کی تعریف یوں کی ہے: ’’شعائر اسلام ان اعمال و افعال کو کہا جائے گا جو عرفا مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور محسوس و مشاہد ہیں۔‘‘ امام رازیؒ کے مطابق ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالی کی اطاعت کی جھلک دکھائی دے اسے شعار کہتے ہیں۔‘‘ امام جصاص رحمہ اللہ کے مطابق: ’’شعائر اللہ سے مراد تمام شرائع اور دین کے مقرر کردہ واجبات و فرائض اور ان کی حدود ہیں۔‘‘ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے مطابق جو چیزیں حق تعالیٰ کی عظمت و معبودیت کے لیے علامت اور نشانات خاص قرار دی گئی ہیں (وہ شعائر اسلام کہلاتی ہیں)۔‘‘ ان کا تذکرہ قرآن مجید میں چار مرتبہ کے قریب ہوا ہے۔




اسلام کے ماننے والے خاص طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور خاص قسم کا اسلوبِ زندگی رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصطلاح میں ان خاص امور کو شعائرِ اسلام کہا جاتا ہے، یعنی ’’اسلام کی علامات۔‘‘

شعائر کی تین اقسام ہیں، شعائرِ مکان، شعائرِ زمان اور شعائرِ عبادت۔

شعائر مکان، وہ مقامات جن سے اللہ کی اطاعت جھلکتی ہے جیسے مسجد حرام، کعبہ، عرفہ، مزدلفہ، جمرات، صفا، مروہ، منی اور مساجد وغیرہ اور شعائرِ زمان وہ عبادات جن کا تعلق زمانہ سے ہے، جیسے رمضان، حج، عیدین اور جمعہ جبکہ شعائرِ عبادات جیسے اذان، اقامت، نماز، جماعت وغیرہ۔ اسی طرح حکم کے اعتبار سے اس کی چار اقسام ہیں: فرض، واجب، سنت، مستحب۔ جن شعائر کا تذکرہ کلامِ پاک میں ہوا ہے، انھیں فرض کا درجہ دیا جاتا ہے اور ان کا منکر دایرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جیسے عرفات، منی، مزدلفہ، صفا و مروہ وغیرہ کا منکر یا مذاق اڑانے والا دایرۂ اسلام سے خارج ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا حکم ہے: ’’یا ایہا الذین آمنوا لا تحلوا شعائر اللہ۔‘‘ (اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو) مفسرین نے ’’بے حرمتی‘‘ کے تین مطالب بیان کیے ہیں۔ ایک، اِن کا سرے سے انکار کر دیا جائے ۔ امام کاسانیؒ کے مطابق ایسی منکر جماعت سے قتال کرنا واجب ہے۔ دوسرا، مقرر کردہ حدود سے تجاوز کیا جائے۔ تیسرا، شعائر اسلام پر عمل تو کیا جائے لیکن ادھورا ہو۔ یہ لوگ سخت گناہ گار ہیں۔ اسی طرح شعائر اسلام کا مذاق اڑانا بھی ایک مسلمان کو اللہ تعالی کی نظرِ رحمت اور اسلام سے دور کر دیتا ہے۔

شعائر اسلام کا مذاق اڑانا بھی ایک مسلمان کو اللہ تعالی کی نظرِ رحمت اور اسلام سے دور کر دیتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے بعض مسلمان بھائی بھی لاعلمی میں شعائرِ اسلام کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض مکانی و زمانی تمام عبادات کو استہزا میں اڑا دیتے ہیں۔ حتی کہ ان عبادات پر کفریہ محاورات بنے ہوئے ہیں۔ جیسے ’’نمازیں بخشوانے گئے، روزے گلے پڑ گئے‘‘،’’ملائے مکتبی‘‘ وغیرہ۔ اِسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو مذاق بنایا جاتا ہے جیسے ڈاڑھی مبارک، شلوار کا ٹخنوں سے اوپر ہونااور عمامہ وغیرہ۔ حتی کہ بعض لوگ کسی دین دار اور ڈاڑھی والے شخص کو دیکھتے ہی مزاحاً’’مولوی بم‘‘ جیسی اصطلاحات سے نوازنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ لاعلمی میں کیا جانے والا ایسا مذاق انسان کی دنیاوی و اُخروی تنزلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اللہ تعالی سورۃ المطففین میں فرماتے ہیں: ’’جو لوگ مجرم تھے، وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے، تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تھے، تو دل لگی کرتے ہوئے جاتے تھے۔ اور جب ان (مومنوں کو) دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ یقیناًگمراہ ہیں۔‘‘
شعائر اللہ کا مذاق اڑانے کے دو اسباب ہوسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ان سے نفرت کی بنا پر ایسا کیا جائے۔ لیکن ایک مسلمان سے ایسی توقع رکھنا بذات خود ایک گناہ ہے۔ دوسرا یہ کہ فیشن کے طور پر لاعلمی میں ایسا کیا جائے۔ یاد رہے کہ فیشن، ذہنی غلامی کا دوسرا نام ہے۔ انسان کی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں جب زنگ پکڑ لیتی ہیں، تو پھر وہ دوسروں کے زاویۂ نگاہ سے سوچتا ہے۔ وہ معاشرہ کا ایسا کوا ہوتا ہے جو ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی بھی بھول جاتا ہے۔ اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں، اس کے پسِ پردہ کیا مقاصد ہیں؟ اس کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟ اُسے تو بس اتنا یاد رہتا ہے کہ چوں کہ فلاں فلاں یہ کام کر رہے ہیں، لہٰذا میں بھی اسی طرح کروں گا۔ خواہ اس سے میرا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔
معزز قارئین سے التماس ہے کہ ایساکوئی پہلو جس سے اسلام و مسلمین کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو، اُس سے گریز کریں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جو انسان کو کاٹ لیتی ہے لیکن مضروبہ شخص اس سے قطعی لاعلم رہ جاتا ہے۔ بقول قرآن مجید کے ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون: ’’کہیں ایسا نہ ہو، تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے ۔‘‘

……………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے