585 total views, 1 views today

اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا، تو اعلان سنتے ہی کفار و مشرکین مکہ غصہ سے بپھر گئے اور پیغامِ حق کی سخت مخالفت کرکے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ہر طرح سے ستانے لگے۔ انہیں حالات میں بڑے مردوں میں جن خوش نصیبوں نے اسلام قبول کیا، ان میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام سرِفہرست ہے۔ آپؓ تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں بلند مرتبہ پر فائز ہیں بلکہ پیغمبروں کے بعد آپؓ تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ (ایک روایت)

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام عبداللہ تھا۔ “ابوبکر” آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ قبیلہ قریش کے خانوادہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ نسب کے اعتبار سے آپؓ کا سلسلہ چھٹی پشت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ عمر میں آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے دو سال چھوٹے تھے۔ بچپن ہی سے دونوں پیارے اور گہرے دوست تھے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ کیا، تو سب سے پہلے ابوبکر صدیقؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر ایمان لایا۔اسی وجہ سے آپؓ کو صدیق کہتے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و الہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے، عالمِ بالا کی سیر کی، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کیا اور آسمانوں میں بعض پیغمبروںؑ سے ملاقاتیں بھی کیں اور پھر صبح جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لوگوں کو واقعۂ معراج سنایا، تو سردارانِ قریش اور خصوصاً ابوجہل، آپؓ سے کہنے لگے کہ تمہارا دوست تو ناقابلِ یقین باتیں کرتا ہے۔ اس پر صدیق اکبرؓ نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر یہ باتیں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کہی ہیں، تو بلاشک و شبہ ہیں اور بالکل ٹھیک ہیں۔ اسی دن سے آپؓ کا لقب صدیق یا صدیق اکبر پڑگیا جس کے معنی ہیں بہت سچا، بڑا سچا اور بلاچوں و چراں تصدیق کرنے والا۔




حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام عبداللہ تھا۔ “ابوبکر” آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ قبیلہ قریش کے خانوادہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ نسب کے اعتبار سے آپؓ کا سلسلہ چھٹی پشت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ عمر میں آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے دو سال چھوٹے تھے۔ بچپن ہی سے دونوں پیارے اور گہرے دوست تھے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ کیا، تو سب سے پہلے ابوبکر صدیقؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر ایمان لایا۔اسی وجہ سے آپؓ کو صدیق کہتے ہیں۔

آپؓ ہر تکلیف اور مشکل وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان کی قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ ہجرت کے موقع پر آپؓ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ تھے اور راستے کی تکالیف اور خطرات کی پروا کئے بغیر آپؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ مدینے پہنچ گئے۔

آپؓ کو یارِ غار بھی کہتے ہیں کیوں کہ مدینہ ہجرت کرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کفارِ مکہ کی طرف سے خطرے کے پیشِ نظر تین دن غارِ ثور میں گزارے۔ اس تمام عرصے میں صدیق اکبرؓ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ہمراہ تھے۔

آپؓ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ تقریباً تمام غزوات میں شریک رہے اور میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتے رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک دفعہ صدیق اکبرؓ کے متعلق فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ کے احسانات کا بدلہ میں نہیں دے سکتا۔ ان کے احسانات کا بدلہ اللہ ہی دے گا۔

روایات میں صدیق اکبر ؓ کی بلندیٔ شان کے متعلق آیا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ دونوں رات کے وقت گھر کے صحن میں بیٹھے تھے۔ عائشہ صدیقہؓ نے آسمان پر ستاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کی نیکیاں ان ستاروں کے برابر ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، وہ شخص حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔ یہ سن کر عائشہ صدیقہؓ فکر مند سی ہوگئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عائشہ صدیقہؓ کی یہ کیفیت بھانپ گئے اور فرمایا کہ ایک دوسرا شخص بھی ہے جس کی نیکیاں آسمان کے ان ستاروں سے بھی زیادہ ہیں اور وہ شخص ہے ابوبکر صدیقؓ۔ یہ سن کر عائشہ صدیقہؓ بے حد خوش ہوگئیں۔

آپؓ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے جانشین یعنی مسلمانوں کے خلیفہ مقرر ہوئے۔ آپؓ ہی کے عہد میں شام، عراق اور یمن کے ممالک فتح ہوئے۔ فتنۂ ارتداد جو عرب کے بیشتر حصے میں پھیل چکا تھا دبا دیا گیا اور مسلمہ کذاب جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا کو قتل کردیا گیا۔ منکرین زکوٰۃ سے زکوٰۃ وصول کی اور اپنی خداداد صلاحیت اور تدبر سے بہت سے مسائل کو حل کیا۔ آپ اپنے گزر اوقات کے لیے بیت المال سے بہت کم وظیفہ لیتے تھے۔ آپؓ کی طرزِ زندگی عام مسلمانوں اور خصوصاً حکمرانوں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ آپؓ نے ڈھائی سال خلافت کرنے کے بعد بائیس (22) جمادی الآخر 13 ہجری کو داعئی اجل کو لبیک کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پہلو میں دفن ہوکر یارِ غار سے یارِ مزار کہلائے۔

تاریخ شاہد ہے کہ خلفائے راشدینؓ صحیح معنوں میں عوامی حکمران تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ عوام میں رہے، عوام میں جئے اور دن رات عوام کی خدمت کرتے رہے۔ پاکستان، اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔ لہٰذا خلفائے راشدین کے ایام کو سرکاری طور پر منایا جائے اور ان مواقع پر خصوصی پیغامات نشر کئے جائیں۔
پروانے کو شمع ہے اور بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس




تبصرہ کیجئے