41 total views, 2 views today

شعایرِ اسلام اور اسلامی آدابِ معاشرت میں ’’ایفائے عہد‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ دنیا کا تمام کار و بار باہمی مفاہمت اور اعتبار سے چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی معاہد یعنی عہد کرنے والا اپنا وعدہ پورا کرتا ہے، تو متعہد سے دل میں اس کے لیے قدر و قیمت اور اعتبار اور اعتماد کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور خدا بھی راضی ہوتا ہے۔
ایفائے عہد بارے اللہ تعالا قرآنِ کریم میں فرماتا ہے…… یعنی مومنوں کا وہ گروہ کامیاب ہے جو امانتوں اور وعدوں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔
ایک دوسری آیتِ کریمہ ہے، بے شک وعدے سے متعلق پوچھا جائے گا۔
اس طرح رسولِ اکرمؐ کا ایک ارشاد مبارک ہے، جس کو وعدے کا پاس نہیں…… اس کا ایمان نہیں۔
عہد کی کئی قسمیں ہیں:
٭ ایک عہد یا وعدہ وہ ہے جو انسان ایک دوسرے سے کرتے ہیں…… جسے قول و قرار کہا جاتا ہے۔ اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ عہد کو پورا نہ کرنا منافق کی علامات میں سے ہے۔
٭ عہد الست:۔ یہ وہ عہد ہے جو انسانوں کی ارواح نے روزِ آفرینش، خالقِ کائنات سے کیا تھا۔ جب خدا نے تمام ارواح سے پوچھا:’’ بھلا‘‘ ہاں! کیوں نہیں!‘‘ لہٰذا اس عہد کی رُو سے ہر انسان اس بات کا پابند ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ اللہ تعالا نے اس عہد کی یاد دہانی کے لیے انسانوں کی طرف وقتاً فوقتاً رسول بھیجے اور آخر میں خاتم النبین حضرت محمدؐ کو مبعوث فرمایا اور آپؐ پر اپنا آخری اور مکمل کتاب نازل فرما کر دینِ اسلام کو مکمل، تا قیامت مکمل اور قابلِ عمل قرار دیا۔
٭ بین الاقوامی عہد:۔ یہ معاہدہ اقوام کے درمیان ہوتا ہے۔ آنحضرتؐ نے پہلا معاہدہ مدینہ منورہ میں قومِ یہود کے ساتھ کیا تھا۔ اس میں چند شرایط تھیں…… لیکن بدبخت یہود نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اس کی انہیں سزا بھگتنا پڑی۔ اسلام میں دوسرا مشہور معاہدہ ’’صلحِ حدیبیہ‘‘ ہے جو مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ہوا۔ بہ ظاہر اس کی شرایط مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں، مگر بعد اس کا بہتر نتیجہ مسلمانوں کے حق میں آیا جسے قرآنِ کریم نے فتح مبین کے نام سے یاد کیا ہے۔
٭ فطری معاہدہ:۔ معاشرے کا ہر فرد عاہد (وعدہ کرنے والا) اور متعہد (جسے وعدہ کیا جاتا ہے) ہے۔ لہٰذا ان بندھنوں میں رہتے ہوئے خصوصاً بحیثیتِ مسلمان ہمیں اپنے وعدوں کی پاس داری کرنی چاہیے۔
ضمیمہ:۔ ہمارے ہاں سب سے زیادہ وعدہ خلاف عموماً سیاسی لیڈر اور حکمران ہیں جو قبل از حکمرانی اور پھر حکمران بن کر بھی عوام سے وعدے کرتے رہے ہیں۔ حکمران خواہ عوامی ہوں یا آمر…… ان لوگوں نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام حکمرانوں سے کبھی خوش اور مطمئن نہیں رہے۔
ستا پہ وعدہ مے اعتبار نیشتہ
زکہ ھیس خوند د انتظار نیشتہ
…………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔