32 total views, 1 views today

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مَیں نے حضورِ اکرمؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی امت کے تین آدمی سفر کر رہے تھے۔ رات گزارنے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منھ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالا کی بارگاہ میں دعا کرو۔ چناں چہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے۔ مَیں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا۔ جب شام کو واپس لوٹا، تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ مَیں نے ان کے لیے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ مَیں نے ان کو سویا ہوا پایا۔ مَیں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ مَیں پیالا ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوعِ فجر تک ٹھہرا رہا۔ حالاں کہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی۔ وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضا مندی کی خاطر کیا، تو تُو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما۔ چناں چہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی۔ مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔
دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی۔ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ مَیں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا، مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی۔ مَیں نے اس کو 120 دینار اس شرط پر دیے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قابو دے گی۔ اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب مَیں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے کہا: تو اللہ سے ڈر! اور اس مہر کو ناحق و ناجائز طور پر مت توڑ۔ چناں چہ میں اس فعل سے باز آگیا۔ حالاں کہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی۔ اور مَیں نے وہ 120 دینار اس کو ہبہ کردیے۔ یا اللہ! اگر مَیں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا، تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما، جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چناں چہ چٹان کچھ اور سرک گئی…… مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔
تیسرے نے کہا: یا اللہ! مَیں نے کچھ مزدور اجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی…… مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ مَیں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی۔ یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے بندے میری مزدوری مجھے عنایت کردو۔ مَیں نے کہا، تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائیں، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا، اے اللہ کے بندے! میرا مذاق مت اُڑا۔ مَیں نے کہا، مَیں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چناں چہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرّہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ! اگر مَیں نے یہ تیری رضامندی کے لیے کیا، تو تُو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں…… ہمیں نجات عطا فرما! پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔ (مسلم )
٭ وسیلہ:۔ مذکورہ حدیث میں نیک اعمال کے وسیلہ سے دعامانگی گئی۔ وسیلہ کا مطلب ہے کہ کسی مقبول عمل یا مقرب بندے مثلاً حضورِ اکرمؐ کا واسطہ پیش کرکے اللہ تعالا سے دعا مانگنا…… یعنی اس بات کا پورا یقین اور ایمان کہ دینے والی، بخشنے والی صرف اور صرف اللہ تعالا ہی کی ذات ہے اور کوئی نیک بندہ حتی کی نبی یا رسول بھی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتا…… لیکن اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالا کی حمد و ثنا اور نبی اکرمؐ پر درود بھیجنے کے بعد اپنے کسی مقبول عمل یا حضورِ اکرمؐ کا واسطہ پیش کرکے اللہ تعالا سے کوئی دعا کرنا وسیلہ کہلاتا ہے۔
٭ وسیلہ کی تین قسمیں ہیں:
پہلی، اللہ تعالا کے نام اور صفات کے ذریعہ اللہ تعالا سے اپنی ضرورت مانگنا، جیساکہ فرمانِ الٰہی ہے: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْ بِہَا (سورۃ الاعراف، 180)اور اسماء الحسنیٰ (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ ان ناموں کے ذریعہ (اللہ کی تسبیح وتحمید وتکبیر یعنی ذکرِ الٰہی کے ذریعہ) اس سے دعائیں مانگو۔
دوسری، اپنے کسی مقبول عمل مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ذکر اور تلاوتِ قرآن کو وسیلہ بناکر اللہ تعالا سے دعا مانگنا، جیسا کہ بخاری ومسلم میں مذکور موضوعِ بحث حدیث میں تفصیل سے ذکر کیا گیا۔
تیسری قسم، کسی مقرب بندے مثلاً قیامت تک آنے والے انس و جن کے نبی و رسولؐ کے وسیلہ سے اللہ سے دعائیں مانگنا۔
پہلی دو شکلوں کے جواز پر پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے، لیکن تیسری شکل کے متعلق علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ علما کی ایک جماعت نے اس کو شرک قرار دے کر اس کے عدم جواز کا فتوا جاری کیا، جب کہ علما کی دوسری جماعت نے مسئلہِ مذکورہ کو قرآن وحدیث سے مدلل کرکے اس کے جواز کا فتوا دیا ہے۔ تحقیقی بات یہی ہے کہ توسل بالنبیؐ کو شرک قرار دینا صحیح نہیں۔ کیوں کہ نبی اکرمؐ کے وسیلہ کے ذریعہ دعا مانگنے میں اللہ تعالا ہی سے دعا مانگی جاتی ہے۔ حضورِ اکرمؐ کے وسیلہ سے دعا مانگنے والا صرف یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ اُس کی دعا کا بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ہاں، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالا کی بارگاہ میں دعاؤں کی قبولیت کے لیے وسیلہ شرط نہیں، مگر مفید اور کارگر ضرور ہے۔
علمائے کرام کی دوسری جماعت نے نبی کے وسیلہ سے دعا کرنے کے جواز کے لیے قرآن وحدیث کے متعدد دلائل پیش کیے ہیں، جن میں دو احادیث پیش خدمت ہیں:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب کبھی قحط پڑتا، تو حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کے وسیلہ سے دعائے استغفار کرتے۔ آپ (حضرت عمرؓ) فرماتے کہ اے اللہ! ہم اپنے نبی کو وسیلہ بناتے تھے اور (حضورِ اکرمؐ کی برکت سے) آپ (اللہ تعالا) بارش برساتے تھے۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں۔ آپ بارش برسائیے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ خوب بارش برستی۔ (صحیح بخاری )
اسی طرح صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد ہے کہ حضورِ اکرمؐ کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ حضورِ اکرمؐ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک اعرابی نے کہا، یا رسولؐ اللہ! مال تباہ ہوگیا اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے۔ آپؐ ہمارے لیے اللہ تعالا سے دعا فرمائیں۔ آپؐ نے ہاتھ اٹھائے۔ اس وقت بادل کا ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آرہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، ابھی آپ نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا اُمڈ آئی اور ابھی آپؐ منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ مَیں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپؐ کی داڑھی مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن، اس کے بعد اور پھر متواتر آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ کو یہی اعرابی پھر کھڑا ہوااور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! عمارتیں منہدم ہوگئیں اور مال واسباب ڈوب گئے۔ آپ ہمارے لیے دعا کیجیے۔ آپؐ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسائیے اور ہم سے روک دیجیے۔ آپؐ ہاتھ سے بادل کے جس طرف بھی اشارہ کرتے ادھر مطلع صاف ہوجاتا ۔ (صحیح بخاری )
سو معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام مصیبت کے وقت حضورِ اکرمؐ کا وسیلہ اختیار کرتے تھے۔
علما کی پہلی جماعت نے ان دونوں احادیث کا یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ اس میں زندہ شخص کے ذریعہ وسیلہ کا ذکر ہے۔ اس پر دوسری جماعت نے جواب دیا کہ قرآن و حدیث میں کسی بھی جگہ یہ مذکور نہیں کہ زندوں کے وسیلہ سے دعا مانگی جاسکتی ہے، مردوں کے وسیلہ کے ذریعہ نہیں۔ اور اس نوعیت کی تخصیص و تعین کے لیے قرآن وحدیث کی دلیل مطلوب ہے اور وہ موجود نہیں۔ غرض یہ کہ حضورِ اکرمؐ کے وسیلہ کے ذریعہ دعا مانگنے کے جواز اور عدم جواز کے متعلق علما کی آرا مختلف ہیں۔ اس اختلاف کو جھگڑا نہ بنایا جائے۔ جواز کے قائلین حضورِ اکرمؐ کے وسیلہ سے دعامانگتے رہیں اور عدم جواز کے قائلین آپؐ کے وسیلہ سے دعا نہ مانگیں۔ اسی طرح امتِ مسلمہ میں اتفاق واتحاد ہوسکتا ہے، جس کی اس زمانہ میں سخت ضرورت ہے۔
موضوعِ بحث حدیث میں تین نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا مانگی گئی: والدین کی خدمت، اللہ کے خوف کی وجہ سے زنا سے بچنا اور حقوق العباد کی کما حقہ ادائی اور معاملات میں صفائی۔
٭ والدین کی خدمت:۔ قرآن و حدیث میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالا نے متعدد مقامات پر اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ احادیث میں بھی والدین کی فرماں برداری کی خاص اہمیت و تاکید اور اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالا ہم سب کو والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا بنائے۔ ان کی فرماں برداری کرنے والا بنائے۔ ان کے حقوق کی ادائی کما حقہ ادا کرنے والا بنائے۔
٭ شرمگاہ کی حفاظت:۔ اللہ تعالا نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک جائز طریقہ یعنی نکاح مشروع کیا ہے۔ سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں انسان کی کامیابی کے لیے اللہ تعالا نے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ ہم جائز طریقہ کے علاوہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ ان آیات کے اختتام پر اللہ تعالا نے ارشاد فرمایا: میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شہوتِ نفس کو تسکین دینا قابلِ ملامت نہیں…… بلکہ انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن جائز طریقہ کے علاوہ کوئی بھی صورت شہوت پوری کرنے کی جائز نہیں۔ جیساکہ اللہ تعالا نے ارشاد فرمایا: جائز طریقہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں، تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالا نے زنا کے قریب بھی جانے کو منع فرمایا ہے۔ (سورۃ الاسراء،32)
نبی اکرمؐ نے فرمایا: آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا نظر ہے۔
آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد وعورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، ٹی وی اور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے لوازمات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں۔ کیوں کہ اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ زنا کے وقوع ہونے کے بعد اس پر ہنگامہ، جلسہ و جلوس اور مظاہروں کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حتی الامکان غیر محرم مردوعورت کے اختلاط سے ہی بچا جائے۔
٭ حقوق العباد کی ادائی اور معاملات میں صفائی:۔ ہمیں حقوق العباد کی ادائی میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔نبی اکرمؐنے ارشاد فرمایاہے: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی پیسا اور دنیا کا سامان نہ ہو۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے، جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا…… مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا، تو اس کی نیکیوں میں سے، ایک حق والے کو (اس کے حق کے بہ قدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بہ قدر) نیکیاں دی جائیں گی۔ پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی، تو (ان حقوق کے بہ قدر) حقداروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم)
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے