41 total views, 1 views today

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی تمدنی زندگی میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ کیوں کہ یہ قانونِ فطرت ہے جب کہ انسان اپنی سہولت اور آرام کے لیے ایجادات بھی کرتا رہتا ہے اور یہ مختلف ایجادات انسان کی اقدار، روایات اور ثقافت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
موجودہ دور کی ایجادات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اس سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ اس کی زندہ مثالیں انٹرنیٹ اور جدید ساخت کے موبائل فون ہیں جن کی بدولت ہماری اقدار، روایات اور ثقافت، شدید تبدیلی کی زد میں ہیں۔
ہم جس تہذیب و ثقافت سے وابستہ ہیں، یہ 14 سو سال پہلے مکمل دین کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے…… لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ جس دین اور کلچر نے ہمیں منفرد مقام عطا کیا تھا، ہماری موجودہ نسل اس سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے…… بلکہ فی زمانہ تو ہماری نسلِ نو مکمل طور پر موبائل فون کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نسلِ نو چند جماعتیں پڑھ کر بزرگوں کو خبطی سمجھتی ہے اور روشن خیالی کی آڑ میں مغربی کلچر اپنانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی۔
روشن خیالی کے نعرے نے معاشرتی بگاڑ میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے جسے روکنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ ہر طرف بے شرمی اور بے حیائی کا ایک طرح سے طوفانِ بدتمیزی اُمڈ پڑا ہے۔
آپ ٹی وی یا موبائل اسکرین پر اگر روشن خیال خواتین کی محفلیں دیکھیں، تو حیران ہوجائیں گے۔ کیوں کہ مرد و زن کی مخلوط اور شرم و حیا سے خالی ان محافل نے مملکتِ خداداد کی مسلمان خواتین کو چراغِ خانہ کی بجائے شمعِ محفل بنا دیا ہے۔ بقولِ اکبر
حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب شمعِ انجمن ہے، پہلے چراغِ خانہ تھی
ایک طرف برابریِ مرد و زن کے نعرے کا یہ نتیجہ نکلا کہ مملکتِ خداداد کے نوجوانوں کی ہیئت فطری تماشا بن گئی اور اس کا جو حشر ہوا ہے، یہ ایک المیہ ہے۔ موبائل اسکرین پر یہ نوجوان ہونٹوں پہ لالی، کانوں میں بالی اور چال متوالی ’’ٹک ٹاک‘‘ کرتے نظر آتے ہیں اور بقولِ شاعر
وحشت میں ہر اک نقشہ اُلٹا نظر آتا ہے
مجنون نظر آتی ہے لیلہ نظر آتا ہے
یقین کریں کہ ’’یوٹیوب‘‘ اور ’’فیس بک‘‘ پر باقاعدہ ہم جنس پرستی کی مہمات چلائی جا رہی ہیں اور یہ قبیح فعل مغربی معاشرے کا خصوصی وصف ہے جب کہ دوسری طرف مغربی کلچر کی ماری اور دل دادہ خواتین کا نعرہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ ایک اسلامی اور مشرقی معاشرہ کے لیے زہرِ قاتل بن سکتا ہے۔ لہٰذا اس گندی سوچ سے اجتناب وقت کی ضرورت ہے۔ تبھی تو شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے دل سے اک ہوک سی اٹھی تھی کہ
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے