47 total views, 1 views today

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورۃ التوبہ کی آیت 24 میں ارشاد باری تعالا ہے: ’’ (اے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں اپنے باپ اور اپنے بیٹے اور اپنے بھائی اور اپنی بیویاں اور اپنے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بڑی محنت سے کمائے ہیں اور جمع کیے ہیں اور اپنے وہ کاروبار جو تم نے بڑی مشقت سے جمائے ہیں اور جس میں تمہیں کساد کا اور مندے کا خوف رہتا ہے اور اپنی وہ عمارتیں جو تم نے بڑے ارمانوں کے ساتھ تعمیر کی ہیں، جو تمہیں بڑی بھلی لگتی ہیں، اگر یہ سب چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں، اللہ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے، تو جاؤ انتظار کرو…… یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
اس آیتِ مبارکہ میں جن رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے انسان کو فطری لگاؤ ہوتا ہے۔ اس لیے انہی چیزوں سے مؤمنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالا واضح فرما رہے ہیں کہ جب اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ماں باپ اور دیگر عزیز و اقارب سے زیادہ ہو، تب ایمان کا دعوا صحیح ہوسکتا ہے۔
اگر یہ رشتہ دار اور کمائے ہوئے مال اور دنیا کی زمین وجائیداد اور تجارت اور پسندیدہ مکانات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب و مرغوب ہیں، تو اللہ کے عذاب کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
بلاشبہ محبت ایک پاکیزہ فطری جذبہ ہے، جو دل سے پھوٹتا ہے۔ محبت اگر قرابت داری کی بنیاد پر ہو، تو ’’طبعی محبت‘‘ کہلاتی ہے اور اگر کسی کے جمال وکمال یا احسان کی و جہ سے ہو، تو ’’عقلی محبت‘‘ کہلاتی ہے اور اگر محبت مذہب کے رشتے کی بنیاد پر ہو، تو ’’روحانی محبت‘‘ یا ’’ایمانی محبت‘‘ کہلاتی ہے۔
سچی محبت میں پائیداری، احترام اور اتباع لازم و ملزوم ہیں۔ اگر اتباع اور فرماں برداری نہ ہو، تو محبت کا دعوا بھی جھوٹ اور ڈھونگ کہلاتاہے۔
مثلاً ایک شخص اپنی ماں سے بے حد محبت کرتا ہے، مگر اپنی ماں کا نافرمان ہے، ماں کی خدمت نہیں کرتا، خرچہ نہیں دیتا، بیمار ہو تو تیمارداری نہیں کرتا، تو ایسے شخص کا ماں سے محبت کا دعوا تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ بغیر اطاعت کے محبت کا دعوا جھوٹا مانا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں آپ کو اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں، اس وقت تک آپ مومن نہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا پس واللہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اے عمر! اب تم مومن ہو!‘‘(بخاری و مسلم)
اللہ تبارک و تعالا نے آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے انسانوں کے لیے رحمت اللعالمین بناکر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ہم دنیا میں اپنی زندگی بسر کریں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اللہ تعالا کا پسندیدہ ترین طریقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے رہنما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے کامیاب ترین انسان ہیں اور جو بھی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا چاہتا ہے، تو اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور اتباع کیے بغیر کامیابی کا کوئی راستہ نہیں۔
اللہ تعالا نے انسان کی ہدایت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر آکر مکمل ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالا نے خاتم النبین بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی، کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں محبت کا معیار بتا دیا کہ حبِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اپنی جان و مال، اولاد، والدین، عزیز و اقارب حتیٰ کہ ہر عزیز چیز سے زیادہ ہونی چاہیے اور یہی دین و ایمان کی اساس اور بنیاد ہے۔ اگر اس میں کمی ہوگی، تو دین و ایمان میں کمی اور خامی باقی رہ جائے گی۔
قارئین، آج مسلم امہ کی اکثریت کا ہر عمل اغراض و مفادات کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔ ہماری عبادات، معاملات، معیشت و تجارت، لین دین کے پیمانوں میں مکاری، دو رُخی اور جھوٹ شامل ہو گیا ہے، اور ہم نے محض بدعات و رسومات کو ہی حبِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معیار سمجھ لیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالا کی اطاعت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی، اللہ تعالا کی نافرمانی ہے۔ گویا اگر کوئی شخص اللہ تعالا سے محبت کا دعوا کرتا ہے، تو وہ محبت اس وقت تک سچی قرار نہیں پاتی…… جب تک وہ اللہ تعالا کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہر معاملے میں نہ کرے اور اپنی تمام زندگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے سانچے میں ڈھال نہ لے۔
قارئین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی اہلِ ایمان کو اجازت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں جنت ہے۔ اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے: ’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرتے ہو، تو میری اطاعت کرو، اللہ تمہیں محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘ (آل عمران31)
اصل محبت تو یہی ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے، اس کی اطاعت کرتا ہے۔ اس کی فرماں برداری کرتا ہے۔ اس کی پسندو ناپسند کو اپنی پسند و ناپسند بنا لیتا ہے۔ اپنے محبوب کو جیسا کرتے پاتا ہے، خاموشی سے ویسا ہی کرتے چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کی ناراضی سے بچتا ہے اور ہر وقت ہر محفل میں اسے اپنے محبوب کے ذکر میں راحت محسوس کرتا ہے۔ اسے اپنے محبوب کی ہر ادا سے محبت ہوتی ہے اور یہی تمام چیزیں ہمیں صحابہ کرام ؓکی زندگیوں سے ملتی ہیں۔
صحابہ کرامؓ کی محبت کا تو یہ عالم تھا کہ جب انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند اور ناپسند کا پتا چلتا، تو اس پر بغیر کسی حیل و حجت کے عمل فرماتے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہننے، اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، چلنے پھرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر ادا کو اپنا لیا تھا اور اپنی زندگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سانچے میں ڈھال لیا تھا ۔
آج ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کے دعویدار تو ہیں مگر ہم نے اپنی زندگی کوحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سنتوں کے مطابق نہیں ڈھالا۔
آج ہمیں اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ کیا ہمارا طرزِ زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے عین مطابق ہے؟
کیا ہمارے عشق کی گواہی ہمارا عمل فراہم کر رہاہے؟
بلاشبہ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لیے ایمان و یقین کا سرچشمہ اور آخرت کے لیے بہترین ذخیرہ اور ایمان کامل کا جوہر ہے۔
قارئین، میری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالا ہمیں سب رشتوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت، کامل اطاعت اور پیروی کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے