68 total views, 2 views today

12 ربیع الاول کا دن عید میلاد النبیؐ ہے، جسے سارے عالمِ اسلام میں عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ اس روز انسان کی قسمت جاگ اُٹھی اور روئے زمین ایسا صالح اور مکمل انقلاب آنے کی توقع پیدا ہوئی کہ جو آپؐ نے اپنی زندگی میں برپا کردیا اور انسان کو جینے کی لذت سے آشنا کیا۔ اگر اس دن کے حوالے سے رسولِ رحمتؐ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے، تو آپؐ کی زندگی تمام انسانیت خصوصاً مسلم اُمہ کے لیے نمونہ ہے۔ اس بارے قرآنِ کریم میں اللہ تعالا کا ارشاد ہے: ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ یعنی تمہارے لیے رسولؐ اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
بحیثیتِ سربراہِ خاندان، مبلغ، معلم، جرنیل، دوست، شہری، پڑوسی اور تاجر وغیرہ ان تمام ذمہ داریوں کو آپؐ نے نہایت ایمان داری، ذمہ داری اور اطمینان بخش طریقے سے سرانجام دیا۔ ہر انسان معاش اور روزی روٹی کمانے کے لیے کوئی نہ کوئی پیشہ اور روزگار اختیار کرلیتا ہے۔ رسولِ رحمتؐ نے اپنی معاش کے لیے تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ اس پیشے میں آپؐ کی ایمان داری، دیانت داری اور ضرب المثل رہی۔ ذیل میں ایک واقعہ نذرِ قارئین ہے۔
’’قافلہ ابھی شہر سے تھوڑے فاصلے پر تھا کہ موسلادار بارش شروع ہوئی۔ اونٹوں پر لدا ہوا سامان جو کھجوروں اور اناج پر مشتمل تھا، بھیگنے لگا۔ بارش سے محفوظ جگہ پہنچتے پہنچتے آدھا مال بھیگ چکا تھا۔ منڈی پہنچ کر تاجروں نے مال اُتارنا شروع کیا۔ ان تاجروں میں ایک بہت معصوم چہرے والا ایک وجیہ نوجوان تاجر بھی موجود تھا۔ اس نوجوان تاجر نے جب اپنا مال اُتارا، تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ خشک کھجوریں اور خشک اناج ایک طرف رکھ دیا اور بھیگی کھجوریں اور اناج علاحدہ کرکے رکھ دیا۔ جب خرید و فروخت شروع ہوئی، تو نوجوان تاجر کے پاس جو خریدار آتا، تو وہ بھیگے مال کا نرخ کم بتاتا جب کہ خشک مال کا پورا۔ گاہک پوچھتا کہ ایک ہی مال کا الگ الگ نرخ کیوں ہے؟ نوجوان تاجر کہتا کہ بھیگنے کی وجہ سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے۔ خشک ہونے کی وجہ سے اس کا وزن کم ہوگا، تو بد دیانتی ہوگی۔‘‘
لوگوں کے لیے یہ بات نئی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں منڈی میں اس نوجوان کی دیانت داری کا چرچا ہوگیا۔ لوگ جوق درجوق اس معصوم صورت والے نوجوان کے گرد جمع ہوگئے اور یوں ان کے اخلاق کے گرویدہ ہوگئے۔
یہ معصوم چہرے والا خوب صورت نوجوان کوئی اور نہیں ہمارے پیارے نبیؐ تھے۔
اگر ہم اپنے حالاتِ کاروبار کا موازنہ سرورِ کائنات خاتم النبینؐ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے کریں، تو یقینا ہماری بددیانتی کا کانٹا 90 ڈگری پر آکر رُکے گا۔ آج ہمارے مسلمان کاروباری حضرات سے کسٹمر بہت کم مطمئن ہوکر لوٹتا ہے۔ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ ہماری مارکیٹوں میں بیشتر اشیا دو سے چار نمبر تک ملتی ہیں۔ ان میں زیادہ خوراکی اشیا اور ادویہ شامل ہیں۔ ہم ہر سال جولائی اور اگست کے مہینوں میں ایک کیبن والے سے کٹمل کش گولیاں خریدتے رہے ہیں، جو کافی مؤثر ہوتی ہیں۔ امسال یہ گولیاں ہم نے کیبن کی بجائے ایک بڑے سٹور سے خریدیں، جو بے اثر رہیں۔ کیوں کہ یہ غیر معیاری تھیں۔ خدا جانے کتنے اور کون سے نمبر کی تھیں؟
ہم بفضلِ خدا مسلمان ہیں اور رسولِ امینؐ کے اُمتی ہونے کا دعوا بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی غیر معیاری اشیا بیچ کر گاہک کو دھوکا دیتے ہیں۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ پیسے کی لالچ میں ہمارے معاشرے سے حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ آئے دن قدرتی آفات اور مسائل میں پھنستے رہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ تمام مصائب ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں لیکن دنیاوی فائدے کی خاطر ہمیں یہ احساس نہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالا فرماتا ہے: ’’خشکی اور تری میں مشکلات انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں کے پیدا کردہ ہیں۔‘‘
غیر معیاری اور ملاوٹی اشیا کے بارے میں آں حضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے: ’’من غش فلیس منا‘‘ یعنی جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ چینی صنعت کاروں کی شراکت سے وہاں کارخانوں میں دو سے چار نمبر تک کی مال تیار کرواتے ہیں اور ہمارے اپنے یہاں لاکر اپنے ہی ہم وطنوں پر معیار کے نام پر بیچتے ہیں۔ غور کا مقام ہے کہ چائینہ والے ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے۔
…………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے