32 total views, 2 views today

قمری تقویم کے تیسرے مہینے ربیع الاوّل کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس میں محسنِ انسانیت، محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ، خاتم المرسلین محمدؐ دنیا میں تشریف لائے۔ جن کی ذات اعلا صفات کی حامل اور باعثِ برکات ہے۔ آپؐ امن و عافیت، شفقت و محبت کا مجمع، خلوص و الفت اور حلم و سکنیت کا مرقع ہیں۔ آپؐ کے بہترین گفتار، اعلا کردار، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو، ہر دم در گزری اور معافی کا اعلا معیار ہے۔ آپ صلیؐ کی شریعت و طریقت محض صلاح و فلاح اور عظمت و اشرفیت آدم کی بقا ہے۔ آپؐ فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور امن و سلامتی کی ترقی کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپؐ کی رسالت مکارمِ اخلاق اور رحمان و رحیم پرورد گار کی نعمتِ عظمیٰ کے اتمام کے لیے ہے۔
جب آپؐ کی تشریف آوری ہوئی، یہ دنیا جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی۔ ایک طرف کفر و جہالت کا دور دورہ تھا، تو دوسری جانب کون سی معاشرتی، سماجی اور اخلاقی برائی تھی جس میں یہ دنیا مبتلا نہیں تھی۔ عورت کو بطورِ انسان قبول کرنے سے انکار کیا جارہا تھا اور اسے اس قدر باعثِ ننگ و عار بنادیا گیا تھا کہ بچیوں کو زندہ درگور کرنا عام معاشرتی چلن ہوگیا تھا۔ شرک اور بت پرستی کے عادی اس معاشرے میں، قبائلی عصبیت، ضد اور انا پرستی کا عالم یہ تھا کہ کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا، کہیں پانی پینے پلانے پر جھگڑا، سود، بددیانتی، بدکاری، بدمعاشی، جوا، جھوٹ، فریب اور شراب نوشی وغیرہ کو برا نہ جاناجاتا تھا۔ اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنا کر ان پر ظلم اور جبر روا رکھنا باعثِ فخر سمجھا جاتا تھا۔ ایسے حد سے گزرے ماحول میں آپؐ انسانیت کے نجات دہندہ بن کر مبعوث ہوئے۔ حضور اکرمؐ کو اللہ تعالا کی پوری مخلوق سے، حتیٰ کہ حیوانوں، پرندوں اور نباتاتی حیات سے بھی محبت تھی۔ آپؐ کو خالقِ کائنات نے دل ہی ایسا دیا تھا کہ جس میں محبت کے زمزمے رواں دواں رہتے۔ اپنے اہل و عیال سے محبت اور حسنِ سلوک کو آپؐ نے اہلِ ایمان کی اعلا ترین اخلاقی خوبی قرار دیا۔
آپؐ نے نہایت مختصر مدت میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ تاریخِ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ رسولِ رحمتؐ کا پیش کردہ کلمۂ حق جس دل میں اترا، اس کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرح کی معاشرتی آلودگیوں میں لتھڑا ماحول ایسے پاکیزہ معاشرے میں تبدیل ہوگیا اور عرب کے بدو ایسے تہذیب آشنا ہوئے کہ آج کی مہذب ہونے کی دعوے دار دنیا ان کے قدموں کی خاک کو چھونے سے بھی قاصر ہے۔ آپؐ نے ہر طرح کی خرافات اور مسائل و آلام میں الجھی ہوئی دنیا کی گتھیوں کو کچھ اس انداز میں سلجھایا کہ دنیا آج بھی انگشتِ بدنداں ہے۔ رسول اکرمؐ نے امن و سلامتی کا جو راستہ دنیا کو دکھایا، امانت و دیانت کا جو سبق پڑھایا، اسراف و تبذیر سے بچاکر اعتدال و میانہ روی سے روشناس کرایا، فحاشی و بے حیائی سے ہٹا کر وقار، متانت اور حیا کی راہ پر لگایا، بدلے اور انتقام کے بجائے عفو و درگزر پر عمل کرکے دکھایا، عبادت ہی نہیں سیاست اور تجارت میں بھی رہنمائی کی، حرام اور حلال میں تمیز کرنا سکھایا، علم و عمل، آسائش دنیا اور جہاد کو مومن کی متاع قرار دے کر جہالت اور رہبانیت کی جڑ پر تیشہ چلایا۔ آپؐ نے کم زور افراد اور طبقات عورتوں، بچوں، مسکینوں، یتیموں اور محکوموں سے بہتر سلوک کی ترغیب دی اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا اور اس بارے میں اللہ تعالا کی وعید سنائی۔ غرض یہ کہ ایک فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر قومی اور بین الاقوامی معاملات تک، ہر ہر شعبے میں رسولؐ اللہ نے بہترین رہنمائی اور اسوۂ کامل عطا فرمایا۔
آج دنیا کم زوروں اور مظلوموں کے حقوق کا اظہار اور اعلان کرتی ہے اور اس کے لیے قوانین بھی وضع کیے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کا سہرا دورِ حاضر کے سر باندھتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے کم زور اور بے بس انسانوں کے حق میں سب سے پہلے آواز اٹھانے اور ان کے حقوق کی حفاظت و صیانت کے لیے اقدامات کرنے کا اعزاز اللہ کے رسول محمدؐ ہی کو حاصل ہے۔
آج بھی انسانیت خصوصاً امتِ مسلمہ کے لیے ذلت و خواری، غربت و افلاس، بے وقاری اور زوال و ادبار سے نجات کی واحد صورت اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے ۔
اللہ تعالا نے رسولِ کریمؐ کو محض محدود مدت اور مخصوص زمانے کے لیے رہبر و رہنما بنا کر نہیں بھیجا بلکہ ان کی ذاتِ اقدس رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے بہترین نمونہ اور کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالا سے تعلق اور محبت کے لیے آپؐ کی اتباع کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اللہ غفور و رحیم ہے ۔ ( سورۃآل عمران )‘‘
آئیے! جشن عید میلادالبنیؐ مناتے ہوئے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو آپؐ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق چلانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اپنی زندگی، اپنے ماحول اور اپنے معاملات کو آپؐ کی زندگی کے مطابق ڈھالیں گے۔ آپ ؐ کی زندگی کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے اپنے معاشرے میں اخوت کے وہی پھول کھلائیں گے جو آپ ؐکی زندگی کا خاصا ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے