559 total views, 1 views today

1970ء میں مولانا مفتی محمود نے عام انتخابات میں ذوالفقارعلی بھٹو کو قومی نشست پر شکست دے کر سیٹ جیت لی۔ ملک کو اس وقت آئین سازی کی ضرورت تھی۔ مولانا مفتی محمود کو آئین ساز کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔1973ء کے آئین میں جتنی اسلامی شقیں موجود ہیں، ان کو آئین کا حصہ بنانے میں آپ کا کلیدی کردار رہا ہے۔ قادیانیوں اور مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے 1974ء میں ملک گیر تحریک ’’ختم نبوت‘‘ چلی۔ پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے سربراہ پر جرح اورامت مسلمہ کا موقف پیش کرنا آپ کی ذمہ داری تھی۔ قومی اسمبلی میں مسلسل تیرہ دن مناظرے کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ کی دن رات کی انتھک محنت اور کاوش ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے احمدی اور لاہوری گروپ دونوں کو شکست وریخت سے دوچار کیا جس کے نتیجہ میں آئین پاکستان کی رو سے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ آغاشورش کاشمیری نے بھٹو کے پاؤں پکڑ کر اس بل پر دستخط کروائے۔




مولانا مفتی محمود اور بھٹو کی ایک یادگار تصویر

قرآنِ کریم کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریمؐ کی دو سو سے زائد احادیث مبارکہ ختم نبوت پر تصدیق کی مہر ثبت کرچکی ہیں، مگر مرزا قادیانی نے جب عیسائیوں اور آریوں سے مناظرے کرکے غیر معمولی شہرت حاصل کرلی، تو اس نے ملک کے مشہور علما و مشائخ کو دعوت نامے ارسال کئے کہ ’’میں مسیح موعود ہوں اور اللہ کی طرف سے احیائے دین اور عروج اسلام کیلئے چنا گیا ہوں۔‘‘ اور یہ کہ اس ’’مشن‘‘ میں ان کی اعانت کی جائے۔ فتنوں کے اس دور میں فتنۂ قادیانیت بھی دجال کے اہم ترین فتنوں میں سے ایک ہے اور عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے، جس میں معمولی شبہ بھی قابل برداشت نہیں۔
حضورؐ آخری نبی اور اللہ کے رسول ہیں۔ اس بات پر پختہ ایمان رکھنا ہی عقیدۂ ختم نبوت کہلاتا ہے۔ اس وجہ سے آئینِ پاکستان میں اس شق کا اضافہ کردیا گیا تھا کہ کوئی قادیانی ظاہری اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملک کے اعلیٰ منصب پر فائز نہ ہونے پائے۔ اس لئے عقیدۂ ختمِ نبوت پر کسی کے ایمان کو پرکھنے کیلئے انتخابی فارم میں مسلم امیدواروں سے: “l Solemnly swear” کے ساتھ حلف لیا جاتا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے نوازشریف کی نااہلی کے بعد ان کو پارٹی صدارت واپس دلانے کیلئے کچھ تبدیلیاں کی گئیں جس کے ساتھ ہی انتخابی اصلاحات2017ء کے نام پر آئین کے اس شق کو بھی چھیڑا گیا اور ’’حلف‘‘ کے الفاظ کو حذف کرکے اقرار یعنی:”I Solemnly Affirm” اور ڈیکلریشن سے تبدیل کیا گیا۔ بظاہر تو یہ معمولی الفاظ کا ہیرپھیر ہے، لیکن حقیقت میں حکومت اور حکومتی حلیف جماعتوں نے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ الفاظ کی یہ ہیر پھیر قانونی طور پر بڑی اہمیت رکھتی ہے اور وہ اس طرح کہ پہلے پیراگراف میں تو وہ حلف لے کر کہتا ہے کہ میں حضرت محمدؐ کو اللہ کا آخری نبی مانتا ہوں اور ان پر مکمل ایمان رکھتا ہوں جبکہ دوسرے پیرا میں اس کا مطلب کچھ یوں بنتا ہے کہ میں محمدؐ کو اللہ کا نبی مانتا ہوں اور نبی آخر الزمان پر مکمل ایمان رکھتا ہوں؛ اس دوسرے پیرا میں قادیانیوں کیلئے بڑا ریلیف ہے کہ وہ محمدؐ کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آخری نبی وہ غلام احمد قادیانی کو ہی مانتے ہیں اور اس طرح اس ڈکلیریشن اور افرمیشن کا اقرار کرنے والوں پر آئین کی شق 62 اور 63 کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ الفاظ میں ردوبدل کرکے درحقیقت ن لیگ اور ن لیگ کے ساتھ حکومت میں شامل دیگر حلیف جماعتوں نے قادیانیوں کو مین سٹریم سیاست میں لانے، مغربی آقاؤں کو خوش کرنے اور ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے، خود پر لیبرل کا ٹھپہ لگانے، مغرب کو اپنا ’’سافٹ امیج‘‘ پیش کرنے کا ایک گھناؤنا جرم کیا ہے۔ کیونکہ الفاظ اپنی معنویت رکھتے ہیں اور برٹش سے بہتر کون جان سکتا ہے جب برطانوی پارلیمنٹ کے سیکولر اور لا دین اراکین نے 1880ء میں ’’حلف‘‘ لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا تھا کہ وہ مذہب عیسایت اور اللہ پر جب یقین ہی نہیں رکھتے، تو حلف کیوں اٹھائیں؟ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ صرف لفظ ’’افرمشن‘‘ یا اقرار سے ہی سے اپنی وفاداری کا اظہار کریں گے۔اچھی خاصی بحث کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے ان لادین سیکولر اراکین کو 1888ء میں’’حلف‘‘ کے بجائے لفظ ’’افرمشن‘‘ کی اجازت دے کر پارلیمنٹ میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔

حضورؐ آخری نبی اور اللہ کے رسول ہیں۔ اس بات پر پختہ ایمان رکھنا ہی عقیدۂ ختم نبوت کہلاتا ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ انتخابی اصلاحات بل کو آسان بنانے کیلئے یہ اقدام کیا گیا تھا جبکہ بعد میں عوامی دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے اسے کلیریکل اور ٹیکنیکل غلطی کہا گیا۔ یہ کوئی کاتبی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ ایک بہت گہری سازش تھی جس کی بروقت نشان دہی کی گئی اور اسے ایسے وقت میں پکڑا گیا جب حکومتی حلیف دینی جماعتوں کے قائدین نے جان بوجھ کر اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ بائیس ستمبر کو ان سب نے سینٹ سے یہ بل پاس کرنے کیلئے ووٹ دیا تھا جس دن مولانا عبدالغفور حیدری سینٹ میں چیئرمین کے کرسی پر براجمان تھے۔ محترم ساجد میر صاحب نے علما پر انگلش سے ناواقفیت کا طعنہ دے مارا، تو محترم فضل الرحمن صاحب نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے میں ہی عافیت جانی۔
میں ان دونوں حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ حرم تشریف لائیں اور کعبہ کے دروازہ کو پکڑ کر حلفیہ اقرار کریں کہ یہ دونوں اس شق کے ختم ہونے سے لاعلم تھے اور کیا حکومت نے ان کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی؟جب علما خاموش ہوں، تو اللہ تعالیٰ عام لوگوں سے بھی دین کی خدمت لے لیتا ہے اور بیشک یہ کریڈیٹ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے رکن کو ہی جاتا ہے، جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی جبکہ شیخ رشید اسمبلی کے فلور پر مولانا فضل الرحمن کو چیخ چیخ کر یاد دلاتے رہے کہ کہاں ہے وہ، جس کے والد محترم نے اتنی جانفشانی سے اس شق کو آئین کا حصہ بنایا تھا۔ آج اس کا جانشین اسی شق کو ختم کرنے پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کرچکا ہے؟ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بھی بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ اس بل کو حکومت اور حلیف جماعتوں نے مل کر پاس کیا تھا۔
آئین پاکستان کی اسلامی دفعات کے ساتھ چھیڑخانی کرنے والوں تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنا چاہیے، تاکہ آئندہ ان دفعات کو چھیڑنے کی کوئی جرأت نہ کرسکے جبکہ اس جرم میں شریک دوسری حلیف جماعتوں کے قائدین کا محاسبہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس جرم میں بلاشبہ وزارت قانون ملوث ہے، کیونکہ ایک خاتون وزیر نے تین غیر ملکی سفیروں کو بھی اس شق میں تبدیلی سے آگاہ کیا تھا۔ اس معاملہ میں جان بوجھ کر کمپرومائز نہ کرنے والوں کو لاتعلق رکھا گیا۔ ایک اطلاع کے مطابق دو معروف ترین غیر ملکی این جی اوز کو اس بل کا ترمیم شدہ مسودہ میڈیا اور اراکین اسمبلی سے پہلے پہنچ چکا تھا۔ کفریہ طاقتیں وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے پیمانۂ ایمان کو آزماتی رہتی ہیں۔ کبھی گستاخانہ خاکوں کی شکل میں تو کبھی ہمارے اپنے ہی مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں اسلامی دفعات چھیڑنے کی صورت میں۔ جس دن مسلمانوں نے جذبۂ ایمانی میں کمزوری دکھا کر حالات سے سمجھوتا کرلیا، وہ دن مسلمانوں کیلئے بدترین دن ثابت ہوگا۔ اگرچہ مسلمان اسلامی تعلیمات سے دور ہیں لیکن جہاں معاملہ آپؐ کی شان کا ہو، تو ایک پکا شرابی اور گنہگار امتی بھی اپنی جان نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ کیونکہ حُبّ رسولؐ جب تک دل میں نہ ہو، مسلمان پھر مسلمان کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہوسکتا۔
عوامی قوت نے حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور تو کیا، لیکن اب عوام کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے داغدار و بدبودار ماضی اور حال رکھنے والے سیاستدانوں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے یکسر رد کریں ۔




تبصرہ کیجئے