112 total views, 1 views today

حج کے ایام شروع ہوگئے ہیں۔ امسال (1442 ہجری) سعودی عرب میں مقیم مختلف ملکوں کے باشندے (تقریباً 60 ہزار) ہی حجاج کرام کی حفاظت اور سالمیت کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے حج بیت اللہ ادا کرسکیں گے۔ غرض یہ کہ گذشتہ سال کی طرح امسال بھی دنیا کے چپہ چپہ سے ضیوف الرحمان حج کی ادائیگی نہیں کرسکیں گے۔ حج دراصل نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی طرح اسلام کا ایک اہم بنیادی رکن ہے۔ تمام عمر میں ایک مرتبہ ہر اس شخص پر حج فرض ہے جس کو اللہ نے اتنا مال دیا ہو کہ اپنے گھر سے مکہ مکرمہ تک آنے جانے پر قادر ہو، اور اپنے اہل و عیال کے مصارف واپسی تک برداشت کرسکتا ہو۔ اس موقع پر امت مسلمہ کو اللہ تعالا سے معافی مانگنی چاہیے کہ مسلسل دوسرے سال دنیا کے کونے کونے سے عازمینِ حج، حج کی ادائیگی کے لیے سفر نہیں کرسکیں گے۔ اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائے، آمین!
ہزاروں عازمینِ حج، حج کا ترانہ یعنی ’’لبیک‘‘ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ حجاج کرام اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائیگی کے لیے دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑکر اللہ جل شانہ کے ساتھ والہانہ محبت میں پانچ یا چھے روز مشاعر مقدسہ (منی، عرفات اور مزدلفہ) میں رہیں گے اور وہاں حضورِ اکرمؐ کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑیں گے۔ حج کو اسی لیے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں، کیوں کہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔
اتوار (8 ذو الحجہ) کو عازمینِ حج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں منی میں رہ کر عبادت کریں گے۔ منی مکہ سے چار پانچ کلومیٹرکے فاصلہ پر دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑا میدان ہے۔ حجاج کرام 8 ذی الحجہ کو اور اسی طرح 11، 12اور 13 ذی الحجہ کومنی میں قیام فرماتے ہیں۔
منی میں ایک مسجد ہے جسے ’’مسجدِ خیف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی مسجد کے قریب جمرات ہیں جہاں حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ منی ہی میں قربان گاہ ہے، جہاں حجاج کرام کی قربانیاں کی جاتی ہیں۔
پیر (9 ذو الحجہ) کو عازمین حج منی سے عرفات کے لیے روانہ ہو جائیں گے، جہاں انہیں ظہر تک پہنچنا ہوتا ہے۔ عرفات، منی سے تقریباً 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ عرفات کے شروع میں مسجدِ نمرہ واقع ہے، جہاں ظہر کے وقت حج کا خطبہ پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ظہر وعصر کی نمازیں ظہر کے وقت میں ادا کی جاتی ہیں۔ اسی جگہ پر حضورِ اکرمؐ نے خطبہ دیا تھا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے معروف ہے۔ جس کے بعد حجاجِ کرام وقوفِ عرفہ کی ادائیگی میں غروبِ آفتاب تک دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں۔
عرفات کے میدان میں ایک پہاڑ ہے جسے جبلِ رحمت کہتے ہیں۔ اس کے قریب قبلہ رُخ کھڑے ہوکر حضورِ اکرمؐ نے وقوفِ عرفہ کیا تھا۔ پہاڑ پر چڑھنے کی کوئی فضیلت احادیث میں وارد نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کے نیچے یا عرفات کے میدان میں کسی بھی جگہ کھڑے ہوکر کعبہ کی طرف رُخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعائیں کرنی چاہئیں۔
وقوفِ عرفات حج کا سب سے اہم رکن ہے، جس کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’الحج عرفہ۔‘‘ یعنی وقوفِ عرفات ہی حج ہے۔ یہ چند گھنٹے حجاج کرام اور پوری امت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے بہت اہم ہیں۔ اس لیے حجاج کرام کو اس موقع پر اپنے لیے، اپنے گھر والوں اور پوری امت کے لیے خوب دعائیں کرنی چاہئیں۔ اس مبارک گھڑی کے لیے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فرمان پیش ہیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالا کـثرت سے بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، اس دن اللہ تعالا (اپنے بندوں کے) بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجـہ سے فخر کرتے ہیں اور فرشتوں سے پوچھتے ہیں (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ (مسلم)
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: غزوۂ بدر کا دن تو مستثنا ہے۔ اس کو چھوڑکر کوئی دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں جس میں شیطان بہت ذلیل ہورہا ہو، بہت راندہ پھر رہاہو، بہت حقیر ہورہا ہو، بہت زیادہ غصہ میں پھر رہا ہو، یہ سب کچھ اس وجـہ سے کہ وہ عرفہ کے دن اللہ تعالا کی رحمتوں کا کثرت سے نازل ہونا اور بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کا معاف ہونا دیکھتا ہے۔ (مشکوٰۃ)
٭ عرفہ کا روزہ:۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ تعالا سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ ( صحیح مسلم)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا ہمیں 9 ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہند و پاک کے لوگ اپنے علاقہ کے اعتبار سے ذو الحجہ کی نویں تاریخ کو روزہ رکھیں یا سعودی عرب کے مطابق جس دن حج ہوگا، اُس دن روزہ رکھیں؟
سعودی عرب اور ہندوپاک کی چاند کی تاریخ میں عموماً ایک دن کا فرق ہوتا ہے۔ پہلی بات تو عرض ہے کہ احادیث مبارکہ میں پہلی ذو الحجہ سے نویں ذوالحجہ تک روزے رکھنے کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اس لیے اگر دونوں دن روزہ رکھ لیا جائے، تو سب سے بہتر ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک ہی روزہ رکھنا چاہتا ہے، تو اس کے متعلق فقہا و علما کے درمیان اختلاف ہے کہ کون سے دن رکھا جائے؟ اختلاف ہونے کی وجہ سے دونوں اقوال میں سے کسی ایک قول کو اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ کیوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا فرض یا واجب نہیں، بلکہ مسنون ہے۔
ہمارے علما نے کہا ہے کہ ہندوپاک کے لوگ اپنے علاقہ کے اعتبار سے نویں تاریخ کو روزہ رکھیں۔ کیوں کہ یوم عید الفطر، یوم عیدالاضحی اور یوم عاشورہ کی عبادتوں کی طرح یوم عرفہ کاروزہ بھی اپنے علاقہ کی چاند کی نویں تاریخ کو رکھا جائے، لیکن اس مسئلہ میں جھگڑنے کے بجائے وسعت سے کام لیں اور اپنی رائے کو دوسرے پر تھوپنے کی کوشش نہ کریں۔ ہاں، ایک بات عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد سے مکہ مکرمہ پر کفارِ مکہ کا قبضہ ہونے کی وجہ سے مسلمان حج ادا ہی نہیں کرسکے تھے۔ نویں ہجری میں مسلمانوں نے پہلا حج کیا اور اُس کے اگلے سال یعنی دسویں ہجری کو حضورِ اکرمؐ نے حج کیا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے، جس کے صرف تین ماہ بعد آپؐ اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔ ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں کہ جس میں یہ وضاحت ہو کہ یومِ عرفہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت 9 ہجری یا اُس کے بعد آئی ہے۔ نیز یومِ عرفہ اور وقوفِ عرفہ دونوں الگ الگ ہیں۔ وقوفِ عرفہ کا مطلب احرام کی حالت میں عرفات کے میدان میں وقوف کرنا، یعنی وقوفِ عرفہ صرف حاجی کرسکتا ہے اور عرفات کے میدان میں ہی۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دونوں دن روزہ رکھیں اور اگر ایک ہی دن رکھنا چاہتے ہیں، تو جو آپ کے علما کہیں، اُس کے مطابق عمل کرلیں۔ امسال (1442ہجری) سعودی میں نویں ذی الحجہ پیر کو اور برصغیر میں منگل کو ہے۔ خلیجی ممالک کے لوگ اگر یوم عرفہ کا روزہ رکھنا چاہیں، تو امسال پیر (19 جولائی 2021ء) کو رکھیں۔ ہندوپاک کے لوگ اگر پیر اور منگل دونوں دن روزہ رکھ لیں، تو بہتر ہے، ورنہ منگل 20 جولائی کو روزہ رکھ لیں۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے