25 total views, 1 views today

اللہ تعالا نے انسان کو حواسِ خمسہ کی نعمت سے نوازا ہے۔عید الاضحی کا تہور اپنی ساری سعادتوں اور مذہبی فوائد کے ساتھ ساتھ اللہ تعالا کی طرف سے ہمیں اپنے حواسِ خمسہ کو، متحرک، طاقت ور اور تروتازہ کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ تحقیق یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ ہمارے حواسِ خمسہ معلومات جمع کرنے اور کسی صورتِ حال میں مکمل طور پر شامل ہونے کے لیے بہترین ذریعہ ہیں۔
عیدکے موقعہ پر تمام مسلمان دلی، دماغی، روحانی، بصری، سمعی، چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیتوں کو نہ صرف تروتازہ کر تے ہیں بلکہ ان سب کو پاک صاف رکھ کر اپنے حواسِ خمسہ کو جلا بخشتے ہیں۔ عید الاضحی ہماری سونگھنے کی صلاحیت کو دوبالا کر دیتی ہے۔ خوشبو اور عید الاضحی لازم و ملزوم ہیں۔ دینِ اسلام کے ہر حکم کے پیچھے ہماری بہتر ی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی سائنسی وجہ بھی ہوتی۔ خوشبو اور یادداشت کا گہرا تعلق ہے۔ کچھ سکولوں میں اساتذہ تعلم کو مؤثر بنانے کے لیے بھی خوشبو کا استعمال کر تے ہیں۔اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو مختلف مذاہب میں خوشبوکا استعمال ملتا ہے۔ یونانی چرچ میں حواسِ خمسہ کو جلا بخشنے کے لیے خوشبو کا استعما ل کیا جا تاتھا۔ سبت کے دن بھی خوشبو استعما ل کی جاتی تھی۔ خوشبو کے ذریعے ماضی کی یادداشتوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ ادوار کے بدلنے کے ساتھ ساتھ خوشبو کے ذرائع بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ 1920ء سے 1940ء کے عرصہ کے دوران میں پیدا ہونے والوں کو قدرتی خوشبو میسر رہی ہے جب کہ اس کے بعد کے عرصہ میں پیدا ہونے والوں نیم قدرتی یہ غیر قدرتی خوشبو سونگھنے کو ملی۔
عید کا تہورا ہماری سونگھنے کی حس کے لیے اللہ تعالا کا بیش بہا خزانہ ہے۔ قسم قسم کے پکوان، انواع و اقسام کی خوشبو، مختلف اقسام کی پرفیومز کے جھونکے، بھنے اور روسٹ کیے ہوئے گوشت کی خوشبو، روسٹ ہوتی کلیجی، مٹن، بیف، اونٹ کے گوشت کی کڑاہیوں کی بھوک لگانے والی خوشبو، چھتوں اور صحن میں بنائی جانے والے تکے، ملائی بوٹی، پھر دوسرے اور تیسرے دن گوشت پلاؤ، نہاری اور دیگر پکوان ہماری سونگھنے اور چکھنے کے حواس کو تروتازہ اور توانا بنا دیتے ہیں۔
ہم اپنی سونگھنے کی حس کی مدد سے بہت سے واقعات کو یاد رکھتے ہیں۔ سونگنے کی حس دیگر حسیات کی نسبت سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ سونگھنے سے پیغام یا اثر فوراً دماغ تک منتقل ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے ہوشی کے لیے سونگھائی جانے والی اشیا، بے ہوشی کے انجکشن سے زیادہ جلدی اثر کرتی ہیں۔
بصری پہلو، یعنی دیکھنے کی حس کا بھی عید الاضحی سے بہت گہر تعلق ہے۔ دیکھنے کی حس دوسری اہم حس ہے۔ انسان کے جسم کے اندر موجود تمام حواس کا 70 فی صد تعلق انسان کی بصری حس سے ہے۔ عید الاضحی کے موقعہ پر ہرکسی کو زرق برق لباس پہنے دیکھنا ہماری دیکھنے کی حس کے لیے انتہائی مفید ہے۔ نئے کپڑوں کی خریداری نہ صرف ہماری آنکھوں کی تر و تازگی کو دوبالا کر تی ہے بلکہ ہماری خریداری سے ملکی معیشت کو بھی استحکام ملتا ہے۔ عمومی طور پر والدین اپنے بچوں کے کپڑے بھی اپنے لباس سے ملتے جلتے یا یکساں رنگ کے بناتے ہیں۔ عید کے موقعہ پر مختلف رنگوں کی مختلف ٹولیاں ایک عجیب نظارہ پیش کر تی ہیں۔
سرمہ لگانا بھی عید کا ایک لازمی جز و سمجھا جا تا ہے۔ یہ آنکھوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ ہر طرف چمکتے چہرے اور نئے کپڑوں کا نظارہ ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی فراہم کر تا ہے جو ہماری دیکھنے کی حس کے لیے خوراک کی طرح ہے۔ معدے کی طرح باقی اجزا کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھوں کی خوراک صفائی، طہارت، تروتازگی اور خوبصورتی ہے۔ عیدالاضحی ہمیں یہ تمام لوزمات فراہم کر تی ہے۔ عید کا موقعہ ہمیں حسد ،جلن ، نفرت، حقارت، برتری، کم تری اور دیگر بری نظروں سے دیکھنے سے روکتا ہے۔ تمام مسلمان صرف محبت، پیار اور خلوص کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عید الاضحی بصری اور سونگھنے کی حسیات کے ساتھ ساتھ چھونے کی حس کے لیے بھی اللہ تعالا کی طرف سے تفویض کر دہ گراں قدرنعمت ہے۔
چھونے کی حس سونگھنے اور دیکھنے کی حس کے بعد تیسری اہم حس ہے۔ اگرچہ اس کا احاطہ کرنا قدرے مشکل ہے۔ کیوں کہ جلد دیگر حسیات کی نسبت زیادہ وسیع ہے۔ انسانی جسم کی جلد کا وزن تقریباً 6 سے 10 پونڈ تک ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ لمس یا چھونا بچوں کی نشو و نما میں اہم کر دار ادا کر تا ہے۔ چھونے کی حس شاید ہماری بقا کی ضامن ہے۔ عید الاضحی کے موقعہ پر کپڑوں کی خریداری اور ان کو چھونے کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ قربانی کے جانوروں کی خریداری اور ان کو پیار و محبت سے چھونا اور عید کے ایام میں ایک دوسرے سے گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے ہماری چھونے کی حس کو بیش بہا توانائی ملتی ہے۔
عید کے موقعہ پر ملنے والے تحائف، عیدی، مساجد میں صاف ستھری قالینوں، صفوں اور جائے نمازوں کو خوشبوؤں سے معطر کیا جاتا ہے۔ انہیں چھو کر ہم اپنی چھونے کی حس کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ کھانے پینے اور سجاوٹی اشیا کو چھو کر بھی دیدنی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
عید کا تہور باقی حسیات کے ساتھ ساتھ ہماری سمعی حس کو بھی متحرک کر تا ہے۔ عید کی تسبیحات کا ورد، عید کے واعظ، خطبہ اور دعائیں ہماری سننے کی حس کو جلا بخشتی ہیں۔ متذکرہ حسیات کے علاوہ عید الاضحی کا تہوار ہمارے دلوں میں ایک عجیب خوشی پیدا کر نے کا باعث بنتا ہے۔ روحانی ماحول اور تزکیۂ نفس کے لیے بھی عیدا لاضحی کا تہوار باقی تمام تہواروں کی نسبت زیادہ پُراثر اور مفید ہے۔
عید کے تہوار کے موقعہ پر ہم ماضی کی عیدوں اور ماضی کی روایات سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔ عید کے موقعہ پرمختلف پروگرامات اور بزرگوں کی زبانی سنی جانے والی باتیں ہماری سمعی، بصری، روحانی اور تخیلاتی صلاحیتوں کی نشوو نما اور ہماری معلومات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ عید الاضحی انسانی نفسیات کے مطابق ہے جو انسان کی زندگی میں نہ صرف ایک تبدیلی لا تا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ انسان کی حسیات کے لیے انتہائی مفید ہے۔
عید الاضحی کا تہوار سائنسی اور نفسیاتی فوائد سے بھر ا ہے جس کا ایک کالم میں احاطہ کر نا مشکل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی تہواروں کو مذہبی تشریحات کے ساتھ ساتھ جدید سائنس اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے بیان کریں، تاکہ روایتی طرزِ تبلیغ کے بجائے ہم نئی نسل کو جدید سائنس اور نفسیات کی مدد سے اسلامی تہواروں اور احکامات خداوندی کی طرف راغب کرسکیں۔
………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے