635 total views, 1 views today

اللہ کے آخری رسولؐ کی زندگی قربانی، ایثار، مروت، ہمدردی اور صلۂ رحمی سے عبارت ہے۔ ہادیِ بر حق ؐنے زندگی کا لمحہ لمحہ انسانوں کی بھلائی اور غریبوں، یتیموں، لاچاروں کی مدد اور مصیبت زدہ انسانوں کی بھلائی میں گزارا۔ آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے بھی آپؐ کے ان اُصولوں اور سنت پر عمل کیا۔ اس کے بعد مسلمان صوفیا، بزرگانِ دین اور صلحائے اُمت نے بھی ہمیشہ غریب، لاچار اور دُکھی انسانوں کی بوقت ضرورت حتی المقدور مدد کی۔ ان سب کا یہ کردار مسلمانوں کا اثاثہ حیات ہے۔ سرورِ کائناتؐ کے گھر میں کئی کئی روز چولھا نہیں جلتا تھا لیکن اگر کوئی حاجت مند یا فقیر درِ رسولؐ پر مانگنے آتا، تو کبھی خالی ہاتھ نہ جاتا اور کاشانۂ رسولؐ میں جو کچھ بھی موجود ہوتا، اسے ضرور ملتا۔
ایک دفعہ خلیفہ چہارم حضرت علیؓ اور آپؓ کی بیوی حضرت فاطمہؓ روزے سے تھے۔ افطاری کا وقت تھا۔ ان کے پاس افطاری کے لیے صرف چند کھجوریں تھیں۔ اتنے میں عین بوقت افطار ایک سائل کی صدا آئی۔ چناں چہ افطاری کے لیے رکھی گئیں وہ کھجور انھوں نے سائل کو دے دیں اور خود پانی سے روزہ افطار کیا۔
آج ہمارا معاشرہ خود غرضی اور نفسا نفسی کی حدود پار کرچکا ہے۔ ہمارے معاشرہ سے صلہ رحمی ختم ہوچکا ہے۔ بھائی، بھائی سے بے زار ہے۔ سفید پوش غربا اور بھوکے ننگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ میں ہر طرف بے چینی، اضطراب اور افراتفری کا عالم ہے۔




ایک دفعہ خلیفہ چہارم حضرت علیؓ اور آپؓ کی بیوی حضرت فاطمہؓ روزے سے تھے۔ افطاری کا وقت تھا۔ ان کے پاس افطاری کے لیے صرف چند کھجوریں تھیں۔ اتنے میں عین بوقت افطار ایک سائل کی صدا آئی۔ چناں چہ افطاری کے لیے رکھی گئیں وہ کھجور انھوں نے سائل کو دے دیں اور خود پانی سے روزہ افطار کیا۔

آج سے بیس پچیس سال پہلے ہم نے آل انڈیا ریڈیو کے اقوال زریں پروگرام میں ایک مسلمان بزرگ کی ایثار اور ہمدردی کی ایک کہانی سنی تھی جسے ہم اس موقع پر قارئین کرام کی نذر کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک مردِ خدا تھے، نام ان کا تھا مولانا فضل الرحمن مراد گنج آبادی۔ جن کی زہد، تقویٰ، نیکی، خدا ترسی اور بھلائی کا تذکرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ حدیث میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے شاگرد اور طریقت میں شاہ محمد آفاق دہلوی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ ان کے دربار میں اُمرا اور غربا سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مسلم و غیر مسلم، شاہ و گدا امیر و غریب سب حاضر ہوتے اور مراد پاتے۔ ایک دن علاقہ کا ایک نواب حاضر ہوا اور بہت خوبصورت اور قیمتی عبا خدمت میں پیش کی۔ حضرت نے عبا کو پسند فرمایا اور خادم سے کہا کہ اسے میرے لیے رکھو۔ تھوڑی دیر بعد بوسیدہ اور پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک غریب اور مفلوک الحال شخص حاضر دربار ہوا۔ اپنی پریشانی مولانا سے بیان کی اور کہا کہ میری جوان بچیاں ہیں۔ عنقریب ان کی شادی ہونے والی ہے۔ میرے پاس ان کی شادی کے انتظامات کے لیے پھوٹی کوڑی تک نہیں۔ خداکے واسطے میری مدد فرمایئے، تاکہ میں اس فرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔ مولانا نے خادم کو حکم دیا کہ عبا لاؤ۔ مجلس میں اس وقت ایک امیر آدمی بیٹھے تھے، اس نے عبا کو تبرکاً ایک ہزار روپے میں خرید لیا۔ حضرت نے وہ پیسے خاموشی سے اس غریب شخص کو دے دیے۔اس زمانہ کے ایک ہزار روپے آج کے دس لاکھ کے برابر ہوں گے۔ خادم نے عرض کیا کہ حضرت! یہ عبا تو آپ کو پسند تھی اور آپ نے اپنے لیے رکھی تھی کہ کسی کو نہیں دوں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ ٹھیک ہے کہ عبا میں نے اپنے لیے ہی رکھی تھی لیکن قرآن کریم میں اللہ کا فرمان ہے کہ ’’جو بھلائی تم دنیا میں یہاں سے جانے سے پہلے کرو اس کا بہتر بدلہ تم آخرت میں اللہ کے ہاں پاؤں گے۔‘‘ لہٰذا یہ عبا میں نے آخرت کے لیے اللہ کے ہاں محفوظ کرلی۔
ایسے واقعات میں ہمارے لیے نصائح پوشیدہ ہوتی ہیں۔ تاریخ ایسے درخشندہ ستاروں اور قابلِ تقلید مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بات صرف عمل اور اخلاص کی ہے۔ ہمارے ارد گرد بھی کئی سفید پوش، تنگ دست اور تہی دست لوگ موجود ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ان کی بروقت اور عملی امداد کی جائے، تاکہ یہ بروقت بھلائی ہمارے لیے تو شۂ آخرت بن جائے۔




تبصرہ کیجئے