64 total views, 1 views today

واجب الاحترام جناب امام مسجد صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
بہت سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ مساجد میں ہر جمعہ کو خطبہ ہوتاہے۔ اس میں محلہ کے بزرگ، جوان اور بچے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں لیکن علمائے کرام کی وعظ و نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ معاشرہ میں بگاڑ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے بلکہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مَیں ذاتی طور پر ابلاغ یعنی تبلیغ اور بات پہنچانے کے علم ماس ’’کمیونی کیشن‘‘ (Mass Communication) سے وابستہ ہوں۔ ابلاغیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مَیں نے کچھ نِکات نوٹ کیے ہیں۔ اگر آپ توجہ فرمائیں، تو خطباتِ جمعہ کا اثر بھی بڑھ جائے گا اور آپ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں آسانی بھی ہوگی۔
میرے خیال میں منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تین چیزیں بہت ضروری ہیں: علم، عجز اور ابلاغ۔
ایک علمی گفتگو تیاری کے بغیربہت مشکل ہے۔ جب آپ منبر پر بیٹھ جائیں، تو یہ نہ سوچیں کہ آپ گھوڑے پر بیٹھے ہیں اور میدانِ جنگ میں سپاہیوں کو ہدایات دے رہے ہیں۔ آپ ایک معلم کی طرح منبر پر بیٹھیں۔ معلم اپنے درس کے لیے پہلے سے کچھ تیاری کرچکا ہوتا ہے۔ اگر کاغذپر نوٹس لینے میں کوئی دشواری ہو، تو ذہن بنا کر رکھیں کہ اگلے جمعہ کو آپ نے خطبہ میں کیا کہنا ہے؟ آپ کے ذہن میں خطبہ کا واضح موضوع اور ترتیب ہونی چاہیے۔ موضوع سے متعلق ایک دو قرآنی آیات، ایک دو احادیث اور ایک آدھ کہانی ضرور شامل رکھیں۔ آخر میں اپنی گفتگو کو حالاتِ حاضرہ پر منطبق کریں۔ گن گرج اور شعلہ بیانی سے گریز کریں۔ لوگوں کو سمجھانا مقصد ہونا چاہیے۔ تقریر کے جوہر دکھانا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
ابلاغ میں آواز کی سطح کی پستی اور بلندی کی بہت اہمیت ہے۔ آپ کے سامنے جتنے لوگ بیٹھے ہیں، لاؤڈ سپیکر کی آواز ان کے مطابق ہونی چاہیے۔ مَیں نے مساجد میں کم آواز تو نہیں سنی، اکثر ضرورت سے زیادہ بلند آواز ہوتی ہے۔ یہ سماعت پر گراں گزرتی ہے لیکن کسی کی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ کہہ سکے کہ ’’آواز بہت بلند ہے اور اس کو ذرا پست ہونا چاہیے۔‘‘ اس لیے آپ خود لوگوں اور مجلس کی ضرورت کے مطابق اپنی آواز کو بلند یا پست رکھا کریں۔
مفہومِ حدیث ہے کہ چہرے پر تبسم صدقہ ہے۔ جب آپ منبر پر تقریر شروع کریں، تو تبسم کے ساتھ بات کریں۔ اس سے ماحول میں تناؤ کم ہوتا ہے اور لوگ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ تقریر میں مواد، روانی سے زیادہ ضروری ہے۔ روانی کے شوق میں اکثر منھ سے غیر مستند بات نکل جاتی ہے۔ اس لئے ٹھہر ٹھہر کر بات کریں۔ حاضرین کی آنکھوں میں دیکھیں۔ کبھی صفِ اول کے حاضرین کی آنکھوں میں، کبھی صفِ آخر، کبھی دائیں، کبھی بائیں۔ اس طرح حاضرین متوجہ رہتے ہیں۔
وقت کی پابندی بہت ضروری ہے۔ اگر نمازِ جمعہ کا وقت ڈیڑھ بجے مقرر ہے، تو تقریر دس منٹ پہلے ختم کریں، تاکہ نماز اپنے وقت پر شروع ہو۔آپ وقت کی پابندی کریں گے، تو مقتدی بھی وقت کی پابندی شروع کریں گے ۔
اگر ممکن ہو، تو مہینے میں کم ازکم ایک بار، اور بہتر ہے کہ دو بار دوسری مساجدکے آئمہ کو تقریر کے لیے بلائیں۔ اکثر مقتدی ایک امام کی تقریریں سن سن کر اکتا جاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ چل پڑا، تو دوسری مساجد کے امام بھی آپ کو بلائیں گے۔ اس طرح آپ کو بھی اکتاہٹ نہیں ہوگی اور مقتدیوں کو بھی یکسانیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کبھی کوئی اچھی کتاب پڑھ لی، تو اس کا خلاصہ بھی خطبۂ جمعہ کا موضوع ہوسکتا ہے۔ صدرِ پاکستان نے سو موضوعات کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے میں بھی کوئی برائی نہیں۔ کوشش کریں کہ فضائل، مشترکات اور مثبت موضوعات پر گفتگو کریں۔ منفی موضوعات سے اجتناب کریں۔
اکثر مساجد میں امام کی معاونت کے لیے دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ ایک نماز مؤذن سے پڑھوائیں، ایک اپنے شاگردِ خاص سے، ایک کسی اور سے۔ اس طرح دوسروں کی تربیت ہوگی۔ آپ کے لیے بھی آسانی ہوگی اور مقتدی بھی یکسانیت سے بچ جائیں گے۔اگر آپ مسجد میں امامت کے ساتھ درسِ حدیث، درسِ قرآن اور مسائل بھی بیان کرتے ہیں، تو سارا کام خود نہ کریں۔کبھی کبھار درسِ حدیث سینئر طالب علم سے دلوایا کریں۔ چندے کے اعلان کے لیے نمازیوں میں مختلف لوگوں کو موقع دیں۔ ان کو تیار کریں کہ مسجد کی ضروریات کیسے بیان کرنی ہیں اور کس طرح سے چندہ کی اپیل کرنی ہے؟
مسجد صرف جائے نماز نہیں۔ یہ مسلمانوں کا سماجی مرکز ہے۔ آپ کرسکتے ہیں کہ مسجد میں غریب بچوں کے لیے ٹیوشن کا اہتمام کریں۔ محلہ کے غربا کی فہرست بنا کر رکھیں۔اہلِ ثروت کو الگ بٹھا کر کچھ غریب بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھانے پر مائل کریں۔ اگر آپ کی رہائش مسجد میں ہے، تولوگوں کے گھریلوجھگڑے نمٹانے کا بھی انتظام ہوسکتا ہے۔ کچھ ڈاکٹروں، کچھ پروفیسروں، کچھ اہلِ علم کو مسجد کے کاؤنسلر بنائیں۔ وہ لوگوں کے تعلیمی، معاشی، طبی یا ازدواجی مسائل کو سنیں، بعض اوقات صرف سننے سے بھی لوگوں کا بوجھ ہلکا ہوجاتاہے اور مسائل کے حل کا راستہ نکل آتاہے۔
معاشرہ میں مسجد اور امامِ مسجد کا کردار بہت اہم، بہت متنوع اور بہت مؤثر ہے لیکن اس مضمون میں پوری بات ممکن نہیں۔ شکریہ والسلام! احسان حقانی، اسلام آباد۔
………………………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے