240 total views, 1 views today

انگریزی کا مشہور مقولہ ہے: "Silence is Gold” یعنی خاموشی سونا ہے۔
عربی کا ایک مقولہ ہے: ’’جو خاموش رہا وہ کامیاب ہوا!‘‘ اسی طرح بہت سی باتیں زبان سے متعلق ہیں جو کبھی کبھار بے لگام ہوکر فتنے برپا کرتی ہے۔ انسان اپنے جسم کے اعضا سے گناہ کرتا ہے۔ ان میں سے ایک زبان بھی ہے۔ 32 فوجیوں کے محاصرے میں یہ نرم و نازک ٹکڑا بعض اوقات اتنا تیز و طرار ہوکر قابو سے باہر ہوجاتا ہے کہ انسان کو آسمان کی بلندی سے گرا کر زمین کی پستی میں پھینک دیتا ہے۔ اس کو قابو کرنے والے دماغ اور دل ہیں۔ اگر اچھی نیت، احسن عقیدہ اور بہترین سوچ و فکر کے ذریعے دل نے اپنا کردار ادا کیا اور دماغ سلیقہ شعاری، تہذیب اور پاکیزہ افکار کا حامل بن گیا، تو زبان کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ یہ زبان ایسی آفت برپا کرسکتی ہے کہ بدمست اور بے قابو ہاتھی کی طرح انسان کو تباہی و بربادی سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس لیے ہر با شعور انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے یعنی اسے قابو میں رکھے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اُسے چاہیے کہ اچھی بات کہے، ورنہ خاموش رہے۔‘‘
حضرت ابوسعید خدریؓ سے ایک روایت ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہ ابنِ آدم جب صبح کرتا ہے، تو اس کے تمام اعضا زبان کے آگے عرض کرتے ہیں کہ ’’ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈرو۔ کیوں کہ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو کج روی اختیار کرے گی، تو ہم کج رو (ٹیڑھے) ہوجائیں گے۔‘‘ (ترمذی)
ایک دوسری حدیث میں سرکارِ دو عالمؐ نے ہمیں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کا درس دیا ہے۔ اول تو انسان کو فضول اور بے کار بولنا ہی نہیں چاہیے، اگر بوقت ضرورت بولے بھی، تو اپنی بات کو تولے کہ مَیں غلط بات تو نہیں کہہ رہا؟ میری بات فتنہ پھیلانے کا سبب تو نہیں بنے گی اور میں غلط اور باطل کلام تو نہیں کررہا ہوں؟ اگر انسان اپنی زبان استعمال کررہا ہو، تو بہتر ہے کہ خدا کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔
اللہ تعالا قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: ’’آدمی جو لفظ زبان سے نکالتا ہے، تو وہاں ایک سخت نگران مقرر ہوتا ہے۔ (سورۂ ق)
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھے کہ وہ چوبیس گھنٹے دو فرشتوں کی نگرانی میں رہتا ہے جو اس کا ذاتی ڈیٹا یعنی اعمال نامہ تیار کرتے ہیں اور اس میں سب سے زیادہ اندراج اسی زبان کے استعمال کا ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں، تو ہمارے ہاں زیادہ مصائب و مسائل اسی زبان کے بلا سوچے سمجھے استعمال کے ہیں۔ بات تولنے سے پہلے ہم جذبات سے مغلوب ہوکر زبان استعمال کرتے ہیں اور نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ سیاست کی منڈی میں تمام بے چینیاں، نفرتیں، عداوتیں، اشرار اور مسائل اسی زبان کی بدولت ہیں۔ اب تو سٹیج کے علاوہ ہمارے قانون ساز اداروں میں بھی ایسی بد زبانیاں اور زبان درازیاں ہورہی ہیں کہ ذاتی کردار کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بات گالم گلوچ اور ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی حال ہماری سماج کے دوسرے طبقات کا بھی ہے اور بحیثیت مجموعی ہم میں سے ہر شخص جذبات سے مغلوب ہوکر کلام کرتا ہے۔ اس کا انجام عموماً ٹھیک نہیں ہوتا جب کہ ہم میں صبر اور برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔ حالاں کہ اسلامی معاشرہ اور مسلمان کا اخلاق اور رویہ غیروں کے لیے قابلِ تقلید مثال رہا ہے۔ لہٰذا جب ہماری زبان صحیح چلے گی، تو ہماری سماجی رویوں میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ پھر ہمیں چین، سکون اور خوشحالی نصیب ہوگی۔ اس بارے خوشحال بابا کا یہ شعر کتنی حقیقت پر مبنی ہے، غور کریں
ستا د خُلے چینہ حنظل دہ ہم عسل دہ
د ہر چا تہ تو یونہ د عسل دہ
مطلب یہ کہ تیرے منھ میں حنظل (تلخ کھیرا) اور عسل (شہد) کا چشمہ ہے لیکن تجھے اس سے شہد ہی انڈیلنا ہے۔
…………………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے