430 total views, 1 views today

قرآنِ کریم ایک الہامی کلام ہے اور کلام بھی ایسا کہ عقلِ انسانی اس سرچشمہ علوم سے فیض یاب ہوتی رہی اور نہ جانے کب تک استفادہ کرتی رہے گی۔ حضور سرورِ کائناتؐ کی حیاتِ طیبہ قرآن کریم کے معانی و مطالب کی جیتی جاگتی تصویر تھی اور انؐ کے بعد صحابہ کرامؓ کی زندگیاں قرآنِ پاک سے عملی استفادہ کرنے کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔
قرآنِ پاک کو ایک ایسی عظیم درس گاہِ ایمان و حکمت سے تشبیہ دیا جاسکتا ہے جس میں داخل ہونے کے بعد اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے، اسرار و رموزِ کائنات اور جزئیات ایمان والقان کے پردے اٹھنے لگتے ہیں۔ اس سر چشمہ آگہی سے فیض یاب ہونے کے بعد ہی انسان کو عرفانِ حقیقت حاصل ہوتا ہے اور حقیقت کا ذرا سا فہم حاصل ہوجانا بھی انسان کے لیے معراجِ عمل سے کم نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر منافی الذات کی حدود کا آغاز ہوتا ہے اور معرفت الٰہی کا وہ چراغ درخشاں ہوجاتا ہے جو اُن راستوں کو روشن کر دیتا ہے جن پر قدم رکھتے ہوئے فرشتے بھی ہچکچاتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ تو ہر عربی جاننے والا کرسکتا ہے اور وہ لوگ جو عربی سے واقف نہیں ہیں۔ ان آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ اپنی زبانوں میں پڑھ لیتے ہیں۔ یہ بھی ناکافی نہیں ہے۔ بہرحال، صرف ترجمہ پڑھ لینے یا جان لینے سے اس کلامِ خداوندی کے الفاظ و عبارات میں پنہاں معانی و مطالب، اسرار و رموز، اشارات و کنایات تشبہیات و استعارات اور حسن و خوبی کا علم نہیں آیا۔ اگر یہ کتاب اور اس کتابِ مبارک کی آیات کریمہ اس قدر سادہ، صاف اور عمق و اسرار سے مبرا ہوتیں، تو شاید اس کو کلام الٰہی کہنا مشکل ہوجاتا۔ سادگی بے شبہ ہے۔ لیکن اس سادگی میں ایک حسن ہے۔ بات عام فہم ہے لیکن اس میں بھی جو یائے علم و دانش کے لیے، حکمت و آگہی کے سمندر چھپے ہیں اور پھر معجزۂ کلام تو یہ ہے کہ ہر وہ اہلِ دانش جس کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے مطالب کے فہم عطا فرمادیتے ہیں۔ وہ ایک نئے راز پر سے نقاب اُٹھاتا ہے اور تشنگان علم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال سے یہی ہورہا ہے اور صاحبِ کلام، خدائے قدوس خود ہی جانتا ہے کہ ابھی اور کیا کیا علوم اور حکمتیں اہل بصیرت سے بھی پوشیدہ ہیں۔ جب ایک پردہ اٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ راہ کھل گئی۔ لیکن زیادہ قطعِ مسافت نہیں ہوتی کہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ منزل ابھی دور ہے۔ بہت دور، ایک ہی پردہ اُٹھا ہے اور کچھ ہی دور ایک پردہ اور ہے۔ تجسس و تحقیق کا طویل عمل جب اس پردہ کو اُٹھاتا ہے، تو ایک اور راہ روشن ہوجاتی ہے۔ جس کے اختتام پر ایک اور پردہ نظر آتا ہے۔ علم و آگہی کا یہ عملِ ناتمام جاری ہے اور ابھی اس کلام پاک کی نجانے اور کتنی لامتناہی حکمتیں ہیں جو رفتہ رفتہ عیاں ہوتی رہیں گی۔




معجزۂ کلام تو یہ ہے کہ ہر وہ اہلِ دانش جس کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے مطالب کے فہم عطا فرمادیتے ہیں۔ وہ ایک نئے راز پر سے نقاب اُٹھاتا ہے اور تشنگان علم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

انسانیت جیسے جیسے ترقی کرتی جائے گی۔ ویسے ہی ویسے یہ بات روشن ہوتی جائے گی کہ وہ سب کچھ جو علم و فن کے نام سے انسان اس دور تک حاصل کرچکا۔ اسی ایک کتاب میں مضمر تھا۔ یہ تو ایک ایسا مطلعِ انوار ہے جو انسانی عقل و فہم سے بالا تر ہے۔ اہلِ علم اپنی فہم و ذکا کی ساری طاقتیں اس کے سمجھنے پر صرف کرکے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس کلامِ معجز بیان کے اسرار کا احاطہ عقلِ انسانی نہیں کرسکتی۔ قرآن کریم کی آیات و مطالب کو منطق و فلسفہ کی روشنی میں لاکر عقل و دانش کو ان مطالب سے متصادم کر دینا کشف رموز کا عمل انجام نہیں دیتا۔ ان مطالب کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ذہن اور روح کے دروازوں کو کھول دینا پڑتا ہے۔ تب نسیم معرفت کا ایک آدھ جھونکا شبستان آگہی میں آنکلتا ہے۔ جذبات و احساسات کو وسعت سے آشنا کرنا پڑتا ہے۔ عقل و دانش کو راہ راست پر لگا کر مصباح حقیقت کی روشنی میں لانا پڑتا ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ رب العالمین کا کلام ہے۔ لیکن اہل عالم کو اس کلام ربانی سے روشناس حضرت محمدؐ نے ہی کرایا اور یہ عظیم کلام ربانی ان ہی الفاظ میں دنیا میں مشتہر و محفوظ ہے جو حضورنبی اکرمؐ نے پڑھ کر سنائے جو کاتبان وحی نے حضورؐ اکرم کی ہدایت کے مطابق تحریر کیے۔

قرآن کریم کی آیات و مطالب کو منطق و فلسفہ کی روشنی میں لاکر عقل و دانش کو ان مطالب سے متصادم کر دینا کشف رموز کا عمل انجام نہیں دیتا۔ ان مطالب کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ذہن اور روح کے دروازوں کو کھول دینا پڑتا ہے۔ تب نسیم معرفت کا ایک آدھ جھونکا شبستان آگہی میں آنکلتا ہے۔ جذبات و احساسات کو وسعت سے آشنا کرنا پڑتا ہے۔

نوٹ : مندرجہ بالا تحریر جناب ثمر نقوی صاحب کی کتاب ’’صحائف‘‘ سے ماخوذ ہے جسے مقبول اکیڈمی لاہور نے 1983 ء میں شائع کیا ہے۔




تبصرہ کیجئے