288 total views, 2 views today

مفتی سبحان اللہ جان، مسجدِ درویش صدر، پشاور سے شرعی رہنمائی کی غرض سے ایک سوال پوچھا گیا: ’’نکاح کے وقت اکثر نکاح خواں حضرات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مہر نقد ہونے کی صورت میں ان کے سامنے یا گواہان کے سامنے فوری طور پر ادا کیا جائے۔ اس حوالے سے بعض اوقات بدمزگی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے یا لڑکا جب رات کو گھر جائے گا، تب خود ہی دے گا، لیکن نکاح خواں برابر اصرار کرتا ہے کہ فوری ادا کرو۔ تو اگر مہر نقد لکھوانے کے باوجود فوری ادا نہ کیا جائے، تو نکاح کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ ‘‘
مفتی صاحب کا جواباً کہنا تھا: ’’مہر کی ادائیگی بوقتِ نکاح ضروری نہیں۔ مہرِ معجل کی فوری ادائیگی ضروری ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر یہ مہر بیوی کو ادا کرے، جب کہ اس کے ساتھ ملاقات ہو اور مہرِ معجل کی جو بھی رقم یا دوسری چیز طے ہو، اس کی ادائیگی سے قبل بیوی، شوہر کو ہم بستری سے منع کرسکتی ہے۔ بالفرض یہ مہر ادا نہ کیا جائے، پھر بھی نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہٰذا نکاح خواں کا بوقتِ نکاح یہ اصرار کرنا کہ ابھی کے ابھی ادا کردو، غلط ہے۔‘‘
(بحوالہ ’’روزنامہ مشرق‘‘ ، جمعۃ المبارک 5 فروری 2021ء)




تبصرہ کیجئے