282 total views, 2 views today

دینِ اسلام جو طرزِ معاشرت انسان کو سکھانا چاہتا ہے، اس کی بنیاد باہمی ہمدردی اور خیرخواہی پر ہے۔ اگر معاشرے کو انسان کے لیے مفید بنانا ہے، تو اس کا طریقۂ کار فقط یہی ہوسکتا ہے کہ انسان دوسروں کے کام آئے، اور ہردوسرے انسان کی فلاح اور بھلائی کی کوشش کے لیے ہر وقت متحرک رہے۔ زبان سے کسی کو برا بھلا کہنا، اگر اس کے منھ پر ہے، تو یہ اس سے لڑائی کا یا اس کا دل دکھانے کا سامان ہے اور اگر اس کے پیٹھ پیچھے ہے، تو یہ اس پر جھوٹا الزام اور اس کی غیبت ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمانِ عظیم ہے، جب مجھے میرا ربّ معراج میں لے گیا، تو میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا کہ ان کے ناخن پیتل کے تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان سے نوچ رہے تھے۔ مَیں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا، یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت اور پیٹھ پیچھے بدگوئی کرتے تھے) اور ان کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔ (مشکوۃ شریف)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے: ’’ تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ لوگوں نے کہا، اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا، اپنے بھائی کی بابت ایسی بات کہنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ کسی نے کہا ،کیا ارشاد ہے کہ میرے بھائی میں وہ بات موجود ہے جو میں کہہ رہا ہوں؟ فرمایا، اگر اس میں وہ بات موجود ہے جوتم کہہ رہے ہو، تووہ اس کی غیبت اور اگر اس میں وہ بات موجود ہی نہیں ہے جوتم کہہ رہے ہو، توتم نے اس پر بہتان لگایا۔ (مشکوۃ شریف)
اس حدیثِ مبارکہ میں دونوں باتوں کو برا کہا گیا ہے۔ غیبت یہ ہے کہ دوسرے کے عیب گنوائے جائیں، اور اس کی ان باتوں کو ظاہر کیا جائے جنہیں وہ ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔ اس سے معاشرے کی غرض پوری نہیں ہوتی، بلکہ اسے الٹا نقصان پہنچتا ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ معاشرے کی غرض پوری نہ ہونے دینا شیطانی کام ہے۔ معاشرہ تو اس لیے تھا کہ اس سے باہمی رنجشیں دور ہوں، اور ایک دوسرے کو تکلیف اور کوفت سے بچایا جائے۔ اگر اس سے جھگڑے اور ایک دوسرے کی دل آزاری کا سامان پیدا ہونے لگے، تو اس سے فطرت کا مقصد حاصل نہ ہوا۔ فطرت سے ہٹنا یا اس کا مقصد پورا نہ ہونے دینا انسانی نہیں، بلکہ شیطانی کام ہے۔
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ’’سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے جس نے ایک ایمان دار آدمی کو منافق کے ہاتھ سے بچایا اس کے لیے اﷲ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر کردے گا، جو قیامت کے دن اس کے بدن کو دوزخ کی آنچ سے بچائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کے سر کوئی بات لگائی۔ اﷲ تعالیٰ اسے جہنم کے پُل پر روکے رکھے گا کہ جب تک وہ اپنے قول سے بری نہ ہوجائے۔ ‘‘
جو شخص دوسرے کی برائی اس کی پیٹھ پیچھے کرتا پھرے، وہ منافق ہے۔ منافق ظاہر میں دوست بنا رہتا ہے، لیکن باطن میں وہ دشمن ہوتا ہے۔ دوستی کے پردے میں دوسرے کے عیب تاکتا رہتا ہے، اور پیٹھ پیچھے عیب لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک بھولے بھالے مسلمان کو ایسے دوغلے آدمی سے بچائے گا، اس کے بدن کو دوزخ کی آگ جلا نہ پائے گی۔ ایک فرشتہ اسے دوزخ سے بچاتا رہے گا۔ مسلمان کو اس گھر کے بھیدی منافق سے بچانے کی صورت یہ ہے کہ یا تو اس کا اس کے پاس آنا جانا بند کردے، اور یا جب وہ برائی کرے، تو اس کو جھوٹا ثابت کرکے ایک بھلے مانس کی آبرو بچائے۔
اس کے بعد اس بدنام کرنے والے کی سزا سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر رسوا کرنے والا جہنم کے پُل کے اوپر روک کر کھڑا کردیا جائے گا، اور وہاں جہنم کی تپش سے اس کا بدن جھلستا رہے گا، اور اسے تب چھوڑا جائے گا جب وہ اس گناہ سے پاک ہوجائے گا۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمانِ عظیم ہے ’’غیبت کے وبال سے چھٹکارا پانے کی صورت یہ ہے کہ جس کی تو نے غیبت کی ہے، اس کے لیے مغفرت کی دعا کر اور یوں کہہ کہ اے اﷲ ہمیں بخش اور اسے بھی بخش دے۔‘‘
’’ایک دوسرے موقع پر سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے، اسے معاف نہ کردے۔‘‘
اور جب اس شخص سے ملنے کی کوئی صورت ہی نہ رہی ہو،یا اس کا انتقال ہوچکا ہو، تو ایسی صورت میں غیبت کی معافی کی شکل صرف ایک ہے، جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ اس کے لیے استغفار کرے یعنی یوں دعا کرے کہ یا اﷲ ہماری مغفرت فرما اور اس کی بھی مغفرت فرما۔ اس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ اس غیبت کا گناہ جو اس نے کی ہے، معاف ہوجائے۔
دورِ حاضر میں جہاں مردوں میں غیبت کی بیماری پائی جاتی ہے، وہاں عورتیں بھی پیچھے نہیں۔ عورتوں کا معمول ہے ہر ایک کے خلاف بات کرنا۔
قرآن و حدیث میں دوسروں کے حقوق کا بڑا خیال رکھا گیا ہے۔ دوسرے کو ستانا، کسی قسم کی تکلیف پہنچانا، یا ایسی بات کرنا جس سے اسے رنج ہو، بہت ہی بری بات ہے۔ اگر کسی سے نادانی کے باعث کوئی ایسا گناہ ہوجائے کہ اس کا اثر اس تک محدود ہے، تو وہ اپنے ربّ حقیقی اللہ تعالیٰ کے سامنے رو کر اس سے اپنا گناہ معاف کراسکتا ہے، لیکن اگر اس کی حرکت سے کسی دوسرے کو کوئی رنج پہنچا ہے، یا اس کے احساسات کو ٹھیس پہنچی ہے، یا شہرت پر دھبا لگا ہے، تو اب معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ ایسے جرم کی معافی کے لیے اسے اس شخص سے بھی معاف کرانا پڑے گا جس کو اس سے رنج پہنچا ہے، اور اگر اس سے معافی حاصل کرنے کی صورت نہیں رہی، تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرے، اور اﷲ تعالیٰ سے امیدِ مغفرت رکھے کہ وہ غفور الرحیم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اورمعافی کی صورت پیدا کرنے کی التجا کر تے رہنا چاہیے۔
اسلام ہمیں جو اخلاق سکھاتا ہے، اس کی بنیاد اس پر ہے کہ کسی کو کسی سے رنج اور دکھ نہ پہنچے، کوئی کسی کا ذرا سا بھی نقصان نہ کرے، بلکہ جہاں تک ہوسکے دوسروں کو فائدہ اور آرام پہنچانے کے لیے معاون بنے۔
آج کل جہاں دو چار لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور بات چیت کا سلسلہ چھیڑتے ہیں، تو کام کی باتیں بہت کم ہوتی ہیں۔ زیادہ تر دوسرے لوگوں کی بابت چہ میگوئیاں ہوتی ہیں، اور اس میں زیادہ تر ان کی برائیاں کی جاتی ہیں۔
پیٹھ پیچھے برائی کرنے والوں کو قرآنِ مجید میں اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا بتایا گیا ہے۔ اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ دوسروں کی پیٹھ پیچھے ان کی برائی کرنے والے اپنانقصان خود کرتے ہیں۔ برائی کرنے والے ایسے لوگوں کو اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
……………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے