46 total views, 3 views today

مسلمانوں کے پیشوا اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیؐ کے کارٹونوں کو سرکاری عمارتوں پر چسپاں کرنے کی فرانسیسی حکومت کی ذلیل حرکت نہ صرف قابل مذمت ہے، بلکہ عین دہشت گردی ہے۔ ایسی گھناؤنی حرکت سے دنیا میں امن وسکون اور محبت وبھائی چارہ کے بجائے لوگوں میں نفرت وعداوت اور تشدد کا ماحول پیدا ہوگا۔ دنیا کے 2 ارب مسلمانوں کے ساتھ ہر امن پسند انسان کا یہی کہنا ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیشوا کے کارٹونوں کا اس طرح سرکاری عمارتوں پر چسپاں کرنا قابلِ مذمت عمل ہے۔ اسی وجہ سے اقوامِ متحدہ نے بھی اپنے بیان میں اقرار کیا کہ کسی مذہب کے پیشوا کے کارٹونوں کو عمارتوں پر چسپاں کرنے سے دنیا میں تشدد میں اضافہ ہی ہوگا۔ ہم جس طرح فرانسیسی حکومت کی اس ذلیل حرکت کی مذمت کرتے ہیں، وہیں مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ پیارے نبیؐ کی سنہری و قیمتی تعلیمات کو اپنے قول وعمل کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں، تاکہ عوام میں اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں اسلام مخالف طاقتوں کے ذریعہ پیدا کردی گئی ہیں، وہ دور کی جاسکیں۔
حضرت محمد مصطفیؐ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جوامع الکلم (اقوال زریں) سے نوازا گیا ہے (بخاری)۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آپؐ چھوٹی سی عبارت میں بڑے وسیع معانی کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ آپؐ کی بے شمار خصوصیات میں سے ایک اہم ترین خصوصیت یہ بھی ہے کہ جس وقت آپؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ سے پڑھنے کے لیے کہا گیاتو آپؐ نے ’’مَا اَنَا بِقَارِی‘‘ یعنی مَیں پڑھ نہیں سکتا ہوں‘‘ کہہ کر معذرت چاہی، لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی خاص الخاص تربیت ہوئی کہ آپؐ کے قول وعمل کو رہتی دنیا تک اسوہ بنا دیا گیا۔ آپؐ کے اقوالِ زریں سے مستفید ہونے والے حضرات بڑے بڑے ادیب و فصیح و بلیغ بن کر دنیا میں چمکے۔ آپؐ کی زبانِ مبارک سے نکلے بعض جملے رہتی دنیا تک عربی زبان کے محاورے بن گئے۔ آپؐ کے وعظ و نصیحت، خطبے، دعا اور رسائل سے عربی زبان کو الفاظ کے نئے ذخیرہ کے ساتھ ایک منفرد اسلوب بھی ملا۔ یہ ایک معجزہ ہی تو ہے کہ ’’مَا اَنَا بِقَارِی‘‘ کہنے والا شخص کچھ ہی عرصہ بعد ایک موقع پر ارشاد فرماتا ہے: مَیں عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں قبیلہ قریش سے ہوں اور میری رضاعت قبیلہ بنی سعد میں ہوئی (الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری)۔
یہ دونوں قبیلے اس وقت اپنی زبان و ادب میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضورِاکرمؐ سے فرمایا: ’’مَیں سرزمینِ عرب بہت گھوم چکا ہوں، بڑے بڑے فصحا کے کلام کو سنا ہوں، لیکن آپ سے زیادہ فصیح کسی شخص کو نہیں پایا۔ آپ کو کس نے ادب سکھایا؟ حضوراکرمؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہترین ادب سے نوازا۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فصاحت وبلاغت کا ایسا معیار آپؐ کو عطا کیا گیا جس کی نظیر قیامت تک ملنا ناممکن ہے اور آپؐ کے اقوالِ زریں انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؐ کے خطبے خاص کر حجۃ الوداع کے موقعہ پر دیا گیا آپؐ کا آخری اہم خطبہ نہ صرف جوامع الکلم میں سے ہے، بلکہ حقوقِ انسانی کا بنیادی منشور بھی ہے۔ اس خطبہ مبارکہ میں آپؐ نے آج سے چودہ سو سال قبل مختصر وجامع الفاظ میں انسانیت کے لیے ایسے اصول پیش کیے جن پر عمل کرکے آج بھی پوری دنیا میں امن وامان قائم کیا جاسکتا ہے۔
جہاں حضورِ اکرمؐ کے اقوالِ زریں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، وہیں شریعتِ اسلامیہ میں ان اقوالِ زریں کو یاد کرکے محفوظ کرنے کی بھی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے۔ چناں چہ حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری امت کے فائدہ کے واسطے دین کے کام کی چالیس احادیث یاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن عالموں اور شہیدوں کی جماعت میں اٹھائے گا اور فرمائے گا کہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
یہ حدیث متعدد صحابۂ کرام سے روایت ہے اور حدیث کی مختلف کتابوں میں موجود ہے۔ حدیث میں مذکورہ ثواب کے حصول کے لیے سیکڑوں علمائے کرام نے اپنے اپنے طرز پر چالیس احادیث جمع کی ہیں۔ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نوویؒ کی چالیس احادیث پر مشتمل کتاب ’’الاربعین النوویۃ‘‘ پوری دنیا میں کافی مقبول ہوئی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں وارد حضورِ اکرمؐ کے چالیس فرمان پیشِ خدمت ہیں جن میں علم و معرفت کے خزانے سمودیے گئے ہیں اور یہ اعلا اخلاق اور تہذیب و تمدن کے زریں اصول ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان احادیث کو یاد کرکے ان پر عمل کریں اور دوسروں کو پہنچائیں، تاکہ غیر مسلم حضرات بھی آپؐ کی صحیح تعلیمات سے واقف ہوکر اسلام سے متعلق اپنے شک وشبہات دور کرسکیں۔ بخاری ومسلم میں وارد حضورِ اکرمؐ کے چالیس فرمان:
٭ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
٭ کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو بے گناہ قتل کرنا اور جھوٹی شہادت دینا ہے۔
٭ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں ؟ حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
٭ منافق کی تین علامتیں ہیں: جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔
٭ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآنِ کریم سیکھے اور سکھائے۔
٭ اللہ کے نزدیک سب عملوں میں وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔
٭ مَیں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔
٭ پاک رہنا آدھا ایمان ہے۔
٭ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ مسجد ہے۔
٭ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا۔
٭ مؤمن ایک بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا۔
٭ پہلوان شخص وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
٭ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ جانا، اس کی دعوت قبول کرنا، چھینک کا جواب ’’ےَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘‘ کہہ کر دینا۔
٭ اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔
٭ ظلم قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔
٭ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
٭ دنیا میں ایسے رہوجیسے کوئی مسافر یا راہ گزر رہتا ہے۔
٭ رشتہ توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
٭ اگر کوئی شخص (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
٭ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو بات سنے (بغیر تحقیق کے) لوگوں سے بیان کرنا شروع کردے۔
٭ وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا پڑوسی اس کی ایذاؤں سے محفوظ نہ ہو۔
٭ تم میں سے وہ شخص میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے، جو اچھے اخلاق والا ہو۔
٭ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں آتی، اور جو بندہ درگزر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو بندہ اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔
٭ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں پر خرچہ کرتا ہے، تو وہ بھی صدقہ ہے یعنی اس پر بھی اجر ملے گا۔
٭ اے نوجوان کی جماعت! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، اسے نکاح کرلینا چاہیے، کیوں کہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو کوئی نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ یہ اس کے لیے نفسانی خواہشات میں کمی کا باعث ہوگا۔
٭ عورت سے نکاح (عموماً) چار چیزوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندان کے شرف کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دین دار عورت سے نکاح کرو۔ اگرچہ گرد آلود ہوں تمہارے ہاتھ، یعنی شادی کے لیے عورت میں دین داری کو ضرور دیکھنا چاہیے، خواہ تمہیں یہ بات اچھی نہ لگے۔
٭ حلال واضح ہے، حرام واضح ہے۔ ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سارے لوگ نہیں جانتے۔ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا، اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کی اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑے گا، وہ حرام چیزوں میں پڑ جائے گا۔ اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے قریب بکریاں چراتا ہے۔ کیوں کہ بہت ممکن ہے کہ اس کا جانور دوسرے کی چراگاہ سے کچھ چرلے۔ اچھی طرح سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، یاد رکھو کہ اللہ کی زمین میں اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سن لو کہ جسم کے اندر ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب وہ سنور جاتا ہے، تو ساراجسم سنور جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو کہ یہ (گوشت کا ٹکڑا) دل ہے۔
٭ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے لیے غریبی کا خوف نہیں بلکہ مجھے خوف ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کہیں تمہارے لیے دنیا یعنی مال ودولت کھول دی جائے، اور تم اس کے پیچھے پڑ جاؤ۔ پھر وہ مال ودولت پہلے لوگوں کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔
٭ اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔
٭ جب امانتوں میں خیانت ہونے لگے، تو بس قیامت کا انتظار کرو۔
٭ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔
٭ مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔
٭ تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو فروخت کرتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت (قرض وغیرہ کا) فیاضی اور وسعت سے کام لیتا ہے۔
٭ کھاؤ، پیؤ، پہنو اور صدقہ کرو، لیکن فضول خرچی اور تکبر کے بغیر (یعنی فضول خرچی اور تکبر کے بغیر خوب اچھا کھاؤ، پیؤ، پہنو اور صدقہ کرو)۔
٭ رشک دو ہی آدمیوں پر ہوسکتا ہے، ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے مال کو راہِ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوئی ہے۔ اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔
٭ مؤمنین کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت میں بدن کی طرح ہے۔ بدن میں سے جب کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے، تو سارا بدن نیند نہ آنے اور بخار آنے میں شریک ہوتا ہے۔
٭ آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔
٭ (سچا) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کے ضرر) سے مسلمان محفوظ رہیں۔ مہاجر وہ ہے جو اُن کاموں کو چھوڑدے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں بھلائی فرض کی ہے، لہٰذا جب تم (کسی کو قصاصاً) قتل کرو، تو اچھی طرح قتل کرو۔ اور جب ذبح کرو۔ تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو اپنی چھری تیز کرلینی چاہیے اور اپنے جانور کو آرام دینا چاہیے۔
قارئین، جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں فصاحت و بلاغت کے پیکر اور بے مثال ادیب عرب حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جوامع الکلم (اقوالِ زریں ) کو سمجھ کر پڑھنے والا، ان کے مطابق عمل کرنے والا اور ان سنہری تعلیمات و قیمتی پیغامات کو دوسروں تک پہنچانے والا بنائے، آمین، ثم آمین!
…………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے