45 total views, 1 views today

اللہ تعالی کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کسی کو حصہ دار ٹھہر انا ’’شرک‘‘ ہے۔
اس کی چار اقسام ہیں:
٭ ذات میں شرک۔
٭ صفات میں شرک۔
٭ اختیارات میں شرک۔
٭ حقوق میں شرک۔
٭ ذات میں شرک:۔ کسی کو اللہ تعالی کی ذات برادری سمجھنا، کسی کو اس کا باپ یا بیٹا کہنا۔ مثلاً زمانۂ جاہلیت میں عربوں کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، یا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ مسیح علیہ السلام خدا کے جوہر سے ہیں۔
٭ صفات میں شرک:۔ صفات میں شرک سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفاتِ کمال جیسی کہ وہ اللہتعالی کے لیے ہیں، ویسا ہی ان کو یا ان میں سے کسی صفت کوکسی دو سرے کے لیے قرار دینا۔ یہاں یہ قید لگائی جاتی ہے کہ ’’وہ صفت جس مفہوم میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہے‘‘ کیو ں کہ بسااوا قات یہی صفات ہم اپنے جیسے انسانوں کے لیے بھی بولتے ہیں، جیسے ’’حکیم۔‘‘ اللہ کی صفت حکیم اور انسان کے حکیم ہونے میں بڑا فرق ہے، لیکن اگر ہم انسان کے لیے بھی اسی مفہوم میں حکیم کا لفظ استعمال کریں جس مفہوم میں اللہ تعالی کے لیے کرتے ہیں، تو یہ صفات میں شرک ہو گا۔ اسی طرح کسی کو سمیع،بصیر، عالم الغیب اور ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک اور منزہ سمجھنا بھی صفات میں شرک ہے۔
٭ اختیارات میں شرک:۔ خالق و مالک اور مختار ہونے کی حیثیت سے جو اختیار ات اللہ تعالی ہی کوحاصل ہیں ان کو یا ان میں سے کسی کو اللہ تعالی کے سوا کسی اور کے لیے تسلیم کیا جائے، تو یہ اختیارات میں شرک ہے۔ مثلاً، ما فوق الفطری طریقہ سے نفع و نقصان پہنچانا، حاجت روائی و دستگیری کرنا، نگہبانی و حفاظت کرنا، دعائیں سننا، قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنااور جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی حدود اور ضابطے مقرر کرنا، یا انسانی زندگی کے لیے قانون و شریعت مقرر کرنا ۔ یہ سب اللہ تعالی کے مخصوص اختیارات ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی غیر اللہ کے لیے تسلیم کرنا شرک ہے ۔
٭ حقوق میں شرک:۔ رب اور معبود ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ تعالی کے جو مخصوص حقوق ہیں، انہیں یا ان میں سے کوئی حق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کودینا حقوق میں شرک ہے۔ مثلاً، رکوع و سجود، نذر و نیاز اور قربانی، قضائے حاجات اور دفعِ مشکلات کی غرض سے مدد کے لیے پکارنا، کسی سے ایسی محبت کرنا کہ اس پر سب محبتیں قربان کی جا سکیں، غیر مشروط اطاعت اور اس کی ہدایت کو غلط اور صحیح کا معیار جاننا، یہ سب وہ حقوق ہیں جو صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں اور ان میں سے کوئی حق بھی غیر اللہ کودینا شرک ہے۔
(کتابچہ ’’ایمانیات (الف)‘‘ ، دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی یونٹ 2 کے صفحہ نمبر 25 اور 26 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے