16 total views, 1 views today

گھر میں ہمارے لیے چائے بنانے کے لیے دودھ رکھا تھا، لیکن دودھ کھلے برتن میں تھا۔ ہم چائے بنانے واسطے دودھ لینے گئے، تو برتن میں مکھی پڑی تھی۔ مکھی ہم نے ہٹائی، تو دودھ اُنڈیلتے وقت برتن کی تہہ میں مردہ لیڈی کوین پڑی تھی۔ یہ گریلا خاندان کا ایک چھوٹا سا رنگین گول کیڑا ہوتا ہے جسے پشتو میں ’’گونگٹئی‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اگر سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کیا جاتا اور حفظانِ صحت کے اُصولوں کو مد نظر رکھ کر دودھ کی برتن کو ڈھانپ لیا جاتا، تو نہ دودھ ضائع ہوتا اور نہ ہم چائے سے محروم رہتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے قابلِ تقلید مثال ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال ہمارے لیے راہِ عمل ہیں۔ حضرت ابو حمید انصاریؓ ایک مرتبہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک دودھ کا پیالہ لے آئے اور بغیر ڈھانکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اُسے ڈھانکتے کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمایا کہ اگر برتن ڈھانکنے کے لیے کوئی چوڑی چیز موجود نہ ہو، تو کم از کم اس پر آڑی لکڑی ہی رکھ دو۔
ہمارے ہاں بعض لوگ کھانے پینے کی چیزیں بغیر ڈھانکے رکھ چھوڑتے ہیں۔ یہ غلط ہی نہیں بڑا مضر طریقہ بھی ہے۔ اس سے کھانے پینے کی چیزوں میں مضر چیز یا گرد پڑسکتی ہے اور جراثیم بھی آبیٹھتے ہیں۔
جدید میڈیکل سائنس کا بھی یہ کہنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کو کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے، بالخصوص دودھ کو۔ کیوں کہ دودھ میں دِق کے جراثیم بہت جلد پرورش پاتے ہیں۔ پھر یہ امکان ہے کہ کوئی زہریلی چیز گر جائے اور اس سے نقصان ہو۔
بعض لوگ ہاتھ دھوئے بغیر پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ یہ حفظانِ صحت کے اُصولوں کے خلاف عمل ہے۔ اس لیے اسلام نے اس سے منع کیا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نیند سے اُٹھنے کے بعد کوئی شخص پانی کے برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک تین مرتبہ ہاتھ نہ دھوئے۔ کیوں کہ معلوم نہیں کہ نیند کے دوران میں اس کا ہاتھ پاک جگہ رہا یا ناپاک؟‘‘
اس کے علاوہ ماحول کی صفائی بھی ایک مسلمان کا وطیرہ ہے۔ گھروں، ان کے آس پاس مقامات یعنی گلی کوچوں، سڑکوں اور نالیوں وغیرہ کی صفائی اسلامی معاشرے کے لیے ضروری احکام ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’اللہ کی ذات، پاک اور طیب ہے اور وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔‘‘
اسلام کا حکم ہے کہ جسم کو پاک رکھا جائے۔ ممکن ہو تو روزانہ نہانا چاہیے۔ ہر ہفتہ ناخن تراشے جائیں اور بالوں کی ترشوائی اور صفائی کی جائے۔
حضرت جابر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم ہے کہ اگر کسی جگہ زمین میں سوراخ ہو، تو اس میں بھی پیشاب کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ اندر سے کوئی خطرناک جانور نکل آئے اور نقصان پہنچائے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی امت کو حکم ہے کہ زندگی صفائی، شائستگی اور احتیاط کے ساتھ بسر کرو۔
ضمیمہ:۔ ایک دفعہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر کے دوران میں ایک جنگل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے موزے اُتار کر آرام فرمارہے تھے کہ اتنے میں ایک چیل نے آکر ایک موزے کو پاؤں کے پنجے کی طرف سے چونچ میں اُٹھالیا۔ چیل تھوڑا اونچا ہوا، تو موزے سے ایک خطرناک سانپ زمین پر گر کر بھاگ گیا۔ چیل نے موزا گرایا اورنبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کا شکر ادا کیا۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ہر قسم کا کپڑا مثلاً قمیص، شلوار، کوٹ، بنیان، جرسی، واسکٹ وغیرہ کو پہننے سے پہلے تین مرتبہ جھاڑ دو۔ یہاں تک کہ سونے سے پہلے بستر کو بھی اچھی طرح جھاڑ کر دیکھو۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے