32 total views, 1 views today

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ملکِ شام میں ایک یہودی رہتا تھا۔ وہ ہفتہ کے دن تورات کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ تورات کھولی، تو اس میں چار مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف دیکھی۔ یہودی نے وہ جگہ کاٹ کر جلا دی۔ اگلے ہفتے پھر تورات کھولی، تو آٹھ جگہوں پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت اور وصف کا ذکر پایا۔ اس نے یہاں سے بھی کاٹ کر جلایا۔ تیسرے ہفتے تورات کھولی، تو یہی تذکرہ کئی مرتبہ موجود پایا۔ یہودی سوچنے لگا کہ اگر میں یوں ہی کرتا رہا، تو ساری کی ساری تورات اس تذکرہ سے پر ہوجائے گی۔ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ نہ تو اسے دیکھے اور نہ وہ تمہیں دیکھے۔ یہودی کہنے لگا کہ تورات کی قسم، مجھے اس کی زیارت سے نہ روکو۔ پس ساتھیوں نے اجازت دی اور یہ اپنی سواری پر سوار ہوکر منزل بہ منزل چلتا رہا۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا، تو نہایت خوبصورت باریش سلمان فارسیؓ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے حسن کو دیکھ کر سمجھا کہ یہی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس دنیا سے سفر کیے تین دن ہوچکے تھے۔ حضرت سلمانؓ اس کی بات سے روئے اور کہا، مَیں تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خادم اور غلام ہوں۔ یہودی بولا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ہیں؟ اب سلمانؓ سوچنے لگا کہ اگر وصال کی خبر سناتا ہوں، تو یہ واپس ہوجائے گا۔ اگر یہ کہہ دوں کہ موجود ہیں، تو جھوٹ ہوگا۔
آخرِکار سلمانؓ یہودی سے کہنے لگا کہ میں تجھے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ ؓ کے پاس لے چلتا ہوں۔ مسجد میں آئے، تو صحابہؓ سب کے سب غم کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ یہودی نے یہ سمجھ کر کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں موجود ہوں گے۔ السلام علیک یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ کہا، جس سے تمام صحابہؓ میں ایک کہرام مچ گیا اور سب آہ و بکا کرنے لگے اور یہودی سے پوچھنے لگے کہ تو کون ہے، جس نے ہمارا زخم تازہ کردیا۔ یہ تو کوئی اجنبی معلوم ہوتا ہے اور شائد تجھے معلوم نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تین دن پہلے وصال ہوچکا ہے۔
یہ سن کر وہ یہودی چیخنے لگا کہ ’’ہائے، میرا غم، میری سفر کی ناکامی اور اے کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی اور جن ہی دیا تھا، تو کاش! میں تورات نہ پڑھتا، اور وہ بھی پڑھی تھی، تو کاش! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف پر نظر نہ پڑتی، اور اگر یہ بھی ہوگیا، تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوجاتی۔ پھر کہنے لگا کہ کیا یہاں پر حضرتِ علیؓ موجود ہیں جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف اور حلیہ مبارک کا تعارف کرائیں۔ حضرت علیؓ آگے بڑھے اور فرمایا میرا نام علیؓ ہے۔ یہودی بولا، میں نے تیرا نام بھی تورات میں دیکھا ہے۔ حضرت علیؓ نے حضورِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ بیان کرنا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ حد سے زیادہ لمبے اور نہ زیادہ چھوٹے تھے۔ سر مبارک گول تھا۔ پیشانی کشادہ اور آنکھوں کا رنگ خوب سیاہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پلکیں دراز تھیں۔ ہنسی کے دوران میں دانتوں سے شعاعیں نکلتی تھیں۔ سینہ سے ناک تک بالوں کی لکیر تھی۔ ہتھیلیاں پُرگوشت تھیں۔ قدموں کے تلوے قدرے گہرے تھے۔ بدن کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی تھیں۔ مثلاً کہنیاں اور گھٹنے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شانوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔
یہودی کہنے لگا علیؓ، تونے جو کچھ بتایا سچ بتایا، تورات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف اسی طرح موجود ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی کپڑا موجود ہو، تو میں سونگھنا چاہتا ہوں۔ علیؓ نے کہاں، ’’ہاں۔‘‘ سلمانؓ جاؤ اور فاطمہؓ سے کہو کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جبہ ذرا بھیج دو۔ سلمانؓ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے حضرت فاطمہؓ کی آواز آئی۔ حضرت سلمانؓ نے علیؓ کا پیغام دیا اور سارا قصہ سنایا۔ آپؓ جبہ نکال لائیں، جو سات جگہوں سے کچھور کے ریشہ کے ساتھ سلا ہوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اسے پکڑ کر سونگھا پھر دوسرے صحابہ کرامؓ نے پھر یہودی پکڑ کر سونگھنے لگا اور کہا کہ واہ! کیسی عمدہ خوشبو ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر شریف پر حاضر ہوا اور آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کہنے لگا کہ اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ توو واحد یکتا اور یگانہ ہے۔ کائنات تیری نیاز مند اور بے نیاز ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ اس قبر شریف میں تیرا حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے جو کچھ اس نے فرمایا، مَیں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر میرا اسلام تیری بارگاہ میں قبول ہے، تو میری روح قبض کرلے۔ یہ کہہ کر وہیں گر کر جان دے دی۔
بعد میں حضرت علیؓ نے اسے غسل دیا اور جنت البقیع میں دفن کردیا۔
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہی آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے