27 total views, 1 views today

مال، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن شریعتِ اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ صرف جائز و حلال طریقہ سے ہی مال کمائے۔ کیوں کہ قیامت کے دن ہر شخص کو مال کے متعلق اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہوگا کہ کہاں سے کمایا یعنی وسائل کیا تھے، اور کہاں خرچ کیا، یعنی مال سے متعلق حقوق العباد یا حقوق اللہ میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی؟
مال کی نعمت اور ضرورت ہونے کے باوجود خالق کائنات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو متعدد مرتبہ فتنہ ،دھوکے کا سامان اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مال ودولت کے حصول کے لیے کوئی کوشش ہی نہ کریں۔ کیوں کہ طلبِ حلال رزق اور بچوں کی حلال رزق سے تربیت کرنا خود دین ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ دنیاوی فانی زندگی گزاریں اور اخروی زندگی کی کامیابی کو ہر حال میں ترجیح دیں۔ کہیں کوئی معاملہ درپیش ہو، تو اخروی زندگی کو داؤ پرلگانے کے بجائے فانی دنیاوی زندگی کے عارضی مقاصد کو نظر انداز کردیں۔ نیز شک وشبہ والے امور سے بچیں۔
اِن دنوں حصولِ مال کے لیے ایسی دوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اکثر لوگ اس کا بھی اہتمام نہیں کرتے کہ مال حلال وسائل سے آرہا ہے، یا حرام وسائل سے؟ بلکہ کچھ لوگوں نے تو اَب حرام وسائل کو مختلف نام دے کر اپنے لیے جائز سمجھنا شروع کردیا ہے۔ حالاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو مشتبہ چیزوں سے بھی بچنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفا کرے، جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو۔ کیوں کہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی)
نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشادہے کہ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں! (مسلم)
ہمارے معاشرہ میں جو بڑے بڑے گناہ عام ہوتے جارہے ہیں، ان میں سے ایک بڑا خطرناک اور انسان کو ہلاک کرنے والا گناہ سود ہے۔ سود کیا ہے؟ وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپے جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپیہ وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو ’’ربا‘‘ اور ’’سود‘‘ کہلاتا ہے، جس کو انگریزی میں “Interest” یا “Usury” کہتے ہیں۔ جس وقت قرآنِ کریم نے سود کو حرام قرار دیا، اس وقت عربوں میں سودکا لین دین متعارف تھا، اور اُس وقت سود اُسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زیادہ رقم کے مطالبہ کے ساتھ قرض دیا جائے۔ خواہ لینے والا اپنے ذاتی اخراجات کے لیے قرض لے رہا ہو یا پھر تجارت کی غرض سے، نیز وہ “Simple Interest” ہو یا “Compound Interest” یعنی صرف ایک مرتبہ کا سود ہو یا سود پر سود۔ مثلاً زید نے بکر کو ایک ماہ کے لیے 100 روپیہ بطورِ قرض اس شرط پر دیا کہ وہ 110 واپس کرے، تو یہ سود ہے۔ البتہ قرض لینے والا اپنی خوشی سے قرض کی واپسی کے وقت اصل رقم سے کچھ زائد رقم دینا چاہے، تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ ایسا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، لیکن پہلے سے زائد رقم کی واپسی کا کوئی معاملہ طے نہ ہوا ہو۔ بینک میں جمع شدہ رقم پر پہلے سے متعین شرح پر بینک جو اضافی رقم دیتا ہے وہ بھی سود ہے۔
٭ سود کی حرمت:۔ سود کی حرمت قرآن و حدیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (سورۂ البقرہ 275)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ (سورۂ البقرہ 276)
جب سود کی حرمت کاحکم نازل ہوا، تو لوگوں کا دوسروں پر جو کچھ بھی سود کا بقایا تھا، اس کو بھی لینے سے منع فرمادیا گیا: ’’سود کا بقایا بھی چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو۔‘‘ (سورۂ البقرہ 278)
٭ سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کا اعلانِ جنگ:۔ سود کو قرآنِ کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآنِ کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیے ہیں۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے، تو تم اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ (سورۂ البقرہ 278 ۔ 279)
سود کھانے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو کسی اور بڑے گناہ مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو، تو خلیفۂ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اُڑا دے۔ (تفسیر ابن کثیر)
٭ سود کھانے والوں کے لیے قیامت کے دن کی رسوائی وذلّت:۔ اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والوں کے لیے کل قیامت کے دن جو رسوائی وذلت رکھی ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں کچھ اس طرح فرمایا: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ (قیامت میں) اٹھیں گے، تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو۔‘‘ (سورۂ البقرہ 275)
سود کی بعض شکلوں کو جائز قرار دینے والوں کے لیے فرمانِ الٰہی ہے: ’’یہ ذلت آمیز عذاب اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ’’بیع‘‘ بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے۔ حالاں کہ اللہ نے ’’بیع‘‘ یعنی خرید وفروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (سورۂ البقرہ 275)
٭ سود کھانے سے توبہ نہ کرنے والے لوگ جہنم میں جائیں گے:۔ لہٰذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا، تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے اور اس کی (باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیاتو ایسے لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (سورۂ البقرہ 275)
غرض یہ کہ سورۂ البقرہ کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہلاک کرنے والے گناہ سے سخت الفاظ کے ساتھ بچنے کی تعلیم دی ہے، اور فرمایاکہ سود لینے اور دینے والے اگر توبہ نہیں کرتے ہیں، تو وہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں، نیز فرمایا کہ سود لینے اور دینے والوں کو کل قیامت کے دن ذلیل ورسوا کیا جائے گا اور وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
٭ سود کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات:۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سود کی حرمت کا اعلان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: (آج کے دن) جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا، اور سب سے پہلا سود جو میں چھوڑتا ہوں وہ ہمارے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ وہ سب کا سب ختم کردیا گیا ہے۔ چوں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سود کی حرمت سے قبل لوگوں کو سود پر قرض دیا کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایاکہ آج کے دن میں اُن کا سودجو دوسرے لوگوں کے ذمہ ہے وہ ختم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، باب حجۃ النبی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! وہ سات بڑے گناہ کونسے ہیں (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں)؟ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرما: ’’شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، (کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ (بخاری ومسلم)
حضورِ اکرمؐ نے سود لینے اور دینے والے، سودی حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔ سود لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی لعنت کے الفاظ حدیث کی ہر مشہور و معروف کتاب میں موجود ہیں۔ (مسلم، ترمذی، ابوداود، نسائی)
٭ بینک سے قرض (Loan) بھی عین سود ہے:۔ تمام مکاتب فکر کے 99.99 فی صد علما اس بات پر متفق ہیں کہ عصرِ حاضر میں بینک سے قرض لینے کا رائج طریقہ اور جمع شدہ رقم پر “Interest” کی رقم حاصل کرنا یہ سب وہی سود ہے جس کو قرآنِ کریم میں سورۂ البقرہ کی آیات میں منع کیا گیا ہے، جس کے ترک نہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے، اور توبہ نہ کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن رسوائی وذلت ہے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔ عصرِ حاضر کی پوری دنیا کے علما پر مشتمل اہم تنظیم ’’مجمع الفقہ الاسلامی‘‘ کی اس موضوع پر متعدد میٹنگیں ہوچکی ہیں، مگر ہر میٹنگ میں اس کے حرام ہونے کا ہی فیصلہ ہوا ہے۔ برصغیر کے جمہور علما بھی اس کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔ فقہ اکےڈمی، نیودہلی کی متعدد کانفرنسوں میں اس کے حرام ہونے کا ہی فیصلہ ہوا ہے۔ مصری علما جو عموماً آزاد خیال سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی بینک سے موجودہ رائج نظام کے تحت قرض لینے اور جمع شدہ رقم پر “Interest” کی رقم کے عدم جواز پر متفق ہیں۔ پوری دنیا میں کسی بھی مکتب فکر کے دارالافتا نے بینک سے قرض لینے کے رائج طریقہ اور جمع شدہ رقم پر “Interest” کی رقم کو ذاتی استعمال میں لینے کے جواز کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
٭ عصر حاضر میں ہم کیا کریں؟
٭ اگر کوئی شخص بینک سے قرض لینے یا جمع شدہ رقم پر سود کے جائز ہونے کو کہے، تو پوری دنیا کے 99.99 فی صد علما کے مؤقف کو سامنے رکھ کراس سے بچیں۔
٭ اس بات کو اچھی طرح ذہن میں رکھیں کہ علمائے کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بینک سے قرض لینے اور بینک میں جمع شدہ رقم پر “Interest” کی رقم کے حرام ہونے کا فیصلہ آپ سے دشمنی نکالنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کے حق میں کیا ہے۔ کیوں کہ قرآن وحدیث میں سود کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآنِ کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیے ہیں۔
٭ جس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکے امتی ہونے پر ہم فخر کرتے ہیں، اس نے سود لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نیز شک وشبہ والی چیزوں سے بھی بچنے کی تعلیم دی ہے۔
٭ بینک سے قرضہ لینے سے بالکل بچیں، دنیاوی ضرورتوں کو بینک سے قرضہ لیے بغیر پورا کریں۔ کچھ دشواریاں، پریشانیاں آئیں تو ان پر صبر کریں۔
٭ اگر آپ کی رقم بینک میں جمع ہے، تو اس پر جو سود مل رہا ہے، اس کو خود استعمال کیے بغیر عام رفاہی کاموں میں لگا دیں، یا ایسے اداروں کو دے دیں جہاں غربا و مساکین یا یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے۔
٭ اگر کوئی شخص ایسے ملک میں ہے جہاں واقعی سود سے بچنے کی کوئی شکل نہیں، تو اپنی وسعت کے مطابق سودی نظام سے بچیں۔ ہمیشہ اس سے چھٹکارا کی فکر رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہیں۔
٭ سود کے مال سے نہ بچنے والوں سے درخواست ہے کہ سود کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس لیے کم از کم سود کی رقم کو اپنے ذاتی مصاریف میں استعمال نہ کریں بلکہ سرکاری بینک سے حاصل شدہ سود کی رقم سے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انکم ٹیکس ادا کردیں۔ کیوں کہ مفتیانِ کرام کی ایک جماعت نے سود کی رقم سے انکم ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔
٭ جو حضرات سود کی رقم استعمال کرچکے ہیں، وہ پہلی فرصت میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں اور آئندہ سود کی رقم کا ایک پیسا بھی نہ کھانے کا عزمِ مصمم کریں اور سود کی مابقیہ رقم کو فلاحی کاموں میں لگادیں۔
٭ اگر کسی کمپنی میں صرف اور صرف سود پر قرضہ دینے کا کاروبار ہے، کوئی دوسرا کام نہیں ہے، تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی بینک میں سود پر قرضہ کے علاوہ جائز کام بھی ہوتے ہیں، مثلاً بینک میں رقم جمع کرنا وغیرہ تو ایسے بینک میں ملازمت کرنا حرام نہیں۔
٭ اگر کوئی شخص سونے کے پرانے زیورات بیچ کر سونے کے نئے زیورات خریدنا چاہتا ہے، تو اس کو چاہیے کہ دونوں کی الگ الگ قیمت لگواکر اس پر قبضہ کرے، اور قبضہ کرائے۔ نئے سونے کے بدلے پرانے سونے اور فرق کو دینا جائز نہیں۔ کیوں کہ یہ بھی سود کی ایک شکل ہے۔
’’ایک اہم نکتہ‘‘:۔ دنیا کی بڑی بڑی اقتصادی شخصیات کے مطابق موجودہ سودی نظام سے صرف اور صرف سرمایہ کاروں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے، نیز اس میں بے شمار خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا ا ب اسلامی نظام کی طرف مائل ہورہی ہے۔
’’نوٹ‘‘:۔ بعض مادہ پرست لوگ سود کے جواز کے لیے دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں وارد سود کی حرمت کا تعلق ذاتی ضرورت کے لیے قرض لینے سے ہے، لیکن تجارت کی غرض سے سود پر قرض لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بعض مادہ پرست لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں جو سود کی حرمت ہے، اس سے مراد سود پر سود ہے، لیکن “Single” سود قرآن کے اس حکم میں داخل نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن میں کسی شرط کو ذکر کیے بغیر سود کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے، تو قرآن کے اس عموم کو مختص کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی واضح دلیل درکار ہے، جو قیامت تک پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے خیر القرون سے آج تک کسی بھی مشہور مفسر نے سود کی حرمت والی آیت کی تفسیر اس طرح نہیں کی، نیز قرآن میں سود کی حرمت کے اعلان کے وقت ذاتی اور تجارتی دونوں غرض سے سود لیا جاتا تھا، اسی طرح ایک مرتبہ کا سود یا سود پر سود دونوں رائج تھے۔ 14 سو سال سے مفسرین ومحدثین و علمائے کرام نے دلائل کے ساتھ اسی بات کو تحریرفرمایا ہے۔ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ قرآنِ کریم میں شراب پینے کی حرمت اس لیے ہے کہ اُس زمانہ میں شراب گندی جگہوں میں بنائی جاتی تھی۔ آج صفائی ستھرائی کے ساتھ شراب بنائی جاتی ہے۔حسین بوتلوں میں اور خوبصورت ہوٹلوں میں ملتی ہے۔ لہذا یہ حرام نہیں۔ ایسے دنیا پرست لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے، آمین ثم آمین!
……………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے