124 total views, 1 views today

الکحل (Alcohol) ایک کیمیکل کمپوزیشن یعنی ایک فارمولہ ہے جو “Hydroxyl” سے بنتا ہے، جس میں نشہ ہوتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ شراب (جس کو عربی میں خمر اور انگریزی میں ’’وائن‘‘ کہتے ہیں) کا پینا حرام ہے، خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ پہلے شراب عموماً بعض چیزوں مثلاً انگور کو سڑاکر بنائی جاتی تھی، جس کو دیسی شراب کہتے ہیں۔ اب نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی شراب تیار ہوتی ہے، جس کو ’’انگریزی شراب‘‘ کہتے ہیں، لیکن شرعی اعتبار سے دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرے اس کا پینا یا اس کا کاروبار کرنا یا ایسی کمپنی کا شیئر خریدنا یا اس میں ملازمت کرنا جو شراب بناتی ہے، سب حرام ہے۔
بعض حضرات جو شراب پینے کے عادی بن جاتے ہیں، اُن کو تھوڑی مقدار میں شراب نشہ نہیں کرتی۔ اس کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ کوئی چیز پیے اور اس سے نشہ ہو، تو وہ شراب کے حکم میں ہے۔
شراب پینے کے بعض فوائد ہوسکتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس کو پینے میں نقصانات بہت زیادہ ہیں، جیساکہ ہم اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کے احوال دیکھتے ہیں جو شراب پینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ نیز جس ذات نے انس وجن اور ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس نے شراب پینے سے تمام انسانوں کو منع کیا ہے، یعنی شراب پینے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ نیز شراب پینا انسان کو ہلاک کرنے والے سات بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔
اب بعض انگریزی دواؤں خاص کر ’’لائف سیونگ ڈرگز‘‘ میں دواؤں کی حفاظت یا بعض بیماریوں کے علاج کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ تیار کردہ ’’الکحل‘‘ ملایا جاتا ہے، مثلاً سانس کی زیادہ تر دواؤں میں الکحل ہوتا ہے۔ ’’ہومیوپیتھی‘‘ کی اکثر دواؤں میں بھی الکحل کا استعمال ہوتا ہے، جو پینے والی شراب سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ اسی طرح ’’پرفیوم‘‘ میں بھی ’’الکحل‘‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی دوائیں یا ’’پرفیوم‘‘ جن میں میں ’’الکحل‘‘ ہوتا ہے، کیا ان کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
علمائے کرام نے تحریر کیا ہے کہ اگر ایسی دواؤں سے بچنا ممکن ہے، جن میں الکحل ہے یعنی ان کا متبادل مارکیٹ میں موجود ہے، تو استعمال نہ کریں۔ ورنہ ایسی دوائیں استعمال کی جاسکتی ہیں جن میں ’’الکحل‘‘ موجود ہو۔ کیوں کہ وہ مقدار میں بہت ہی کم ہوتا ہے، اور وہ پینے والے الکحل سے تھوڑا مختلف بھی ہوتا ہے، جیساکہ ماہرین سے معلوم کیا گیا، نیز اُس کا پینا مقصود نہیں ہوتا اور نہ ہی ان سے نشہ آتا ہے۔
اسی طرح وہ ’’الکحل‘‘ والی دوائیں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، جو بدن کی صفائی وغیرہ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، مثلاً انجکشن لگانے سے قبل اور بعد میں، نیز خون نکالنے سے قبل یا بعد میں، جو سیکنڈوں میں اُڑ جاتا ہے۔ سینیٹائزر کا بھی یہی حکم ہے کہ اس کا استعمال جائز ہے۔
’’ہومیوپیتھی‘‘ کی اکثر دواؤں کی استقامت اور اس کی حفاظت کے لیے بھی ’’الکحل‘‘ کا استعمال ہوتا ہے، لیکن وہ مقدار میں بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ’’ہومیوپیتھی‘‘ دوائیں چند قطروں پر ہی مشتمل ہوتی ہیں جو چینی، پانی اور دودھ سے بنے “Pills” میں ڈالی جاتی ہیں۔ اُن چند قطروں میں بہت معمولی مقدار میں وہ ’’الکحل‘‘ ہوتا ہے، جو پینے والے الکحل سے بہت زیادہ ہلکا ہوتا ہے، جیسا کہ ماہرین سے معلوم کیا گیا۔ اس لیے علمائے کرام نے کہا کہ ’’ہومیوپیتھی‘‘ دوائیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔
رہا معاملہ ’’پرفیوم‘‘ کا، تو اس کے استعمال سے بچنا ممکن ہے۔ لہٰذا ایسے پرفیوم کے استعمال سے بچنا ہی بہتر ہے جن میں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ تیارکردہ ’’الکحل‘‘ ہوتا ہے۔ کیوں کہ بغیر الکحل والے عطر بڑی مقدار میں آسانی سے ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ ہاں، علما نے تحریر کیا ہے کہ ’’پرفیوم‘‘ میں استعمال ہونے والے الکحل، جو “Hydroxyl” سے بنتا ہے، کی حرمت واضح طور پر قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ علمائے کرام کا اجتہاد ہے۔
نیز الکحل والے ’’پرفیوم‘‘ کا استعمال بہت عام ہوگیا ہے، جسے عموم بلویٰ کہا جاتا ہے، لہٰذا الکحل والے پرفیوم (Perfume) کا استعمال کرنا حرام تو نہیں ہے، لیکن بچا جائے، تو بہتر ہے۔
…………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے