47 total views, 3 views today

دین ایک مصطلح ہے اور مصطلح کا متبادل کسی دوسری زبان میں بہت کم ہی ہوتا ہے۔البتہ اس کی تشریح کی جاتی ہے جس سے دوسری زبان بولنے والوں کو اس اصطلاح کی سمجھ آجائے۔ کیوں کہ اصطلاح ’’اتفاق قوم علی وضع لفظ بازا معنی‘‘ یعنی کسی قوم کا کسی لفظ پر کسی خاص معنی کے لیے وضع کرنے پر اتفاق کا نام ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ وہ اصطلاح صرف اسی قوم کو سمجھ آتی ہے، دیگران کے لیے اس کی تشریح کرنی پڑتی ہے۔ہاں، اگر کسی نے اس قوم کی زبان کو سیکھ لیا ہو ان کے درمیان رہ کر یا ان کی زبان باقاعدہ پڑھ کر، تو پھر وہ بغیر کسی تشریح کے اس اصطلاح کو سمجھ لیتا ہے۔ہاں، یہ ہے کہ کسی چیز کے لیے ایک قوم کی اصطلاح ایک ہو اور دوسری قوم کی اصطلاح دوسری،تو پھر اس دوسری قوم کو سمجھانے کے لیے ان کا مصطلح بطورِ متبادل کے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن وہاں کبھی کبھار ایک مشکل یہ پیدا ہوتی ہے کہ کیا ہر دونوں کا ان دو مصطلحات کے حوالے سے تصور ایک ہے؟اگر ایسا نہیں، تو پھر بھی تشریح لازمی ہے۔مثلاً اللہ کا نام ہے۔اللہ یہ علَم ہے اس ذات کا۔ فارسی زبان میں وہ لوگ خدا کہتے ہیں جو مخفف ہے ’’خود آ‘‘ کا۔ اور انہوں نے یوں وضع کیا کہ اللہ کسی اور کی وجہ سے وجود میں نہیں آیا،بلکہ وہ از خود موجود تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کو ہم واجب الوجود کا کسی حد تک متبادل کہہ سکتے ہیں جس طرح آج کے لکھنے والوں کے الفاظ ہوتے ہیں، قدرت کی شان نرالی ہے، یا قدرت نے ایسا کیا، یا قدرت پھر ایسا کرتا ہے، یا انتقام لیتا ہے وغیرہ۔ تو اگر بندہ اللہ کے تصور کو مانتا ہے، تو اس کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ قدرت اس نے بطور متبادل کے اللہ کے لیے استعمال کیا کہ وہ قادرِ مطلق ہے۔ اور اگر اس کا کسی خالق ومالک پر عقیدہ ہی نہیں، تو پھر تو قدرت سے اس کی مراد ہے کائنات کا یہ طبیعی مستحکم نظام جو اس کے نزدیک ازخود وجود میں بھی آیا، اور از خود چلتا بھی ہے۔کبھی وہ لوگ فطرت کے لفظ کا استعمال کرتے ہیں کہ فطرت اور فطرت کے قوانین یا طبیعی قوانین۔ تو اس میں بھی یہ سابقہ تفصیل ہے کہ ایک ماننے والے کے حوالے سے فطرت اور فطرت کے قوانین سے مراد اس کی یہ ہے کہ وہ قوانین جو اللہ نے پیدا کیے اور ایسے مستحکم پیدا کیے کہ ان پر نتائج مرتب ہوتے ہیں اور اس جاری وساری اور مشاہد ترتب کی وجہ سے اس کی نسبت ہی اس کو کی گئی ہے عام تکلم میں۔ لیکن اگر وہ اللہ پر عقیدہ ہی نہیں رکھتا، تو وہ پھر اس کی مراد وہی نظامِ کائنات ہے جو از خود وجود میں بھی آیا اور ازخود چل بھی رہا ہے ۔
اس طرح اللہ کے ’’گاڈ‘‘ (God) بولنا جو انگریزی میں بولا جاتا ہے، تو اگر اساسی تصور وہی ہے جو مسلمانوں کا اللہ کے حوالے سے ہے، تو یہ بطور متبادل استعمال ہوسکتا ہے اور ہوتا بھی ہے۔ لیکن اگر عمیق نظر سے دیکھا جائے، تو وہ اقانیم ثلاثہ (Trinity) کے اساس پر اللہ، مریم اور عیسیٰ علیہ السلام یا اللہ، جبرئیل اور مریم تینوں کو یا تو ’’گاڈ‘‘ مانتے ہیں، یا پھر تینوں کے مجموعے کو گاڈ مانتے ہیں وغیرہ۔ تو پھر وہاں سمجھانا لازمی ہے کہ خدا باپ ہے، نہ بیٹا۔ جز ہے نہ کل اور نہ مرکب ہی ہے۔
آج کل ایک اور بات کی جارہی ہے کہ
کیا دین تہذیب ہے؟
کیا اس کو تہذیب کہہ سکتے ہیں؟
یا کیا اس سے تہذیب جنم لیتی ہے ؟
جیسے کہتے ہیں مغربی تہذیب، مشرقی تہذیب، باملی تہذیب، میسی پوٹینیم تہذیب، رومی تہذیب یا گندھارا تہذیب۔ اس طرح ہندو تہذیب،سکھ تہذیب وغیرہ۔ یعنی تہذیب کا علاقہ اور منطقہ سے بھی تعلق ہوتا ہے اور دین ومذہب سے بھی۔
حکما کہتے ہیں کہ بعض اوقات کلچر یعنی ثقافت اور سولائزیشن یعنی تہذیب مترادف بھی استعمال ہوتے ہیں، اور بعض اوقات متبادل بھی۔ جب کہ ہر دو کا فرق یہ ہے کہ کلچر مقامی اور علاقائی ہوتا ہے، اور سولائزیشن یعنی تہذیب نسبتاً وسیع یعنی ایک سے زیادہ منطقوں اور علاقوں میں مشترک ہوتا ہے۔ ابتداً کلچر ایک جگہ اپنایا جاتا ہے، پھر وہ وہاں سے نکل کر دیگر علاقوں تک بھی پھیل جاتا ہے اور یوں تہذیب بن جاتا ہے، جب کہ تہذیب اپنی وضع میں آفاقی یا عالمی ہے، تو وہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔مثلاً انسانوں کے لیے بدن ڈھانپنا یعنی کپڑے پہننا، تو یہ تہذیب ہے اور ہر جگہ ہے۔ اس کا وقت اور علاقے سے تعلق نہیں ہوتا، یعنی یہ کافی حد تک لازمانی اور لامکانی ہے۔ البتہ اس کی عملی شکل مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہے۔یعنی کپڑے کی جوڑ اور ساخت کیسی ہو؟ تو یہ مختلف خطوں میں مختلف ہوتی ہے۔
بت پرستی عربوں کا کلچر اور ثقافت تھی، یعنی یہ کہ خاص قسم کی مورتی بنائی جائے، کسی درخت کو معبود بنایا جائے وغیرہ،لیکن شرک تہذیب تھی کہ مختلف خطوں میں مختلف چیزوں کی عبادت اور پوجا کی جاتی اور اب بھی کی جاتی ہے۔بعض جگہوں پر اجرامِ فلکیہ کو پوجا جاتا ہے، کہیں جنات اور شیاطین کی پوجا کی جاتی ہے اور کہیں فرشتوں کا پوجا جاتا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک تہذیب میں مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے اہلِ مصر کو دیکھا کہ وہ بچھڑے کی پوجا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سے تقاضا کیا: ’’اجعل لنا الہا کما لہم آلہۃ‘‘ کہ ہمارے لیے ایک (مرئی جسم)معبود بناؤ جیسا کہ ان لوگوں کے لیے ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:’’انکم قوم تجہلون۔‘‘ یعنی آپ ایک قوم ہیں جو جہالت کرتے ہیں۔
پھر مصر میں رہتے ہوئے ان کی اس ثقافت سے متاثر ہوئے تھے اور یہ انسانوں کی تاریخ رہی ہے کہ جن کا غلبہ ہو تعداد کے حوالے سے، یا قوت ودولت کے حوالے سے ان کی نقل اتارتے ہیں کہ وہ ان سے مرعوب ہوتے ہیں۔ پھر سامری نے ا ن کے دماغ کی تختی پر لکھی ہوئی اس مرعوبیت کو ایکسپلائٹ کرکے ان کے لیے سونے کا بچھڑا بنایا، بلکہ اس کو سہ آتشہ کرکے بنایا کہ یہ متاثر ہوئے تھے مصری کلچر سے،جو بچھڑے بناکر ان کی پوجا کرتے۔ جب کہ زندہ بچھڑے کی نہ کرتے کہ اس کو عبادت کے وقت سامنے باندھ کے رکھتے، تو یہ تو خدا کو باندھنے کے مترادف تھا اور بندھا ہوا خدا اگر اپنے آپ کو نہیں چھڑا سکتا تو بندگی کرنے والے کا کیا بھلا کرے گا؟ اور اگر اس طرح چھوڑتے، تو وہ تو ایک جگہ رکتا نہیں، وہ تو بدکتا اور پھدکتا ہے۔ تو ادھر تم سامنے کھڑے ہو ئے بندگی کرنے اور ادھر خدا بدک کر بھاگ گیا، تو مرئی تو نہیں رہا اور سارا تصور ہی مرئی خدا کے حضور کا تھا، لیکن بدبخت یہ نہ سوچتے تھے کہ اس میں پھر بھی زندگی تو ہے، لیکن اس کی مورتی میں تو سرے سے زندگی ہی نہیں۔ وہ کیا مشکل کشائی کرے گا؟
عربوں میں بت پرستی شام سے آئی تھی۔ خزاعہ قبیلہ کے رئیس عمرو بن ربیعہ بن حارثہ بن عمرو الازدی جو عمرو بن لُحیّ کے نام سے مشہور تھا، اور جس نے جرہم قبیلہ کو مکہ سے بے دخل کردیا تھا ۔یہ بیمار تھاکسی نے اسے بلقاء جو شام میں ہے وہاں کے ایک گرم چشمے میں غسل کرنے کاکہا۔ اس نے غسل کیااور ٹھیک ہوگیا۔ اس نے وہاں کے لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھا، تو ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کے وسیلہ سے بارش بھی مانگتے ہیں، اور ان کے وسیلہ سے دشمن پر ظفریاب بھی ہوتے ہیں۔ اب اس کاتو کوئی خاص عقیدہ نہ تھا، اگر چہ اپنے آپ کو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بھی مانتا تھا، اور اس کی اتباع کی بھی بات کرتا، لیکن کرتا کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنی صحت کو بھی ان بتوں کا کرشمہ سمجھ گیا۔ حالاں کہ گرم چشمہ تو گرم ہی تھا، گندھک کی وجہ سے۔ اور گندھک ہی خارش کا علاج ہے۔ عرب میں خشک سالی بھی ہوتی، لہٰذا اس نے ان سے چند بت مانگے اور ساتھ لے آیا، اور ان کو بیت اللہ کے اردگرد نصب کیا، اور لوگوں کو ان کی پوجا کرنے کی دعوت دے دی، تاآنکہ قرب وجوار میں کیا دور دور تک یہ پھیلتا گیا کہ لوگ بیت اللہ تو آتے رہتے، تو ساتھ یہ تصورات بھی لے جاتے۔ یوں یہ کلچر شام سے مکہ اور وہاں سے دوسرے علاقوں میں پھیل کرایک قسم کی تہذیب بن گیا۔ بعدمیں ایک عرب ابوکبشہ جو رسولِ پاکؐ کی والدہ کی طرف سے کوئی پرنانا لگتے تھے، اس نے ایک تجارتی سفر میں شام کے ایک علاقے میں شعریٰ ستارے کی پوجا کرتے دیکھا۔ وہ بت پرستی کو پسند نہیں کرتا تھا کہ زمین کی مٹی یا پتھر یا لکڑی اور درخت کی پوجا عجیب لگتی ہے۔لیکن ستارہ جو بہت اونچا بھی ہے اور روشن بھی ہے، اس کی عبادت اس کے ذہن میں سما گئی اور واپس آکے اس کی طرف دعوت دینے لگے ۔ چوں کہ یہ ایک نیا تصور تھا، جب کہ مروّج کلچر بلکہ تہذیب توبتوں کی پوجا تھی، لہٰذا وہ استعارہ بن گیا کسی بھی نئے تصور لانے والے کے لیے۔ اور یوں رسولِ پاکؐ جب توحید کی دعوت دینے لگے، تو کچھ لوگ اسی استعارہ کے حوالے سے آپؐ کو ’’ابن ابی کبشہ‘‘ کہتے کہ ابوکبشہ کا بیٹا ہے کہ نیا تصور لے آیا ہے ۔
عربوں میں بعض قبائل کا یہ بھی کلچر تھاکہ نو پیدا بچیوں کو زندہ درگور کرتے۔ شادی کے حوالے سے بیویوں کی کوئی تعداد محددّ نہیں تھی، اور نہ بیویوں کی کوئی معاشرتی حیثیت ہوتی، بلکہ ان کو استعمال کی چیزوں کی طرح ایک چیز سمجھتے تھے۔ ہاں، ماں کے حوالے سے بڑے حساس تھے کہ اہم فیصلہ بھی ماں کے مشورے سے کرتے اور ماں کو حق تھا کہ اولاد کے کسی بھی فیصلے پر اعتراض کرکے رد کردیتی اور وہ رد ہوجاتا ۔ یعنی ایک ظاہر تضاد کہ عورت بیوی ہو، تو اتنی بے بس اور ماں بنے، تو اتنی طاقتور۔ شراب اور جوا ان کی ثقافت کا حصہ تھا۔
رسولِ پاکؐ تشریف لائے، تو کلچر اور تہذیب کے گندے رواجات کو چیلنج کیا۔ صحیح رواج کو ویسے ہی رکھا اور تبھی تو فقہ اور قانون کے ثانوی مآخذ اور اصول میں عرف،عادت اور رسم ورواج ایک ماخذ ہے یعنی اس کا اچھا، اچھا ہے اور اس کا برا برا، بلکہ جس برے رواج میں اصلاح کی گنجائش تھی، رسولِ پاکؐ نے اس کی اصلاح کردی۔
اب دین و مذہب نے کلچر اور تہذیب کی برائیوں کو نہ صرف یہ کہ چیلنج کیا بلکہ اس کا متبادل دیا، تو کلچر کا متبادل کلچر بنا اور تہذیب کا متبادل تہذیب۔ اور چوں کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ کلچر مقامی ہوتا ہے، اور تہذیب عالمی ہوتا ہے۔ اور اسلام ایک آفاقی،عالمی اور دائمی دین ہے، تو یہ کلچر نہیں تہذیب ہے۔ اور اس تہذیب میں کوئی ایک بھی چیزبری نہیں، نہ اس میں برائی کے آملنے کی گنجائش ہے۔
لغتاً کلچر کاشت کاری کو بھی کہتے ہیں اور فہم وذکا کو بھی، مثقّف تہذیب یافتہ کوکہتے ہیں۔ اس طرح مزید ریفائن کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ ذہنی اور فکری تربیت کو بھی ثقافت کہتے ہیں جب کہ سولائزیشن یا تہذیب لغتاً تربیت، اصلاح، تصحیح اور ری فائن کرنے کو کہتے ہیں۔
دین اور مذہب میں کلچر اور تہذیب کئی سارے رسوم ورواجات ختم کرواکے اس کی جگہ دین اور مذہب کی تعلیمات لے لیتے ہیں، اور یوں وہ دینی ثقافت اور دینی تہذیب بن جاتے ہیں۔ ہاں، یہ ہے کہ بہت سارے رواج جو کسی خطے میں رائج ہوتے ہیں، چاہے غلط بھی ہوں، لوگ اس کو کرتے رہتے ہیں جہالت کی وجہ سے، کہ ان کو پتا نہیں یا ابھی تک ان کو معلوم نہ ہوسکا ۔
دین جس کی اساس عقیدہ ہے اور پھر اخلاق واعمال اس عقیدے کا تقاضا ہیں، سو ہم اس کو نظریہ کہتے ہیں۔ جب کہ نظریہ تو نظر سے پیدا ہوتا ہے یعنی فکر ونظر کی اساس پر ایک سے زیادہ تصورات کا ایک سیٹ نظریہ کہلاتا ہے، جب کہ الہامی دین کی اساس فکر و نظر اور تصورات نہیں، بلکہ وحی ہے اور نظریہ بمعنی عقیدہ کے اساس پر اخلاق واعمال ہی اس کے حاملین کی ثقافت اور تہذیب بن جاتے ہیں۔
ہم نے قومیت کے تین تصورات پیش کیے ہیں۔
٭ ایک تو نسلی اعتبار سے جو زیادہ مشہور ہے۔
٭ دوسرا سیاسی اور انتظامی حوالے سے جو آج معمول ہے کہ ایک ریاست کے باسی جو مختلف نسلوں سے ہوتے ہیں، وہ ایک قوم کہلاتے ہیں جیسے پاکستانی یا امریکی وغیرہ۔
٭ تیسرا عقیدے کی اساس پر جیسے مسلمان۔
’’فان یکفر بہا ھؤلاء فقد وکلنا بہا قوما لیسوا بہا بکفرین۔‘‘ سو اگر یہ لوگ(قریش جو رسولِ پاکؐ کی نسلی قوم سے تھے) اس (عقیدے) سے انکار کرتے ہیں، تو ہم نے تو اس کو ایک ایسی قوم (صحابہ کرام ؓجو مختلف نسلوں اور مختلف خطوں سے تھے )کے حوالے کرچکے ہیں، جو اس سے انکار کرنے والے نہیں ۔
تو دین کو ثقافت بھی ماننا ہے،تہذیب بھی اور قومیت بھی۔ ’’ادخلوا فی السلم کافۃً ولا تتبعواخطوات الشیطان ۔‘‘
یاد رہے کہ انسانوں میں جو چیز ساری دنیا میں کامن پائی جاتی ہے، اس کو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ’’نوامیس الٰہیہ‘‘ یعنی اللہ کے راز کہتا ہے۔ ورنہ اس زمانے میں جب اتنی خلط ملط اور رفت وآمد بھی نہیں تھی ہر جگہ کیسے پہنچی؟ اس کی بنیاد پر انسانوں نے پھر ان نوامیس کو اپنانے کے مختلف اطوار اپنائے جو طریقہ مقامی رہا، وہ کلچر اور جو عالمی بنا وہ تہذیب کہلایا۔ حتی کہ یہ نوامیس دیگر مخلوقات میں بھی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام سے فرعون نے پوچھا :
’’فمن ربکما یموسیٰ؟‘‘ سو کون ہے رب تم دونوں کا اے موسیٰ!
تو فرمایا: ’’ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ہدیٰ۔‘‘ ہمارا رب وہ ذات ہے جس نے ہر شے کو اس کا خلق(شکل)دیا، پھر اس کو راہ دکھائی(یعنی اس کو طبیعت دی)۔
سو ہم جانتے ہیں کہ کتے دنیا میں جہاں بھی ہوں، وہ بھونکتے ہوں گے، جب کہ گھوڑے ہنہناتے ہوں گے۔ اور اللہ نے فرمایا: ’’سبح اسم ربک الاعلیٰ الذی خلق فسوی والذی قدر فہدی ۔‘‘ تسبیح کرو اپنے رب کے نام کی جو اعلیٰ ہے، وہ جس نے پیدا کیا (ہر قسم مخلوق کو)اور اس کو برابر کیا(یعنی ایک خاص سٹرکچر دی) اور وہ جس نے قوت دی اور را ہ دکھائی(یعنی طبیعت دی)۔
سو عالمی طبیعت تہذیب کی مبنی ہوتی ہے، اس کو اپنانے کے بعد ایک خاص خطہ کا طریقہ ’’ثقافت‘‘ ٹھہرا، یعنی انسانوں میں کہ تربیت ان کی کی جاسکتی ہے اور مطلوب بھی ہے۔عالمی سے مراد ایک سے زیادہ خطے ہیں، جن میں مختلف قومیتیں آباد ہوں۔ اور قومیت بمعنی عام نسل، زبان اور خطہ پر مبنی ہے، جو خاص طور، طریقے زندگی کے اپنا لیتے ہیں۔
……………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے