184 total views, 2 views today

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر جگہ لوگ خاص کر غریب اور مزدور طبقہ بہت پریشان ہے۔ اس وقت مدد نہ کی گئی، تو بھوک مری پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا مالدار حضرات کو چاہیے کہ وہ اس مرتبہ صدقۂ عیدالفطر کی ادائیگی پونے دو کیلو گیہوں کے بجائے ساڑھے تین کیلو چاول یا کھجور یا کشمش کی قیمت سے ادا کرنے کی کوشش کریں،تاکہ غریب لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد ہوسکے۔
٭ صدقۂ فطر کیا ہے:۔ فطر کے معنی روزہ کھولنے یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس صدقہ کا نام صدقۂ فطر ہے، جو ماہِ رمضان کے ختم ہونے پر روزہ کھل جانے کی خوشی اور شکریہ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ نیز صدقۂ فطر رمضان کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا کفارہ بھی بنتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’صدقۂ فطر روزہ دار کی بے کار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔‘‘ (ابو داود، ابن ماجہ )
٭ صدقۂ فطر مقرر ہونے کی وجہ:۔ عید الفطر میں صدقہ اس واسطے مقرر کیا گیا ہے کہ اس میں روزہ داروں کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور ان کے روزوں کی تکمیل ہے۔ نیز مالداروں کے گھروں میں تو اس روز عید ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے پکوان پکتے ہیں۔ اچھے کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ جب کہ غریبوں کے گھروں میں بوجہ غربت اسی طرح روزہ کی شکل موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مالدار اور اچھے کھاتے پیتے لوگوں پر لازم ٹھہرایا کہ غریبوں کو عید سے پہلے صدقۂ فطر دے دیں، تاکہ وہ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ وہ بھی اچھا کھا پی سکیں اور اچھا پہن سکیں۔
٭ صدقۂ فطر کا وجوب:۔ متعدد احادیث سے صدقۂ فطر کا وجوب ثابت ہے۔ اختصار کے مدِنظر تین احادیث پر اکتفا کر رہا ہوں: ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے صدقۂ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔‘‘ (بخاری ومسلم)
عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے رمضان کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو۔ (ابوداود)
اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسولؐ اللہ نے مکہ مکرمہ کی گلیوں میں ایک منادی کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (ترمذی)
٭ صدقۂ فطر کس پر واجب ہے:۔ حضورِ اکرمؐکے اقوال کی روشنی میں 80 ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور علمائے احناف کی رائے کے مطابق جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ ضروریات سے زائد اس کے پاس اتنی قیمت کا مال و اسباب موجود ہو، جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو اس پر عید الفطر کے دن صدقۂ فطر واجب ہوگا، چاہے وہ مال واسباب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گذرے یا نہیں۔ غرض یہ کہ صدقۂ فطر کے وجوب کے لیے زکوٰۃ کے فرض ہونے کی تمام شرائط کا پایا جانا ضروری نہیں۔ دیگر علما کے نزدیک صدقۂ فطر کے وجوب کے لیے نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں، یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیرِ کفالت لوگوں کے لیے ہو، تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے۔
٭ صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت:۔ عید الفطر کے دن صبح ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے ہی انتقال کرگیا، تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہوا اور جو بچہ صبح سے پہلے پیدا ہوا، تو اس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا۔
٭ صدقۂ فطر کی ادائیگی کا وقت:۔ صدقۂ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نمازِ عید سے پہلے ہے۔ البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے حکم دیا کہ صدقۂ فطر نماز کے لیے جانے سے قبل ادا کردیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت نافع ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقۂ فطر دیتے تھے۔ حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کردیتے تھے۔ (بخاری )
نمازِ عید الفطر کی ادائیگی تک صدقۂ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نمازِ عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں، لیکن اتنی تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں۔ کیوں کہ اس سے صدقۂ فطر کا مقصود ومطلوب ہی فوت ہوجا تا ہے۔ عبداللہ بن عباسؓ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نمازَ عید سے پہلے ادا کردیا تو یہ قابلِ قبول زکوٰۃ ہوگی اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا، تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (ابوداود )
لہٰذا نمازِ عید سے قبل ہی ادا کریں۔
٭ صدقۂ فطر کی مقدار:۔ چاول، کھجور اور کشمش کو صدقۂ فطر میں دینے کی صورت میں علمائے امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع (نبی اکرمؐکے زمانہ کا ایک پیمانہ، یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو) صدقۂ فطر ادا کرنا ہے۔ البتہ گیہوں کو صدقۂ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علمائے امت میں زمانۂ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ اکثر علما کی رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع (یعنی تقریباً پونے دو کلو) صدقۂ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت اسما رضی اللہ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے علما بھی درجِ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر میں گیہوں آدھا صاع (یعنی تقریباً پونے دو کلو) ہے، یہی رائے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی بھی ہے۔
٭ کیا غلہ واناج کے بدلے قیمت دی جاسکتی ہے:۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ، حضرت امام بخاریؒ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، حضرت حسن بصریؒ،علمائے احناف اور دیگر محدثین وفقہا و علما نے تحریر کیا ہے کہ غلہ واناج کی قیمت بھی صدقۂ فطر میں دی جاسکتی ہے۔ زمانہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اب تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ عصرِ حاضر میں غلہ و اناج کے بدلے قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔ صدقۂ فطر میں گیہوں کی قیمت دینے والے حضرات تقریباً پونے دو کلو گیہوں کی قیمت بازار کے بھاؤ کے اعتبار سے ادا کریں، اور جو مالدار حضرات کھجور یا کشمش سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیں، تو وہ ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو کی قیمت ادا کریں، اس میں غریبوں کا فائدہ ہے۔
٭ صدقۂ فطر کے مستحق کون ہیں:۔ صدقۂ فطر مسلم غریب و فقیر مساکین کو دیا جائے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی حدیث میں گذرا (مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے)۔
٭ صدقۂ فطر دوسرے شہر یا دوسرے ملک بھیجا جاسکتا ہے:۔ ایک شہر سے دوسرے شہر میں صدقۂ فطر بھیجنا مکروہ ہے (یعنی جہاں آپ رہ رہے ہیں، وہیں صدقۂ فطر ادا کریں) ہاں، اگر دوسرے شہر یا دوسرے ملک مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں غریب رشتہ دار رہتے ہیں، یا وہاں کے لوگ زیادہ مستحق ہیں، تو ان کو بھیج دیا، تو مکروہ نہیں۔
٭ صدقۂ فطر سے متعلق چند مسائل:۔ ایک آدمی کا صدقۂ فطر کئی فقیروں کو اور کئی آدمیوں کا صدقۂ فطر ایک فقیر کو دیا جاسکتا ہے۔ جس شخص نے کسی وجہ سے رمضان کے روزے نہیں رکھے، اسے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیے۔ آج کل جو نوکر چاکر اجرت پر کام کرتے ہیں، ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا مالک پر واجب نہیں۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے