30 total views, 1 views today

کورونا وبائی مرض کی وجہ سے لاک ڈاؤن بڑھادیا گیا ہے، یعنی تاریخ میں پہلی مرتبہ عید الفطر کی نماز، مسلمان عید گاہ یا مساجد میں ادا نہ کرسکیں گے۔ سب سے پہلے عید الفطر سے متعلق دین کے ضروری مسائل جانیں۔ اسلام نے عید الفطر کے موقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے مل جل کر خوشیاں منانے کی اجازت دی ہے۔
عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، جیساکہ حضورِ اکرمؐ کے ارشادات میں وارد ہوا ہے۔ عید کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، حسبِ استطاعت اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، صبح ہونے کے بعد عید کی نماز سے پہلے کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا، عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا، ایک راستہ سے عیدگاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، نماز کے لیے جاتے ہوئے تکبیر کہنا (اَللّٰہُ اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر،لَا اِلہَ اِلَّا اللّٰہ، وَاللّٰہُ اَکْبَر، اَللّٰہُ اَکْبَر، وَلِلّٰہِ الْحَمْد) یہ سب عید کی سنتوں میں سے ہیں۔
عید کی نماز عید گاہ اور مساجد میں ادا کی جاتی ہے، مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے عید الفطر کی نماز بھی جمعہ کی طرح گھروں میں ادا کی جائے گی، جس کے لیے امام کے علاوہ تین افراد کافی ہیں۔ عید کی نماز بالکل نہ پڑھنے کے مقابلہ میں گھروں میں ادا کرنا بہتر ہے۔ جن بعض علما کو گھروں میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں اختلاف بھی تھا، انہیں بھی لاک ڈاؤن میں گھروں میں نماز عید الفطر کی اجازت دینی چاہیے، تاکہ مسلمان اس وقت مایوس نہ ہوں، بلکہ وہ کم از کم گھروں میں نمازِ عید پڑھ کر اپنے آپ کو کسی حد تک مطمئن کرسکیں۔
عید الفطر کے دن دو رکعت نمازِ جماعت کے ساتھ بطورِ شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ عید الفطر کی نماز کا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے، جو زوالِ آفتاب کے وقت تک رہتا ہے، مگر زیادہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔ عید کی نماز میں زائد تکبیریں بھی کہی جاتی ہیں، جن کی تعداد میں فقہاکا اختلاف ہے۔ البتہ زائد تکبیروں کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں امتِ مسلمہ نماز کے صحیح ہونے پر متفق ہے۔ 80 ہجری میں پیدا ہوئے مشہور فقیہ ومحدث حضرت امام ابوحنیفہؒ نے 6 سے زائد تکبیروں کے قول کو اختیار کیا ہے۔
نمازِ جمعہ کے لیے اذان اور اقامت دونوں ہوتی ہیں، لیکن عیدکی نماز کے لیے اذان اور اقامت دونوں نہیں ہوتیں۔
نمازِجمعہ کے لیے جو شرائط ہیں وہی عیدین کی نماز کے لیے بھی ہیں، یعنی جن پر نماز جمعہ ہے انہی پر نمازِ عیدین بھی ہے، جہاں نماز جمعہ جائز ہے، وہیں نمازِ عیدین بھی جائز ہے۔ جس طرح جگہ جگہ نمازِ جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے، اسی طرح ایک ہی شہر میں مختلف جگہوں بلکہ لاک ڈاؤن جیسے حالات میں گھروں میں بھی نمازِ عیدین ادا کرسکتے ہیں۔ گھروں میں ادا ہونے والی نمازِ عید میں گھر کی خواتین بھی شرکت کرسکتی ہیں۔
٭ نمازِ عید پڑھنے کاطریقہ:۔ سب سے پہلے نماز کی نیت کریں۔ نیت اصل میں دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے بھی کہہ لیں، تو بہتر ہے کہ میں دو رکعت واجب نمازِ عید چھے زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثنا یعنی سبحانک اللہم…… پڑھیں۔ اس کے بعد تکبیرِ تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ ہاتھ باندھنے کے بعد امام صاحب سورۂ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھیں۔ مقتدی خاموش رہ کر سنیں۔ اس کے بعد پہلی رکعت عام نماز کی طرح پڑھیں۔ دوسری رکعت میں امام صاحب سب سے پہلے سورۂ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھیں۔ مقتدی خاموش رہ کر سنیں۔ دوسری رکعت میں سورۃ پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر تین مرتبہ تکبیر کہیں اور ہاتھ چھوڑدیں۔ پھر بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہہ کر رکوع کریں اور باقی نماز عام نماز کی طرح مکمل کریں۔ نمازِ عید کے بعد دعا مانگ سکتے ہیں لیکن خطبہ کے بعد دعا مسنون نہیں۔
٭ خطبۂ عید الفطر:۔ عید الفطر کی نماز کے بعد امام کا خطبہ پڑھنا سنت ہے۔ خطبہ شروع ہوجائے، تو خاموش بیٹھ کر اس کو سننا چاہیے۔ لاک ڈاؤن میں مختصر نماز پڑھائی جائے اور مختصر خطبہ دیا جائے۔ دیکھ کر بھی خطبہ پڑھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی خطبہ نہیں پڑھ سکتا، تو خطبہ کے بغیر بھی نمازِ عید ہوجائے گی۔ کیوں کہ عید کا خطبہ سنت ہے، فرض نہیں۔ قرآنِ کریم کی چھوٹی سورتیں بھی خطبہ میں پڑھی جاسکتی ہیں۔ جمعہ کی طرح دو خطبے دیے جائیں، دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لیے امام صاحب ممبر یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ جائیں۔
اگر کسی شخص کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے نمازِ عید پڑھنے کا موقع نہ مل سکے، تو پھر وہ دو دو رکعت کرکے چاشت کی چار رکعت ادا کرلے۔ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ جس کی عید کی نماز فوت ہوجائے، تو وہ چار رکعت ادا کرلے۔ بعض علما نے اس سے اختلاف کیا ہے، مگر ’’لاک ڈاؤن‘‘ میں نمازِ عید نہ پڑھ سکنے والے کے لیے ایک اچھا متبادل ہے۔
٭ نمازِ عید کے بعد عید ملنا:۔ نمازِ عید سے فراغت کے بعد گلے ملنا یا مصافحہ کرنا عید کی سنت نہیں۔ نیز ان دنوں کورونا وبائی مرض بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے نماز سے فراغت کے بعد گلے ملنے یا مصافحہ کرنے سے بچیں کیونکہ احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا شرعیت اسلامیہ کے مخالف نہیں ہے۔
……………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے