39 total views, 1 views today

رات کی تاریکی قریب الاختتام تھی۔ روشنی سے بھیگی ہوئی بادِ سحر مسجدِ نبوی کو آہستہ آہستہ منور کر رہی تھی کہ گرد سے اٹا ہوا ذوالبجادینؓ (Zulbajadeen) تاروں کی چھاؤں میں مسجدِ نبوی میں داخل ہوا اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر آفتابِ رسالتؐ کے طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد مسجدِ نبوی میں سردارِ دو جہاںؐ تشریف لائے۔ رسولِ کائناتؐ نے صحن میں قدم رکھا، تو ذوالبجادینؒ سامنے تھا۔ پوچھا، آپ کون ہیں؟ جواب میں کہا گیا کہ ایک فقیر اور مسافر۔ عاشقِ جمال و طالبِ دیدار۔ میرا نام عبدالعزیٰ ہے۔ حالات سننے کے بعد سرورِ کائناتؐ نے فرمایا، یہیں ہمارے قریب ٹھہرو اور مسجد میں رہا کرو۔ رسولِ پاکؐ نے عبدالعزیٰ کے بجائے عبداللہ نام رکھا، اور اصحابِ صفہ میں شامل کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ مؤحد بندہ قرآنِ کریم سیکھتا تھا، اور آیاتِ ربانی کو دن بھر بڑے جوش اور ولولہ سے پڑھتا رہتا تھا۔
جب 9 ہجری کو اطلاع ملی کہ عرب کے تمام عیسائی قبائل قیصرِ روم کے جھنڈے تلے مسلمانوں پر حملہ آور ہورہے ہیں۔ اس وقت عرب کی گرمی زوروں پر تھی۔ رسولؐ نے آدمیوں اور روپے کی اپیل کی۔ تمام صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر اس کارِ خیر میں حصہ لیا۔ عبداللہ ذوالبجادین کے پاس پہلے ہی اللہ اور رسولؐ کے سواکچھ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی پیش کردی۔ سرورِ کائناتؐ تیس ہزار جوانوں کے ساتھ آتش بار طوفانوں میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آلاتِ جنگ اور سامانِ رسد کی انتہائی قلت تھی، لیکن اس کے باوجود مسلمان سردارِ دو جہاںؐ کی قیادت میں بڑے جوش کے ساتھ قیصرِ روم کے مقابلے پر منزل بہ منزل چلے جارہے تھے۔ عبداللہ ذوالبجادین بھی ولولۂ جہاد سے لبریز اور شوقِ شہادت سے سرشار تھے۔ اسی دھن میں یہ رسولِ دو جہانؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہنے لگے، یا رسولؐ اللہ! دعا فرمائیے کہ میں راہِ خدا میں شہید ہوجاؤں۔ رسولِ کائناتؐ نے فرمایا، تم کسی درخت سے چھلکا اُتار کے لاؤ۔ عبداللہؓ درخت کا چھلکا لے کر خوشی خوشی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ سرورِ کائناتؐ نے چھلکا لیا اور اسے عبداللہ کے بازو پر باندھ دیا اور فرمایا، خداواندا! میں کفار پر عبداللہ کا خون معاف کرتا ہوں۔ عبداللہ ارشادِ نبویؐ پر کچھ حیران سا رہ گئے اور کہنے لگے، یا رسولؐ اللہ! میں تو شہادت کا آرزو مند ہوں۔فرمایا، جب تم راہِ خدا میں نکل پڑے، پھر اگر بخار سے بھی مرجاؤ، تم شہید ہو۔
اسلامی فوج تبوک پہنچی، تو عبداللہ ؓ کو سچ مچ بخار آگیا، اور یہی بخار ان کے لیے پیغامِ شہادت تھا۔ رسول ِ رحمتؐ کو ان کے انتقال کی خبر پہنچائی گئی، تو آپؐ، صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لائے۔ رات کا وقت تھا۔ حضرتِ بلالؓ کے ہاتھ میں چراغ تھا۔ صدیقِ اکبر اور فاروقِ اعظمؓ اپنے ہاتھوں سے میت کو لحد میں اُتار رہے تھے۔ خود سرورِ کائناتؐ قبر کے اندر کھڑے تھے، اور حضرتِ عمر ؓ سے فرما رہے تھے کہ اپنے بھائی کو ادب سے لحد میں اُتارو۔
جب میت لحد میں رکھ دی گئی، تو رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ اینٹیں میں خود رکھوں گا۔ چناں چہ رسولؐ اللہ نے اپنے دستِ مبارک سے اینٹیں لگائیں، اور تدفین مکمل ہوئی، تو دعاکے لیے ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا، ’’الٰہی! میں آج شام مرنے والے سے خوش رہا ہوں، تو بھی اس سے راضی ہوجا۔‘‘
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روبا ہی
………………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے