83 total views, 1 views today

خیر القرون سے عصرِ حاضر تک کے جمہور علما وفقہا ومحدثین، قرآن وحدیث کی روشنی میں عورتوں کے سونے یا چاندی کے استعمالی زیور پر وجوب زکوٰۃ کے قائل ہیں۔ اگر وہ زیور نصاب کے مساوی یا زائد ہو اور اس پر ایک سال بھی گزر گیا ہو، جس کے مختلف دلائل پیش کیے جاتے ہیں:
٭قرآن وسنت کے وہ عمومی حکم جن میں سونے یا چاندی پر بغیر کسی (استعمالی یا غیر استعمالی) شرط کے زکوٰۃ واجب ہونے کا ذکر ہے اور ان آیات واحادیثِ شریفہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ متعدد آیات واحادیث میں یہ عموم ملتا ہے، اختصار کی وجہ سے صرف ایک آیت اور ایک حدیث پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’جو لوگ سونا یا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں، اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰۃ نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑے دردناک عذاب کی خبر سنا دیجیے، جو اس روز واقع ہوگا کہ ان (سونے وچاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا،اور یہ جتایا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم اپنے واسطے جمع کرکے رکھتے تھے۔ سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔ (سورۃ التوبہ 34،35)
نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس مال کی زکوٰۃ اداکردی جائے، وہ کنز تم (جمع کیے ہوئے) میں داخل نہیں ہے۔ (ابوداود، مسند احمد)
غرض یہ کہ جس سونے وچاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی ہے، کل قیامت کے دن وہ سونا وچاندی جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں کو داغا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام مال اور سونے وچاندی کے زیورات پر زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والا بنائے تاکہ اس دردناک عذاب سے ہماری حفاظت ہوجائے، آمین!
حضورِ اکرمؐ نے ارشاد فرمایا، کوئی شخص جو سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے، تو کل قیامت کے دن اس سونے وچاندی کے پترے بنائے جائیں گے اور ان کو جہنم کی آگ میں ایسا تپایا جائے گا، گویا کہ وہ خود آگ کے پترے ہیں۔ پھر اس سے اس شخص کا پہلو، پیشانی اور کمر داغ دی جائے گی، اور قیامت کے پورے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، باربار اسی طرح تپاتپاکر داغ دیے جاتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوجائے۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب فیمن لا یؤدی الزکوٰۃ)
اس آیت اور حدیث میں عمومی طور پر سونے یا چاندی پر زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے۔ خواہ وہ استعمالی زیور ہوں، یا تجارتی سونا و چاندی۔ نیز قرآنِ کریم میں کسی ایک جگہ بھی استعمالی زیور کا استثنا نہیں کیا گیاہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو دو سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھی۔ نبی اکرمؐ نے اس عورت سے کہا کہ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس عورت نے کہا، نہیں۔ تو نبی اکرمؐ نے فرمایا، کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کل قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟ تو اس عورت نے وہ دونوں کنگن اتارکر نبی اکرمؐ کی خدمت میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے پیش کردیے۔ (ابو داود، کتاب الزکوٰۃ، باب الکنز ما ہو وزکوٰۃ الحلی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرمؐ میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چھلا دیکھ کر مجھ سے کہا کہ اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ مَیں نے کہا، اے اللہ کے رسولؐ ! یہ مَیں نے آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کی غرض سے بنوایا ہے۔ تو نبی اکرمؐ نے کہا، کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ مَیں نے کہا، نہیں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا، تو پھر یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ (ابوداود 244، دار قطنی) محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
امام خطابی ؒ نے (معالم السنن 176/3) میں ذکر کیا ہے کہ غالب گمان یہ ہے کہ چھلا تنہا نصاب کو نہیں پہنچتا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس چھلے کو دیگر زیورات میں شامل کیا جائے۔ نصاب کو پہنچنے پر زکوٰۃ کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ امام سفیان ثوری ؒ نے بھی یہی توجیہ ذکر کی ہے۔
حضرت اسماء بنت زید رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ مَیں اور میری خالہ نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے، تو نبی اکرمؐ نے کہا، کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ ہم نے کہا، نہیں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا: کیا تم ڈرتی نہیں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟ لہٰذا ان کی زکوٰۃ ادا کرو۔ (مسند احمد) محدثین کی ایک جماعت نے حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ متعدد احادیث صحیحہ میں زیورات پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا ذکر ہے۔ یہاں طوالت سے بچنے کے لیے صرف تین احادیث ذکر کی گئی ہیں۔
استعمالی زیور میں زکوٰۃ واجب نہ قرار دینے کے حضرات عموماً دو دلیلیں پیش کرتی ہے۔
٭ عقلی دلیل:۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مال میں زکوٰۃ کو واجب قراردیا ہے جس میں بڑھوتری کی گنجائش ہو، جب کہ سونے اور چاندی کے زیورات میں بڑھوتری نہیں ہوتی، لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ زیورات میں بھی بڑھوتری ہوتی ہے۔ چناں چہ سونے کی قیمت کے ساتھ زیورات کی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
٭ چند احادیث وآثارِ صحابہ :۔ وہ سب کے سب ضعیف ہیں جیساکہ محدثین نے دلائل کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ 80 ہجری میں پیدا ہوئے مشہور تابعی و فقیہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور علمائے احناف کا قرآن و حدیث کی روشنی میں یہی مؤقف ہے کہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔ ہندوپاک کے جمہور علمائے کرام نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی تحریر کیا ہے کہ استعمالی زیورات میں نصاب کو پہنچنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن بازؒ کی بھی قرآن و سنت کی روشنی میں یہی رائے ہے کہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔
اصولی بات:۔ موضوعِ بحث مسئلہ میں علما کی ایک جماعت نے اختلاف ضرور کیا ہے، لیکن اس حقیقت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی سونے یا چاندی پر زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ کسی ایک جگہ بھی استعمالی یا تجارتی سونے میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ نیز استعمالی زیور کو زکوٰۃ سے مستثنا کرنے کے لیے کوئی غیر قابلِ نقد وجرح حدیث، احادیث کے ذخیرہ میں نہیں ملتی، بلکہ بعض احادیثِ صحیحہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب ہونے کی واضح طور پر رہنمائی کررہی ہیں۔ نیز استعمالی زیور پر زکوٰۃ کے واجب قرار دینے کے لیے اگر کوئی حدیث نہ بھی ہو، تو قرآنِ کریم کے عمومی حکم کی روشنی میں ہمیں ہر طرح کے سونے و چاندی پر زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ خواہ اس کا تعلق استعمال سے ہو یا نہیں، تاکہ کل قیامت کے دن رسوائی، ذلت اور دردناک عذاب سے بچ سکیں۔ نیز استعمالی زیور پر زکوٰۃ کے واجب قرار دینے میں غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کا فائدہ ہے، تاکہ دولت چند گھروں میں نہ سمٹے بلکہ ہم اپنے معاشرہ کو اس رقم سے بہتر بنانے میں مدد حاصل کریں۔
احتیاط:۔ وہ مذکورہ بالا احادیث جن میں نبی اکرمؐ نے استعمالی زیور پر بھی وجوب زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ ان کے صحیح ہونے پر محدثین کی ایک جماعت متفق ہے۔ لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ ہم استعمالی زیور پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی کریں، تاکہ زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جو سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان سے ہماری حفاظت ہوسکے۔ نیز ہمارے مال میں پاکیزگی کے ساتھ اس میں نمو اور بڑھوتری اسی وقت پیدا ہوگی جب ہم مکمل زکوٰۃ کی ادائیگی کریں گے۔ کیوں کہ زکوٰۃ کی مکمل ادائیگی نہ کرنے پر مال کی پاکیزگی اور بڑھوتری کا وعدہ نہیں ہے۔ نیز جو بعض اسلاف استعمالی زیور میں زکوٰۃ کے وجوب کے قائل نہیں تھے، ان کی زندگیوں کے احوال پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو اپنی ضروریات کے مقابلے میں دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنی دنیا وآخرت کی کامیابی سمجھتے تھے، اور اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے تھے۔ تاریخی کتابیں ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ اِس وقت امتِ مسلمہ کا بڑا طبقہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بھی تیار نہیں۔ چہ جائیکہ دیگر صدقات وخیرات و تعاون سے اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرے۔ لہٰذا استعمالی زیور پر زکوٰۃ نکالنے میں ہی احتیاط ہے، تاکہ ہم دنیا میں غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرکے کل قیامت کے دن نہ صرف عذاب سے بچ سکیں، بلکہ اِجر عظیم کے بھی مستحق ٹھہریں۔
چند وضاحتیں:۔
٭ اگر زیورات استعمال کے لیے نہیں ہیں بلکہ مستقبل میں کسی تنگ وقت میں کام آنے (مثلاً بیٹی کی شادی) کے لیے رکھے ہوئے ہیں، یا سال سے زیادہ ہوگیا اور ان کا استعمال بھی نہیں ہوا، تو اس صورت میں سونے کے زیورات پر زکوٰۃ کے واجب ہونے پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے، یعنی امت مسلمہ کا دوسرا مکتب فکر بھی متفق ہے۔
٭ زیورات کی زکوٰۃ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت پرانے سونے کے بیچنے کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔ یعنی آپ کے پاس جو سونا موجود ہے، اگر اس کو مارکیٹ میں بیچیں، تو وہ کتنے میں فروخت ہوگا، اس قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
٭ ہیرے پر زکوٰۃ واجب نہ ہونے پر امتِ مسلمہ متفق ہے۔ کیونکہ شریعتِ اسلامیہ نے اس کو قیمتی پتھروں میں شمار کیا ہے۔ ہاں، اگریہ تجارت کی غرض کے لیے ہوں، تو پھر نصاب کے برابر یا زیادہ ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
…………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے