70 total views, 1 views today

اللہ تعالیٰ کے احکام میں اس کی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اگر اس کا ایک بندہ انہیں بجالاتا ہے، تو دنیاوی اور اُخروی دونوں فضیلتیں حاصل کرتا ہے۔ کلمۂ طیبہ اور نماز کے بعد روزہ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے جو ہر بالغ، عاقل مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’اے مؤمنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔‘‘ اس کے علاوہ وہ احادیث نبویؐ میں بھی رمضان کے روزوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آنحضرتؐ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے۔‘‘
آدمی کی عقل کی اتنی پرواز کہاں ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ جیسے حکیم کی حکمتوں تک پہنچ سکے۔ ہر شخص کی جہاں تک پرواز ہے، وہاں تک وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے دینی اور دنیوی فوائد کا ادراک کرسکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اس سے بھی اونچی ہوتی ہیں، جس طرح اور احکام میں ہزاروں مصلحتیں ہیں، روزے میں بھی ہیں۔ منجملہ ان کے چند مصالح ظاہر اور بدیہی ہیں۔ ان میں ایک جذبۂ مواساۃ اور ہمدردی ہے۔ جو شخص خود بھوکا رہتا ہے، اس کو بھوکے سے ہمدردی پیدا ہوسکتی ہے۔ جو خود بھوک کی تکلیف اُٹھاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ غریب پر کیا گزرتی ہے، بھوکے کو کس مصیبت کا سامنا ہے، تو ایسی حالت میں جذبۂ ہمدردی اور ترحم پیدا ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ روزہ سے قوت بہیمیہ اور شہوانیہ کا زور کم ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ قوت جب زور پکڑتی ہے، تو بہت سے ایسے اُمور، انسان سے سرزد ہوتے ہیں جو دین و دنیا میں رو سیاہی کا سبب بنتے ہیں۔ جب بھوک کا غلبہ ہو، تو یہ شہوانی قوتیں کمزور ہوتی ہیں۔ اس لیے حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ جو شخص نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ روزے رکھے کہ یہ شہوت توڑنے والا عمل ہے۔
روزہ کی ایک بڑی مصلحت روحانی قوت ہے۔ روزہ سے روحانیت کو بہت زیادہ ترقی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہر ملت و مذہب میں کسی نہ کسی صورت میں روزے کا وجود ہے اور مذاہب حقہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے روزہ کی مشروعیت رہی ہے۔
حضرات انبیا علیہم السلام کا معمول روزے میں مختلف رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کا معمول ہمیشہ بارہ مہینے روزہ رکھنے کا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا معمول ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معمول ایک دن روزہ اور دو دن کھوجا کا تھا۔ اسی طرح دیگر انبیائے کرام علیہ السلام کے مختلف معمولات رہے ہیں۔ اُمتِ محمدیہؐ پر ماہِ رمضان کے سارے مہینے کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ امسال 1441 ہجری بہ مطابق 2020ء کو رمضان کا مہینا شروع ہونے والا ہے، جس میں مسلمانانِ عالم کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانانِ پاکستان خصوصی اہتمام کے ساتھ روزے رکھیں، تاکہ روزوں کے تقاضے پورے ہوں، اور خدا اور اس کا رسولؐ ہم سے راضی ہو۔
……………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے