216 total views, 1 views today

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ ’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس بات کو پسند نہ کرو۔‘‘ یعنی کسی کے پیٹھ پیچھے اس کا ذکر اس طرح کرنا کہ اگر وہ خود سنتا تو پسند نہ کرتا۔ یہ مرض جس قدر مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے دنیا کی کسی قوم، کسی فرقہ اور کسی مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مسلمانوں کو بالفرض اگر بزورِ حکومت اس مشغلے سے روک دیا جائے، تو دفعتاً ان کی مجالس بے رونق، بے لطف اور سرد ہوجائیں گی۔ کیوں کہ ان کی گرمئی صحبت کا سب سے بڑا سرمایہ یہی مشغلہ ہے۔ اس پہ طرّہ یہ کہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک مذموم حرکت ہے، لیکن اس میں کچھ ایسی دلچسپی ہے کہ چھوڑی نہیں جاسکتی۔ ذیل میں غیبت کے کچھ اسباب اور وجوہات درج کی جاتی ہیں۔
٭ انسان کو جب کسی شخص پر غصہ آتا ہے، اور ضبط نہیں کرسکتا، تو خواہ مخواہ اس شخص کے عیوب زبان پر آتے ہیں۔ اس سے اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا۔
٭ کسی مجلس میں جب پہلے ہی سے کسی کی غیبت ہورہی ہو، تو آنے والے نئے آدمی کو بھی خواہ مخواہ گرمئی صحبت کے لیے اس مشغلہ میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ کیوں کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
٭ انسان کو جب اس بات کا شبہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص میری نسبت دل میں برے خیالات رکھتا ہے، اور ان کو ظاہر کرنا چاہتا ہے، تو حفظِ ما تقدم کے طور پر وہ بھی اس کے عیوب ظاہر کرتا ہے۔
٭ انسان پر جب غلط الزام یا عیب لگایا جاتا ہے، تو وہ اس سے برأت ثابت کرنا چاہتا ہے، تو اس شخص کا نام لیتا ہے جو در حقیقت اس الزام کا مرتکب ہوتا ہے۔ حالاں کہ اس کو اپنی برأت پر قناعت کرنی چاہیے۔
٭ دوسروں کی تنقیص میں ضمناً اپنا کمال ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے، مثلاً ایک شاعر دوسرے شاعر کی نسبت کہتا ہے کہ اس کا کلام نہایت بدمزہ ہے، یا اس کو مطلق کہنا نہیں آتا۔ اس سے درپردہ یہ غرض ہوتی ہے کہ میرا کلام نہایت بامزہ اور لطیف ہے۔
٭ ایک شخص اپنے معاصر کی عزت اور شہرت دیکھ کر حسد کرتا ہے، جب اس کی عزت اور شہرت کو مٹانے کی کوئی تدبیر بن نہیں آتی، تو اس کے عیوب ظاہر کرتا ہے، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اُس کی وقعت کم ہوجائے۔ حالاں کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
٭ مذاق اور دل بہلانے کے لیے بعض اوقات ایک شخص دوسرے شخص کے عیوب کا خاکہ اُڑاتا ہے، جس سے حاضرینِ مجلس کو نقالی کا مزہ آتا ہے، اور محفل گرم ہوتی ہے۔
٭ کسی کے ساتھ استہزا اور اس کا تمسخر اُڑانا مقصود ہوتا ہے۔
قارئین، غیبت کے ذکر شدہ اسباب عام آدمیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواص کے غیبت میں مبتلا ہونے کے اسباب ذیل میں دیے جاتے ہیں۔
٭ دین دار آدمی جب کسی شخص کو برا کام کرتے دیکھتا ہے، یا لوگوں سے سنتا ہے، تو اس کو حیرت ہوتی ہے۔ تو اس تعجب کے ظاہر کرنے میں اُس شخص کا نام زبان پر آتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ زید نے باوجود کمالِ دین داری کے ناچ کی محفل میں شرکت کیوں کی ؟یا اس قسم کے موقع پر بعض وقت انسان کو افسوس اور رحم آتا ہے اور کہتا ہے کہ افسوس! زید نے شراب پینی شروع کی جو اس کے رتبہ کے بالکل خلاف ہے۔
٭ بعض اوقات امر بالمعروف کا جوش پیدا ہوتا ہے اور انسان مرتکبِ گناہ کا نام لے کر اس کا اظہار کرتا ہے۔ ان مواقع پر غیبت کرنے والے کو دھوکا ہوتا ہے کہ وہ غیبت کا ارتکاب نہیں کررہا بلکہ ایک مذہبی فرض ادا کررہا ہے، حالاں کہ فرض ادا کرنے میں نام لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے