اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلامِ میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اسی (اللہ تعالیٰ) نے نر ومادہ (مرد و عورت) کے دو جوڑے پیدا کیے ہیں۔ (سورۃ النجم 45)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو بنی نوع انسان کے دو حصوں کی مانند پیدا کیا ہے، اور دونوں کو اس کائنات کی آبادی کے لیے شریک رکھا ہے۔ دونوں کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا مکلف کیا گیا ہے، جیساکہ فرمان الٰہی ہے: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسْ اِلَّا لِےَعْبُدُوْنَ۔‘‘
غرض یہ کہ مرد کی طرح عورت کو بھی ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، والدین کی فرماں برداری وغیرہ تمام عبادات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ نیز مرد کی طرح عورت کو بھی اعمالِ صالحہ کرنے پر اجر اور برے اعمال کرنے پر سزا دی جائے گی۔ مرد و عورت دونوں بشریت وانسانیت میں برابر تو ہیں، یعنی جس طرح مرد کے عورت پر کچھ حقوق ہیں، اُسی طرح عورت کے بھی مرد پر حقوق ہیں، جن کی ادائیگی دونوں پر ضروری ہے، لیکن اس کے باوجود پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ مرد وعورت کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے۔ مرد کو جہاں زیادہ جسمانی قوت اور طاقت سے نوازا ہے، وہیں عورت کو رحم دِل بنایا ہے۔ جہاں مرد کو اپنے جذبات پر قابو رکھ کر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ وہیں عورت کو حیض، حمل، ولادت، نفاس اور بچے کو دودھ پلانے کے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مرد وعورت میں تخلیقی و جسمانی فرق کی وجہ سے شریعتِ اسلامیہ نے دونوں کے مسائل میں کسی حد تک فرق رکھا ہے۔ خواتین سے متعلق چند خصوصی مسائل اہمیت کے پیشِ نظر ترتیب دیتا ہوں۔
٭ حیض و نفاس کے مسائل:۔ شریعتِ اسلامیہ میں حیض اُس خون کو کہتے ہیں جو عورت کے رحم (بچہ دانی)کے اندر سے متعینہ اوقات میں بغیر کسی بیماری کے نکلتا ہے۔ چوں کہ یہ خون تقریباً ہر ماہ آتا ہے۔ اس لیے اس کو ماہواری بھی کہتے ہیں۔ اس خون کو اللہ تعالیٰ نے تمام عورتوں کے لیے مقدر کردیا ہے۔ حمل کے دوران میں یہی خون بچہ کی غذا بن جاتا ہے۔ لڑکی کے بالغ ہونے (تقریباً 12، 13 سال کی عمر) سے تقریباً 50، 55 سال کی عمر تک یہ خون عورتوں کو آتا رہتاہے۔ حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق علما کی آرا متعدد ہیں۔ البتہ عموماً اس کی مدت 3 دن سے 10 دن تک رہتی ہے۔ ’’نفاس‘‘ اُس خون کو کہتے ہیں جو رحمِ مادر سے بچہ کی ولادت کے وقت اور ولادت کے بعد خارج ہوتا ہے۔ نفاس کی کم از کم مدت کی کوئی حد نہیں۔ یہ ایک دو روز میں بھی بند ہوسکتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت 40 دن ہے۔ (مسلم، ابوداود، ترمذی)
لہٰذا 40 دن سے پہلے جب بھی عورت پاک ہوجائے، یعنی اس کا خون آنا بند ہوجائے، تو وہ غسل کرکے نماز شروع کردے۔ خون بند ہوجانے کے بعد بھی40 دن تک انتظار کرنا، اور نماز وغیرہ سے رُکے رہنا غلط ہے۔
٭ حیض یا نفاس والی عورتوں کے لیے مندرجہ ذیل امور ناجائز ہیں:۔
الف، ان دونوں حالت میں صحبت کرنا۔ (سورۃ البقرہ 222) البتہ ان ایام میں سوائے جماع کرنے کے ہر جائز شکل میں استمتاع کیا جاسکتا ہے یعنی بوسہ وغیرہ لے سکتے ہیں۔ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’سوائے مجامعت (ہم بستری) کے ہر کام کرسکتے ہو ۔‘‘(مسلم)
ب، نماز اور روزہ کی ادائیگی، حیض سے پاک وصاف ہوجانے کے بعدعورت روزے کی قضا کرے گی، لیکن نماز کی قضا نہیں کرے گی۔ (بخاری ومسلم)
نماز روزہ میں فرق کی وجہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے، پھر بھی علمائے کرام نے لکھا ہے کہ نماز ایسا عمل ہے جس کی بار بار تکرار ہوتی ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ مشقت اور پریشانی سے بچنے کے لیے اس کی قضاکا حکم نہیں دیا گیا، لیکن روزہ کا معاملہ اس کے بر عکس ہے، (سال میں صرف ایک مرتبہ اس کا وقت آتا ہے) لہٰذا روزہ کی قضا کا حکم دیا گیا۔
ج، قرآنِ کریم کسی کپڑے کے بغیر چھونا، قرآنِ کریم کو صرف پاکی کی حالت میں ہی چھوا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ناپاکی کے ایام میں عورت کسی کپڑے مثلا ً باہری غلاف کے ساتھ ہی قرآن کریم کو چھوئے۔ (سورۃ الواقعہ 79، نسائی)
د، بیت اللہ کا طواف کرنا ۔ (بخاری ومسلم) البتہ سعی (صفا مروہ پر دوڑنا) ناپاکی کی حالت میں کی جاسکتی ہے۔ (بخاری)
یعنی طواف سے فراغت کے بعد اگر ناپاکی شروع ہوجائے، تو سعی ناپاکی میں کی جاسکتی ہے، لیکن عورت کو چاہیے کہ وہ سعی کرکے مسجدِ حرام میں داخل ہوئے بغیر صفا مروہ سے باہر چلی جائے۔
ہ، مسجد میں داخل ہونا۔ (ابوداؤد) اگر عورت مسجدِ حرام یا کسی دوسری مسجد میں ہے، اور ناپاکی کا وقت شروع ہوگیا، تو عورت کو چاہیے کہ فوراً مسجد سے باہر نکل جائے۔ البتہ صفا مروہ یا مسجد حرام کے باہر صحن میں کسی جگہ بیٹھ سکتی ہے۔
و، بغیر چھوئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔ (ابوداؤد) اس سلسلہ میں علما کی آرا مختلف ہیں۔ البتہ تمام علما اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام میں قرآن کریم کی تلاوت بغیر دیکھے بھی نہ کی جائے۔ ہندو پاک کے جمہور علما کی بھی یہی رائے ہے کہ ناپاکی کے دنوں میں عورت قرآنِ کریم کی تلاوت بھی نہیں کرسکتی۔ البتہ قرآنِ کریم میں وارد اذکار اور دعائیں ان ایام میں پڑھی جاسکتی ہیں۔
نوٹ:۔ میاں بیوی کا حیض کی حالت میں صحبت کرنا اور پیچھے کے راستے کو کسی بھی وقت اختیار کرنا حرام ہے۔ حیض (ماہواری) کو وقتی طور پر روکنے والی دوائیں استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ حیض یا نفاس والی عورت کا خون جس نماز کے وقت شروع ہوا، اگر خون شروع ہونے سے قبل نماز کی ادائیگی نہ کرسکی، توپھر اس نماز کی قضا اس پر واجب نہیں۔ البتہ جس نماز کے وقت میں خون بند ہوگا، غسل کرکے اس نماز کی ادائیگی اس کے ذمہ ہوگی۔
٭ استحاضہ کے مسائل:۔ حیض یا نفاس کے علاوہ بیماری کی وجہ سے بھی عورت کو کبھی کبھی خون آجاتا ہے، جس کو استحاضہ کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کے خون (استحاضہ) کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جاتا ہے، مگر نماز اور روزہ کی ادائیگی اس عورت کے لیے معاف نہیں۔ نیز ان بیماری کے ایام میں صحبت بھی کی جاسکتی ہے۔ (ابوداود، نسائی)
(نوٹ) اگر کسی عورت کو بیماری کا خون ہر وقت آنے لگے، یعنی خون کے قطرے ہر وقت نکل رہے ہیں کہ تھوڑا سا وقت بھی نماز کی ادائیگی کے لیے نہیں مل پارہا ہے، تو اس کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کو ہر وقت پیشاب کے قطرات گرنے کی بیماری ہوجائے کہ وہ ایک وقت کے لیے وضو کرے اور اس وقت میں جتنی چاہے نماز پڑھے، قرآن کی تلاوت کرے، دوسری نماز کا وقت شروع ہونے پر اس کو دوسرا وضو کرنا ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
٭ مانعِ حمل کے ذرائع کا استعمال:۔ شریعتِ اسلامیہ نے اگرچہ نسلوں کو بڑھانے کی ترغیب دی ہے، لیکن پھر بھی ایسے اسباب اختیار کرنے کی اجازت دی ہے جس سے وقتی طور پرحمل نہ ٹھہرے۔ مثلاً دواؤں یا کنڈوم کا استعمال یا عزل کرنا یعنی منی کو شرمگاہ کے باہر نکالنا۔ (بخاری)
٭ اسقاط ِحمل (Abortion):۔ اگر حمل ٹھہر جائے، تو اسقاطِ حمل جائز نہیں۔ (سورۃ بنی اسرائیل 31، سورۃ الانعام 151)
البتہ شرعی وجہ جواز پائے جانے کی صورت میں بہت بھی نہایت محدود دائرہ میں حمل کا اسقاط جائز ہے۔ چار مہینے مکمل ہوجانے کے بعد حمل کا اسقاط بالکل حرام ہے۔ کیوں کہ وہ ایک جان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کسی وجہ سے حمل کے برقرار رہنے سے ماں کی جان کو خطرہ ہوجائے، تو ماں کی زندگی کو بچانے کے لیے چار ماہ کے بعد بھی اسقاطِ حمل جائز ہے۔ یہ محض دو ضرر میں سے بڑے ضرر کو دور کرنے اور دو مصلحتوں میں سے بڑی مصلحت کو حاصل کرنے کے لیے اجازت دی گئی ہے۔
قارئین، قرآن وحدیث کی روشنی میں ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ ہمارے اور ہمارے بچوں کے رزق کی ذمہ داری خالق کائنات نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔ لہذا اس وجہ سے کہ بچوں کو کون کھلائے گا؟ ضبطِ ولادت (Birth Control) پر عمل نہ کریں، بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ہمارے اور ہمارے بچوں کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے، وہی رازق وخالق ومالک ہے۔ ہمارے لئے شرعاً اجازت ہے کہ ہم وقتی طور پر مانعِ حمل کے اسباب (مثلاً کنڈوم کا استعمال، مانع حمل دوا کھانا وغیرہ) اختیار کرکے دو یا تین بچوں پر اس سلسلہ کو موقوف کرسکتے ہیں، مگر کوئی شخص زیادہ بچے رکھنا چاہے، تو ہمیں اسے حقارت کی نگاہ سے نہیں بلکہ عزت کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے۔ کیوں کہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں بہتر صورت کو اختیار کررہا ہے۔ دائمی طور پر حمل کی صلاحیت کو ختم کرانے کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے کرام نے عدم جواز کا فتویٰ دیا ہے، ہاں! اگر کسی عورت کے تین یا دو بچے آپریشن سے ہوچکے ہیں، اور ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ولادت کے سلسلہ کو ختم کرنا عورت کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، تو پھر گنجائش ہے۔
٭ رضاعت (دودھ پلانے) سے حرمت کا مسئلہ:۔ اگر کوئی عورت کسی دو سال سے کم عمر کے بچے کو اپنا دودھ پلادے، تو وہ دونوں ماں بیٹے کے حکم میں ہوجاتے ہیں، لیکن قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رضاعت (دودھ پلانے) کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَالْوَالِدَاتُ ےُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَےْنِ کَامِلَےْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَن ےُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ۔‘‘ عورتوں کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کاہے، وہ اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں۔ (سورۃ البقرہ 233)
نیز نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’رضاعت سے حرمت صرف اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب کہ رضاعت (دودھ پلانا) دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔‘‘ (ترمذی)
یعنی دودھ پلانے سے ماں بیٹے کا رشتہ اسی وقت ہوگا جب کہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے کو دودھ پلایا جائے۔ امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’حدیث صحیح ہے اور صحابۂ کرام کا عمل بھی یہی تھاکہ رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوگی جب دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے بچے نے دودھ پیا ہو۔ دودھ چھڑانے کی مدت کے بعد کسی کو دودھ پلانے سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (ترمذی)
٭ خواتین کے خصوصی امراض کا خواتین ڈاکٹر سے علاج:۔ عورتوں کے خصوصی امراض کا علاج کرانا مثلاً حمل کے دوران میں فالو اَپ اور ولادت کا عمل یہ ایسے مسائل ہیں جن سے واقفیت اِن دنوں بعض شرعی پابندیوں کی وجہ سے بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ اس میں دو جنسوں کا اختلاط ہوتا ہے، اور مرد عورت کے ستر کو دیکھتی ہے، جو عمومی حالات میں ناجائز ہے۔ نیز شرم وحیا کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عورتوں کے وہ امراض جن میں جسم کے اعضا کا کھولنا ضروری ہو عورت ڈاکٹر ہی کرے، تاکہ کسی طرح کافتنہ پیدا نہ ہو اور شرم وحیا کا احترام بھی باقی رہے۔ یہ مسئلہ صرف حمل و ولادت تک محدود نہیں بلکہ دیگر امراض، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، ای سی جی، ایم آر آئی، سٹی اسکین اور دیگر آپریشن وغیرہ کے متعلق بھی ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے کرام نے کہا ہے کہ انتقال کے بعد عورت کو غسل عورتیں اور مرد کو غسل مرد حضرات دیں۔ یہ شرم وحیا اور بنی نوع انسان کے اُس تقدس کو باقی رکھنے کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیاہے۔ حمل اور ولادت کے مسائل خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیوں کہ اس میں عورت کے اُس حصہ کو متعدد مرتبہ دیکھا جاتا ہے جس کا دیکھنا شوہر کے علاوہ کسی دوسرے شخص حتی کے اس کے ماں باپ کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔
لہٰذا حتی الامکان ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ خواتین کے خصوصی امراض کا علاج خاتون ڈاکٹر ہی سے کرایا جائے۔
وما علینا الاالبلاغ!

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔