87 total views, 1 views today

میٹرو بس فیض آباد سے گزر چکی تھی۔ آسمان پر بادلوں کا شامیانہ تنا ہوا تھا۔ پھوار کا ہلکا سا نقاب حسینۂ فطرت کے چہرے پر پڑا تھا۔ میٹرو کی دونوں جانب سبزہ لہرا رہا تھا۔ پھول پتیاں بارش میں منھ دھو کر نکھر گئی تھیں اور حسنِ فطرت کا جوبن سنوار رہا تھا۔ شبابِ نوخیز کی مستی پوری فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ میٹرو بس نے بھی رفتارِ رندانہ اختیار کر لی تھی۔ کبھی جھومتی ڈھولتی انڈر پاس میں تیزی سے دوڑ رہی تھی، تو کبھی جمالِ فطرت کے سامنے گردن جھکائے ہوئے دھیمی رفتار سے فلائی اوور پر چڑھ کر اسلام آباد میں سفر کر رہی تھی۔ مَیں بس کی آخری نشست کے کونے پر بیٹھا رہا، اور سوچتا رہا کہ یہ دنیا جس میں سورج ہر روز چمکتا ہے، صبح ہر روز مسکراتی ہے اور شام ہر روز پردۂ شب میں چھپ جاتی ہے، جس کی راتیں آسمان کی قندیلوں سے مزین اور جس کی چاندنی حسن افروزیوں سے جہاں تاب رہتی ہے، جس کی بہار سبزۂ گل سے لدی ہوئی اور جس کی فصلیں لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے گراں بار ہیں، جس دنیا میں روشنی اپنی چمک، رنگ اپنی بوقلمونی، خوشبو اپنی عطر بیزی اور موسیقی اپنا نغمہ و آہنگ رکھتی ہے، ضرور اس پردۂ ہستی کے پیچھے حسن افروزی اور جلوہ آرائی کی کوئی قوت کام کر رہی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ جو کچھ بھی ظہور میں آئے، حسن و زیبائش کے ساتھ ظہور میں آئے اور کارخانۂ ہستی کا ہر گوشہ نگاہ کے لیے نشاط، سامعہ کے لیے سرور اور روح کے لیے بہشتِ راحت و سکون بن جائے ۔
عزیزانِ من، مَیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کر رہا کہ دنیا میں ہر تعمیر کے ساتھ تخریب ہے اور ہر سمٹنے کے ساتھ بکھرنا ہے۔ جس طرح سنگ تراش کا توڑنا پھوڑنا اس لیے ہوتا ہے کہ خوبی اور دلآویزی کا ایک پیکر تیار کردے۔ اگر سحاب کی گرج اور برق کی کڑک نہ ہوتی، تو بارانِ رحمت کا فیض کبھی نہ ہوتا۔ اسی طرح کائناتِ عالم کا تمام بگاڑ اس لیے ہے کہ بناؤ اور خوبصورتی کا فیضان ظہور میں آئے، لیکن انتہائی ادب اور بڑی معذرت کے ساتھ میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ یہ بگاڑ، عالم کی آرائش و زیبائش کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن بسا اوقات اس بگاڑ کی زد میں انسانیت بھی آجاتی ہے۔ مثال کے طور پر جب زلزلے میں کوئی پُل ٹوٹ جائے، یا کوئی فلک بوس عمارت زمین بوس ہو جائے، تو اس کی تعمیر دوبارہ پہلے سے اچھی کر دی جاتی ہے۔ آپ تاریخ کے اوراق ٹٹولیں، جتنے بھی شہر چشمِ زدن میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں، قدرت نے اور لوگ پیدا کرکے ان کے ہاتھوں دوبارہ وہ شہر تعمیر کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو زلزلے کی نذر ہو جاتے ہیں، ان کے لیے تو یہ بگاڑ صرف تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی، لیکن جو لوگ بچ جاتے ہیں، وہ ان کے اس حشر سے کچھ سبق کیوں حاصل نہیں کرتے؟
دراصل یہ زلزلہ ہے کیا؟ اس بارے میں لوگوں میں عجیب و غریب آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مافوق الفطرت قوتوں کے مالک دیو ہیکل درندے جو زمین کے اندر رہتے ہیں، وہ زلزلے پیدا کرتے ہیں۔ ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کی سینگ پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے، تو زلزلے آتے ہیں۔ کچھ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے اندرونی حصے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے، اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے، لیکن اس وقت سب سے مقبول نظریہ ’’پلیٹ ٹیکٹانک تھیوری‘‘ کا ہے، جس کی معقولیت کو تمام سائنس کے ماہرین نے تسلیم کر لیا ہے کہ جب زمین کی پلیٹ جو تہ در تہ مٹی، پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے، کسی ارضیاتی دباؤ کا شکار ہو کر ٹوٹتی یا اپنی جگہ چھوڑتی ہے، تو سطحِ زمین پر زلزلے کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں نظر تو نہیں آتیں، لیکن ان کی وجہ سے سطحِ زمین پر موجود ہر چیز ڈولنے لگتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے وہ خطے جہاں زلزلے زیادہ پیدا ہوتے ہیں، بنیادی طور پر 3 بیلٹوں پر مشتمل ہیں۔ پہلا بیلٹ جو مشرق کی جانب ہمالیہ کے پہاڑوں سے ملا ہوا ہے، انڈیا اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے ہوتا ہوا افغانستان، ایران، ترکی یورپ اور فرانس کے کوہِ ایلپس تک پہنچ گیا ہے ۔ دوسرا بیلٹ، شمالی براعظم امریکہ کے مغربی کنارے پر واقع الاسکا کے پہاڑی سے شروع ہوکر جنوب کی طرف ’’روکی ماؤنٹین‘‘ کو شامل کرتے ہوئے میکسیکو سے گزر کر جنوبی براعظم امریکہ کے مغربی حصے میں واقع ممالک کولمبیا اور پیرو سے ہوتا ہوا ’’چلی‘‘ تک پہنچ جاتا ہے۔ جب کہ تیسرا بیلٹ، براعظم ایشیا کے مشرق پر موجود جاپان سے شروع ہو کر تائیوان سے گزرتا ہوا فلپائن، برونائی اور انڈونیشیا تک پہنچ جاتا ہے۔ دنیا کے 50 فی صد زلزلے ذکر شدہ بیلٹس میں واقع ہوتے ہیں۔ تقریباً 40 فی صد زلزلے براعظموں کے ساحلی علاقوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب کہ بقیہ 10 فی صد زلزلے دنیا کے ایسے علاقوں میں جو نہ پہاڑی ہیں، اور نہ ساحلی، رونما ہوتے ہیں۔ بہرحال موجودہ سائنس کا تو یہ ماننا ہے جسے وہ میڈیا پر چلا چلا کر اس کی تشہیر کر رہاہے کہ زلزلوں کا ظہور کسی عبرت اور نصیحت کے لیے نہیں بلکہ اس کا تعلق تو طبیعیات سے ہے۔
عزیزانِ من، اب ذرا اسلام کا نقطۂ نظر بھی ذہن نشین کیجیے۔ قرآنِ کریم میں قومِ شعیب پر عذاب آنے کا تذکرہ ہوا ہے اور اس کی وجہ قرآن کریم نے ناپ تول میں کمی بیشی بتائی ہے کہ ان کی عادت بن گئی تھی کہ لینے کا وقت آتا، تو زیادہ لیتے اور دینے کا وقت آتا، تو کمی کردیتے تھے۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر جو عذاب آیا، سورۃ اعراف میں جس کا ذکر ہوا ہے۔ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ حیلے حوالے اور کٹ حجتی کرنے کی وجہ سے ان کو زلزلے نے آدبوچا، اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔
اور قارون جو مال داری میں ضرب المثل تھا، جب اس سے کہا گیا کہ خزانوں پر اللہ کا شکر ادا کرو، تو کہنے لگا، یہ سب تو میرے زورِ بازو کا کرشمہ ہے۔ چناں چہ اللہ نے اسے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
اس کے علاوہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے کہ جب لوگ زنا کو حلال کرلیں، شراب پینے لگیں اور گانے بجانے کا مشغلہ اپنا لیں، تو اللہ زمین کو حکم دیتا ہے کہ زلزلہ برپا کردے۔ اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسولؐ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’’قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے اور زلزلوں کی کثرت ہو جائے۔‘‘
عزیزانِ من، اسلامی نقطۂ نظر زلزلے کے بارے میں بہت واضح اور معقول ہے کہ اس زمین پر جب بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بڑھ جائے، تو اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے۔
پہلا زلزلہ جو انسان نے اپنی تحریر میں ریکارڈ کیا، تقریباً 3 ہزار سال قبل 1177 قبل مسیح میں چین میں آیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت سے لے کر اب تک آنے والے زلزلے 8 کروڑ انسانوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ زمین کے کس حصے کی پلیٹیں ہلتی ہیں اور کب ہلتی ہیں؟ یہ پلیٹیں روز روز کیوں نہیں ہلتیں؟ ان سوالوں کا جواب ہمیں شریعت دیتی ہے۔ شریعت یہ کہتی ہے کہ طبعی اسباب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اسباب بندوں کے موافق بتاتا ہے۔ یا سائنس کی زبان میں یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی جغرافیائی اور ماحولیاتی پیرامیٹرز کو بندوں کے موافق بناتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی ان پیرامیٹرز میں تبدیلی لاکر لوگوں کو آفات میں جکڑ لیتا ہے، تاکہ لوگ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب بن جائیں۔ ایک اور روایت سے اس بات کو سمجھ لیں جسے مصنف ابنِ ابی شیبہ نقل کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ کے زمانے میں مدینہ کے اندر زلزلہ آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا رب چاہتا ہے کہ تم اپنی خطاؤں کی معافی مانگو!‘‘
میری گذارش ہے کہ آنے والی بگاڑ سے پہلے پہلے ازراہِ کرم آپ اپنی گناہوں پر اللہ سے معافی مانگیں، اور آئندہ کے لیے توبہ کریں۔ ورنہ پروردگارِ عالم کائنات کے بناؤ اور خوبصورتی کے لیے بگاڑ پیدا کرتے رہیں گے، اور آپ زلزلوں کی نذر ہوتے رہیں گے۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے