58 total views, 1 views today

اب اہلِ سوات یومِ عاشور نہایت سادہ انداز سے مناتے ہیں۔ یومِ عاشور میں بعض اللہ والے دو نفلی روزے رکھتے ہیں۔ اس ماہِ محرم میں اہلِ سوات دس دنوں تک شادی بیاہ سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ سوات میں ماتمی جلوس نہیں نکلتا کہ اہلِ سوات سنی مسلک سے وابستہ ہیں، لیکن نواسۂ رسولؐ کی شہادت پر سب لوگ نہایت دکھی ہوتے ہیں، لیکن اہلِ شیعہ کی طرح اس کا برملا اظہار نہیں کرتے۔
قارئین، بہت پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گھروں میں والدہ صاحبہ یا دادی صاحبہ پشتو زبان میں حسنؓ و حسینؓ کی یاد میں کتابیں پڑھتی تھیں۔ اہلِ محلہ (عورتیں) اکٹھے ہوکر اُسے غور سے سنتے تھے۔ دسویں محرم کو صبح سویرے اہلِ سوات قبرستانوں کی جانب رُخ کرتے اور وہاں اپنے پیاروں کی قبروں میں مٹی ڈالتے تھے۔ پودے لگا کر اُسے پانی دیتے تھے۔ شام کو حسنؓ اور حسینؓ کی یاد میں مختلف پکوان بناکر گھروں میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ اس دن سب کے گھروں میں رات کو ایک مخصوص کھانا برنج تیار ہوتا تھا۔ یوں دسویں محرم تک ادب آداب کے ساتھ یہ غم منایا جاتا تھا۔
یہ میرے بچپن کی یادیں ہیں جو محرم سے وابستہ ہیں۔ پھر جب میں بڑا ہوا اور ملازمت کے سلسلے میں سوات سے باہر دوسرے علاقوں میں رہنا پڑا، تو وہاں میں شیعہ حضرات کے ماتمی جلوسوں کے ساتھ پیچھے پیچھے دوسرے سنی لوگوں کے ساتھ شامل ہوجاتا۔ اہلِ شیعہ اپنے آپ کو مارتے۔ ہم بھی اُن کے ساتھ اپنے انداز سے اس غم میں گویا شریک ہوجایا کرتے۔ رات کو امام بارگاہ میں جاکر وہاں مرثیے سنا کرتے۔ اس دور میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سنی، شیعہ کے تعلقات مثالی ہوا کرتے تھے۔ نہ ہم سے کوئی پوچھنے والا ہی تھا کہ تم امام بارگاہ میں کیوں بیٹھے ہوئے ہو، یہاں کیوں آئے ہو؟ یا ہمارے ماتمی جلوسوں کے ساتھ تم لوگ کیوں پیچھے پیچھے آتے ہو؟
مجھے مردان، بنوں اور پشاور صدر اور شہر میں مدتِ ملازمت کے دوران میں ہر سال یہ ماتمی مناظر دیکھنے پڑتے تھے۔ اب حالیہ چند سالوں میں امن وامان کا مسئلہ سر اٹھا چکا ہے۔ ایک ماتمی جلوس کی رکھوالی کرتے ہوئے ملک سعد جیسا پولیس آفیسر جامِ شہادت نوش کر گیا ہے۔
اس دفعہ مجھے سوشل میڈیا پر مختلف علاقوں اور ملکوں کے ماتمی جلوس دیکھنے کو ملا۔ غالباً پارا چنار تھا، جہاں ماتمی جلوس میں ڈھولک کی تاپ پر اہلِ جلوس خود کو مار رہے تھے۔ مجھے پہلی بار یہ منظر دیکھنے کو ملا۔ اگر پہلے مجھے اس کا علم ہوتا، تو میں اپنی کتاب ’’د پختنو موسیقی‘‘ میں اس کا ذکر کردیتا۔ ڈھولک کی تاپ پر اتنڑ دیکھنے کا موقعہ تو بار بار ملتا ہے، لیکن یہ میرے لیے ایک انوکھا واقعہ تھا۔ مَیں نے سوشل میڈیا پر پاکستان سے باہر دوسرے ملکوں کے ماتمی جلوسوں کو بھی دیکھا۔ ایک جلوس میں اہلِ شیعہ خود کو پستول کی گولی سے زخمی کر رہا تھا، وہ منظر بھی میرے لیے عجیب تھا۔ ایک علاقہ غالباً قطر معلوم ہوتا تھا، کیوں کہ وہ لوگ عربی پوشاک میں تھے، ایک آدمی کلاشنکوف کی گولی سے خود کو زخمی کر رہا تھا۔ شیعہ حضرات کے عقیدے کے مطابق خود کو زخمی کرکے حضرت حسین ؓ اور دیگر شہدائے کربلا کے خون میں اپنا خون شامل کرنا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اللہ جانے کہ یہ اہلِ تشیع کن کن انداز سے یہ ماتم مناتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ، ہمیں رسولِ مقبولؐ اور اُن کے صحابہؓ کے صحیح معنوں میں پیروکار بنا دے، اور ان کاموں سے پناہ میں رکھے، جو انہوں نے نہیں کیے ہیں۔

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے