84 total views, 3 views today

جب ہم مسلم امہ کے موجودہ دینی، سیاسی، تہذیبی، تمدنی اور معاشرتی زوال و انحطاط کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں مجبوراً ان حالات و عوامل کا کھوج اور سراغ لگانے کے لیے ماضی میں جھانکنا پڑتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے بعد انسانیت پہلے ہی کی طرح گمراہی اور ضلالت کا شکار ہوگئی اور یہ دور کئی صدیوں پر محیط ہے۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک بار پھر اور آخری بار انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے وہ آخری پیغمبر مبعوث فرمایا جس کو پورا دین ’اسلام‘ کے نام سے قرآن کی شکل میں عطا فرمایا اور آپؐ نے اپنی تئیس سالہ دورِ رسالت میں تبلیغ و تلقین، تعلیم و تربیت اور ہجرت و جہاد کے ذریعے اس دینِ اسلام کو عملی شکل میں قائم کیا۔ آپ کے بعد آپ کے چاروں خلفا نے آپ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق تقریباً تیس سال تک خلافت علی منہاج النبوہ کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کیا، لیکن پھر بعد میں دشمنانِ اسلام کی سازشوں اور اپنوں کی نسلی اور قبائلی عصبیتوں کی وجہ سے یہ نظام قائم نہ رہ سکا، اور خلافت، شخصی بادشاہت اور ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ بنو امیہ کی اس قبائلی عصبیت پر مبنی اس ملوکانہ دورِ حکومت میں یزید بن معاویہ ؓ سے لے کر مروان تک اور مروان سے لے کر ولید بن عبدالملک تک اگرچہ سیاسی طور پر تو خلافت کا نظام ختم ہوگیا، لیکن دینِ اسلام عملاً قانونی، معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے قائم رہا۔ بنو امیہ کے پورے دورِ حکومت میں سوائے اس کے کہ اسلام اپنے حقیقی سیاسی نظامِ خلافت کے ختم ہونے سے روحانی طور پر کمزور ہوا، لیکن بحیثیتِ دین یہ اس پورے دور میں قائم رہا۔ اس میں کسی قسم کی آمیزش، تحریف اور دیگر مشکوک قسم کے فلسفے اور نظریے شامل نہیں ہوئے۔ اس میں خاص کر ولید بن عبدالملک کا دور فتوحات، دینی غلبے اور اشاعتِ اسلام کا سنہرا دور ہے۔ اس میں اگر ایک طرف ہم کو حجاج بن یوسف پوری حکومت کے انتظام و انصرام اور سیاسی طور پر کارفرما اور امور و معاملات پر حاوی نظر آتا ہے، تو دوسری طرف اس عجیب و غریب اور نفسیاتی طور پر ایک متضاد شخصیت کا حامل شخص جو نہایت ظالم، سفاک اور خونخوار کردار کا حامل ہے، جس نے صرف اختلافِ رائے اور کلمۂ حق کے اظہار کی بنیاد پر ایک لاکھ بیس ہزار افراد قتل کیے۔ اس نے اس امت کے چیدہ اور منتخب افراد کو نہایت ظالمانہ انداز میں بے گناہ قتل کیا۔ اس میں تابعین، تبع تابعین، علما، صلحائے امت، محدثین، فقہا اور صاحبانِ تقویٰ، نہایت پاکباز و باصفا اشخاص شامل ہیں۔ اس شخص کے ظلم و استبداد سے نجات کے لیے حرم محترم میں اللہ احکم الحاکمین سے دعائیں مانگی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے امت کو اس شخص کے ظلم و طغیان سے نجات عطا فرمائی، لیکن دوسری طرف اس شخص کی زندگی میں ہمیں ایسے روشن و تابناک پہلو بھی نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے تاریخ میں اس کا ایک اہم مقام ہے۔ یہی شخص ہے کہ اس کے دور میں پوری دنیا کے چاروں کونوں میں دینِ اسلام کا پیغام عملاً پہنچا۔ محمد بن قاسم سندھ کے راستے ہندوستان میں اسلام کا پیغام لے کر پہنچا۔ مسلم بن قتیبہ چین تک پہنچا۔ موسیٰ بن نصیر نے وسطِ ایشیا میں اسلام کا پیغام پہنچایا، اور طارق بن زیاد نے اندلس سپین کے ساحل پر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے لشکر کو فتح یا شہادت کا پیغام دیا۔ اس شخص حجاج کی قومی عربی غیرت کہیے یا اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ تسلیم کیجیے، جو کچھ بھی ہو لیکن ایک مسلم لڑکی کی فریاد پراس وقت ایسا جذباتی فیصلہ کیا کہ دنیا کے کونے کونے میں مسلم فوجیں دشمنوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں اور ایک مزید اور نیا محاذ کھولنا سیاسی حکمت و فراست کے لحاظ سے ایک خطر ناک فیصلہ تھا، لیکن اس شخص نے مسلم اُمہ کی ایک بیٹی کی پکار پر لبیک کہا۔ اس کی غیرت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ ایک مظلوم بیٹی کی فریاد کو سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر نظر انداز کرے۔ اس نے ایک نو عمر سترہ سالہ محمد بن قاسم کی سرکردگی میں ایک لشکر تشکیل دیا اور اس کو راجہ داہر کو سزا دینے کے لیے سندھ روانہ کیا۔ نوجوان سترہ سالہ محمد بن قاسم سندھ میں وارد ہوا۔ راجہ داہر کی فوجوں سے ایک ایسے لشکر کا مقابلہ ہوا۔ جو اپنے وطن سے کوسوں دور ایک اجنبی ماحول اور حالات میں برسرِپیکار تھی۔ بہرحال یہ ایک طویل داستان ہے، جو تاریخ کی کتابوں میں پوری تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ ہمیں اس کے صرف اس حصے کا ذکر کرنا ہے اور اس کو سامنے لانا ہے کہ سندھ میں محمد بن قاسم کی سرکردگی میں مجاہدینِ اسلام نے صرف تلوار کے ذریعے فتوحات حاصل نہیں کیں، بلکہ اپنے اخلاقی کردار اور عدل و انصاف کے ذریعے دلوں کو فتح کیا۔ مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کے ساتھ محبت و شفقت کا رویہ اختیار کیا۔ عفو و درگزر سے کام لیا۔ ایک جابر و ظالم اور سفاک ترین گورنر کے بھیجے ہوئے سپہ سالار اور اس کی فوج نے ہندوستان کے باسیوں سے ایسا شفقت آمیز رویہ اختیار کیا کہ بے شمار لوگ ان فاتحین کے اخلاقِ کریمانہ کو دیکھ کر مسلمان ہوئے۔ یہ خیرالقرون کے مجاہدین اسلام اپنے ساتھ حقیقی اسلامی رویہ اور عدل و انصاف کا نظام لائے تھے۔ اس وجہ سے تھوڑے عرصے میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ ملتان تک پہنچا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا، تو شاید آج ہندوستان میں ایک بھی غیر مسلم موجود نہ ہوتا اور سارا ہندوستان دینِ اسلام کی روشنی سے منور ہوتا، لیکن بہر حال شخصی، مطلق العنان اور استبدادی طرزِ حکومت اپنے اندر ہزار ہا خرابیاں اور کوتاہیاں رکھتی ہیں، جس کا خمیازہ امت کو بھگتنا ہوتا ہے۔
ولید بن عبدالملک کے بعد اس کے بھائی اور جانشین سلیمان بن عبدالملک کے ظالمانہ اور ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں نے سارا منظر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ چاروں سپہ سالارجو دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانے اور دینِ اسلام کو غالب کرنے کے لیے دنیا کے کونے کونے میں لڑ رہے تھے۔ پابہ جولاں دمشق پہنچائے گئے، اور نہایت بے رحمانہ اور سفاکانہ انداز میں قتل کیے گئے۔ یوں اسلام کے نور سے پورے عالم کو روشن و منور کرنے کا پروگرام قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا، لیکن یہ حقیقت سامنے آکر رہی کہ حقیقی اسلام اور عملی اسلامی کردار جہاں بھی پہنچا، اس نے ماحول کو تبدیل کیا۔ لوگوں کے ذہن و فکر کو روشن کیا، اور آج بر صغیر، جنوبی ایشیا میں مسلمان کے نام سے جو قوم موجود ہے۔ یہ ان نفوسِ قدسیہ کی جدوجہد اور کوشش کا نتیجہ ہے، جو ان پاک نفس اور پاک طینت مجاہدینِ اسلام نے انجام دیا، لیکن اس کے برعکس بہت عرصہ بعد جو طالع آزما فاتحین وسطی ایشیائی علاقوں سے توسیع سلطنت اور جوع الارض کے جذبے سے ہندوستان میں وارد ہوئے، ان کا انداز بالکل مختلف تھا۔
محمودِ غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کیے اور باربار ہندوستان کے وسیع علاقوں کو فتح کیا، لیکن ہر بار مفتوحہ علاقوں کو بغیر کسی انتظام کے چھوڑ کر واپس غزنی چلا جاتا۔ اسی طرح دوسرے مسلم حکمرانوں نے ہندوستان پر حکمرانی کی، لیکن ان کا مقصد دینِ اسلام کی اشاعت اور فروغ نہ تھا بلکہ اپنی بادشاہی اور توسیعِ سلطنت ہی ان کا اصل مقصد تھا۔ ایک ہزار سالہ طویل دورِ حکمرانی میں غوری، ابدالی، خلجی، تغلق، خاندانِ غلاماں اور آخر میں ظہیر الدین بابر سے بہادر شاہ ظفرؔ تک مغلیہ دورِ حکومت تک یہ مسلمانوں کے غلبے کا دور ہے، لیکن کئی ذاتی طور پر نیک و پاکباز جیسے اورنگزیب عالمگیر جیسی شخصیت کے باوجود دینِ اسلام مغلوب رہا۔ چند بزرگانِ دین اور نیک سیرت انسانوں کی انفرادی مساعی سے لوگ مسلمان ضرور ہوتے رہے، لیکن اسلام بحیثیتِ دین کو نہ اورنگ زیب عالمگیر نے اپنی چالیس سالہ دور حکمرانی میں قائم کیا اور نہ کسی اور نے۔ بلکہ اکبر، جہانگیر اور دوسرے کئی بادشاہوں اور حکمرانوں نے تو دین کا حلیہ ہی بد ل کر رکھ دیا۔ اندازہ لگائیے، ایک مسلمان جلال الدین محمد اکبر نے تو نیا دین الٰہی تک تشکیل دیا۔ جس میں تمام مذاہب کو شامل کیا گیا، لیکن اسلام کی بیخ کنی کی گئی اور اسلامی شعائر کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا گیا۔
ہندوستان میں ایک ہزار سال تک حکومت کرنے کے باوجود مسلمان اقلیت میں اور غیر مسلم اکثریت میں رہے اور اس ذاتی عیش و عشرت پر مبنی ایک ہزار سالہ حکمرانی کا انجام کتنا دردناک اور عبرتناک رہا کہ سات سمندر پار سے ایک اجنبی قوم نے اپنے چند آدمیوں کے ساتھ پورے ہندوستان کو سازشوں، ریشہ دوانیوں اور ایک کو دوسرے کے ساتھ لڑانے کے ذریعے فتح کیا۔ وہ چند افراد جو کالی کٹ اور مدراس کے ساحلوں پر اترے، انہوں نے سراج الدولہ کو میر جعفر کے ساتھی ہندوستانیوں کے ذریعے شکست دی۔ میسور کے ٹیپو سلطان کو میر صادق اور نظام حیدر آباد کے ذریعے شکست سے دوچار کیا۔ گنتی کے چند انگریزوں نے حقیر مالی مفادات کے ذریعے ہندوستانیوں کے ضمیر خریدے اور دوسو سال تک پورے برصغیر جنوبی ایشیا کو غلام بنا کر رکھا اور جب اپنے مجبوریوں اور حالات کے مطابق رخصت ہونے لگا، تو اپنی دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے تربیت یافتہ غلاموں کو پاکستان پر مسلط کرکے گیا۔ نام نہاد سیاسی آزادی کے 72 سال بعد بھی انگریز آقاؤں کا نظام مسلط ہے۔ ہم ان کے سیاسی، معاشی، تہذیبی اور ثقافتی غلبے کا شکار ہیں۔
بقولِ اکبر اِلہ آبادی
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے ہنود
اور آج بھی ہم اپنے پرانے آقاؤں سے ’’خیر‘‘ اور ’’بھلائی‘‘ کی امیدیں قائم رکھے ہوئے ہیں۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے