159 total views, 1 views today

ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے، جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں، لیکن دل و دماغ کے لحاظ سے اسلامی ہوں۔ جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے لحاظ سے ان میں اسلامی شعور زندہ ہو۔
عزیزانِ من، حجتہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی نے ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ قائم کرکے اپنے عمل سے یہ نعرہ کیوں لگایا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانوی ہند کی فاتح قوم ’’انگریز‘‘ کو فکر تھی کہ ہندوستان کے دل و دماغ کو یورپین سانچوں میں کس طرح ڈھالا جائے، جس سے برطانویت اس ملک میں جڑ پکڑ سکے؟ ظاہر ہے کہ دل و دماغ کے بدلنے کا واحد ذریعہ، تعلیم ہوسکتی تھی جس نے ہمیشہ ان سانچوں میں دلوں اور دماغوں کو ڈھالا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو فرنگی رنگ میں رنگنے کے لیے ’’لارڈ میکالے‘‘ نے تعلیم کی اسکیم پیش کی۔ اسکولی اور کالجی تعلیم کا نقشہ یورپ سے ہندوستان پہنچا اور یہ نعرہ بلند ہوا کہ ’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں اور دل و دماغ کے لحاظ سے انگلستانی ہوں۔‘‘ یقینا یہ آواز جب ایک فاتح اور برسرِ اقتدار قوم کی طرف سے اٹھی اور تھی بھی اس تعلیم کی، جو بذاتِ خود ایک انقلاب آفریں حربہ ہے، تو اس آواز نے ملک پر ذہنی انقلاب کا خاطر خواہ اثر ڈالی۔ اس تعلیم سے ایسی نسلیں ابھرنی شروع ہوگئیں جو اپنے گوشت پوست کے لحاظ سے یقینا ہندوستانی تھیں، لیکن اپنی طرزِ فکر اور سوچنے کے ڈھنگ کے اعتبار سے انگریزی جامہ میں نمایاں ہونے لگیں۔ اسی ذہنی مگر خطرناک انقلاب کو دیکھ کر مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا۔ اور یہ نعرہ بلند کیا کہ ’’ہم ایسے نوجوان تیار کریں گے جو خالص اسلامی ہوں۔‘‘ اس کا ایک ثمرہ یہ نکلا کہ مغربیت کے ہمہ گیر اثرات رُک گئے، اور بات یک طرفہ نہ رہی، بلکہ ایک طرف اگر مغربیت شعار افراد نے جنم لینا شروع کیا، تو دوسری طرف مشرقیت نواز اور اسلامیت طراز جنبہ بھی برابر کے درجہ میں آنا شروع ہو گیا، جس سے یہ خطرہ باقی نہ رہا کہ مغربی سیلاب سارے خشک و تر کو بہا لے جائے گا، بلکہ اگر اس کی رو کا ریلا بہاؤ پر آئے گا، تو ایسے بند بھی باندھ دیے گئے ہیں جو اسے آزادی سے آگے نہ بڑھنے دیں گے ۔
بہرحال وہ ساعتِ محمود آگئی کہ مدرسہ کا آغاز ہوا اور اس کی یہ تعمیر و دفاع کی ملی جلی تعلیم عملاً ساخت وجود پر آگئی۔ ملا محمود نے اپنے سامنے ایک شاگرد کو جس کا نام بھی محمود تھا جو بعد میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کے نام سے مشہور ہوئے، بٹھا کر کسی عمارت میں نہیں جو مدرسہ کے لیے بنائی گئی ہو، بلکہ چھتہ کی مسجد کے کھلے صحن میں ایک انار کے درخت کے سائے میں بیٹھ کر اس مشہور درسگاہ دارلعلوم دیوبند کا افتتاح کردیا۔ نہ کوئی مظاہرہ تھا، نہ نام و نمود کی تڑپ تھی، اور نہ پوسٹر اور اشتہارات کی بھرمار۔ بس ایک شاگرد اور ایک استاد۔ شاگرد بھی محمود اور استاد بھی محمود۔ دو نفر سے یہ لاکھوں کے ایمانوں کی حفاظت کی اسکیم معرضِ وجود میں آگئی۔ علمی حیثیت سے یہ ولی اللہی جماعت مسلکاً اہل سنت والجماعت ہے، جس کی بنیاد قرآن وسنت اور اجماع وقیاس پر قائم ہے۔ اپنی جامع طریق سے دارالعلوم نے اپنی علمی خدمات سے سائبیریا سے لے کر سماترا اور جاوا تک، برما سے لے کر عرب اور افریقہ تک علومِ نبویہ کی روشنی پھیلا دی جس سے پاکیزہ اخلاق کی شاہراہیں صاف نظر آنے لگیں۔ 1857ء کے بعد جب مسلمانوں کی شان و شوکت ہندوستان سے پامال ہوچکی تھی، اور حالات میں یکسر انقلاب اور تبدیلی آچکی تھی۔ دارالعلوم نے ان بدلتے ہوئے حالات میں جو سب سے بڑا کام کیا، وہ یہ کہ مسلمانوں میں بہ لحاظِ دین و مذہب اور بہ لحاظِ معاشرت، تبدیلی نہیں ہونے دی کہ وہ حالات کی رو میں بہہ جائیں۔ پختگی اور اولوالعزمی کے ساتھ انہیں اسلامی سادگی اور دینی ثقافت کے زاہدانہ اور متوکلانہ اخلاق پر قائم رکھا۔ یوں برصغیر کی اس عظیم درسگاہ نے عالمِ اسلام کی ایسی شخصیات پیدا کیں جنہوں نے ملی، فکری اور عملی رہنمائی کرکے مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ یہاں سے ایسا چشمۂ فیض جاری کیا جس نے برصغیر کی تاریخ کا رُخ موڑ کر رکھ دیا۔ اس درسگاہ سے علم و فضل کے ایسے آفتاب و مہتاب پیدا ہوئے، جنہوں نے ایک دنیا کو جگمگا کر رکھ دیا۔ ایک زمانہ ایسا تھا کہ دارالعلوم کے چپڑاسی سے لے کر صدر مدرس اور مہتمم تک ہرشخص صاحب نسبت ولی کامل تھا۔ دن کے وقت یہاں علوم و فنون کے چرچے ہوتے تھے اور رات کے وقت اس کا گوشہ گوشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوتِ قرآن سے گونجتا تھا۔ اس دور میں جو شخصیات دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئیں انہوں نے عبادات، معاملات، اخلاق و معاشرت، سیاست اور اجتماعی امور میں ایسے تابناک کردار پیش کیے ہیں کہ آج اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسلام کی مجسم تبلیغ تھا، وہ جہاں بیٹھتا گیا ایک جہان کو سچا مسلمان بنا کر ہی اٹھتا۔
حجتہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی، فقیہ الہند مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری، شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی، مفتیِ اعظم ہند مولانا کفایت اللہ دہلوی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے ہزاروں مردانِ خدا دارالعلوم کے تاجدار بنے۔ ان ہی بزرگانِ دین نے فدائیت وجاں نثاری کے نمونے پیش کیے۔ درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تصنیف و تالیف الغرض دینِ اسلام کے دفاع اور دعوت میں جان کی بازی لگاتے ہوئے جہاد وقتال فی سبیل اللہ کے عملی میدانوں میں بھی سرگرمِ عمل رہے تھے۔ دنیاوی جاہ ومنصب، مال و دولت، عزت و شہرت، نام و نمود، ذاتی آرام و آرائش سے کنارہ کش اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے جذبہ میں مگن ’’ان صلاتی ونسکی ومحیای و مماتی للہ رب العالمین‘‘ کا پیکر تھے۔ یہ بزرگانِ دین ظاہر و باطن کے جامع، علم و عمل کے سنگھم، معقولات و منقولات کے بہ یک وقت بحر ذخار، رات کو عابد شب زندہ دار، دن کو دفاع حق میں تیغ آب دار، تدریس و علوم کے وقت ان سے ’’یعلمہم الکتاب و الحکمہ‘‘ کی جلوہ ریزیاں نمایاں اور تربیت نفوس کے وقت ’’یزکیہم‘‘ کی نور افزائیاں ہویدا تھیں۔ ان میں سے ہر ایک بہ یک وقت کمالات دینی کا مجمع البحار تھا۔ اس کا اندازہ آپ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن کی شان سے لگائیں کہ وہ کون تھے، وہ علم کے کس درجہ پر فائز تھے؟ ان کے علمی مقام کو کیسے سمجھا جائے!
عزیزانِ من، جن کے شاگرد حضرت تھانوی، حضرت مدنی اور حضرت کشمیری جیسے علم کے بحر ہوں، تو ان کے شیخ کا کیا کہنے، وہ تو شیخ الہند شیخ العالم تھے۔ وہ تو علمِ شریعت و طریقت کا بحر بے کنار تھے۔ کبھی دیوبند میں درسِ حدیث دیتے، تو کبھی حرمین شریفین میں۔ کبھی انگریزوں کے خلاف تحریکِ آزادی میں مسلمانوں کے لیے کانگریس میں شرکت کا فتویٰ صادر فرماتے، تو کبھی ریشمی رومال کی تحریک شروع کرکے مسلمانوں میں بیداری کی نئی روح پھونک دیتے۔ آپ کی اس جد و جہد آزادی کو دیکھ کر دشمن نے مالٹا میں آپ کو اسیر کرنا پڑا، لیکن آپ کا درسِ آزادی اس قدر مؤثر تھا کہ شاگردوں نے جمیعت علمائے ہند تشکیل دے کر قربانی کے نذرانے پیش کیے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے