96 total views, 1 views today

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے معتکف (اعتکاف کرنے والا ) کے بارے میں فرمایا: ’’اعتکاف کرنے والا چوں کہ (اعتکاف کے زمانے میں) گناہوں سے رُکا رہتا ہے، اس لیے اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جو اُس شخص کے حق میں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیکیوں پر عمل پیرا ہو۔ (ابن ماجہ)
اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے رُکا ہوا تو گناہوں سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا معاملہ اس کے ساتھ یہ ہے کہ اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جو اس دوران میں وہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کرتا، یعنی یہ بات تو نہیں لکھی جاتی کہ اگر وہ مسجد سے باہر رہتا، تو یہ بدی کرتا، لیکن یہ لکھا جاتا ہے کہ اگر وہ باہر رہتا تو یہ نیکی کرتا۔
یہ خلق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا انتہائی فیاضانہ اور مربیانہ معاملہ ہے کہ گناہ تو اس وقت تک نہیں لکھا جاتا، جب تک کہ آدمی سے اس کا صدور نہ ہوجائے اور پھر جتناہ گناہ صادر ہوتا ہے صرف اسی قدر لکھا جاتا ہے، لیکن نیکی کا معاملہ جدا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ بندۂ مومن کے حق میں وہ نیکی لکھی جاتی ہے جو اس سے صادر ہوتی ہے بلکہ وہ نیکی بھی لکھ دی جاتی ہے جس کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کا موقع ملنے کی صورت میں وہ اسے انجام دیتا، اسی طرح اگر اس کے دل میں نیکی کا ارادہ ہی آیا ہو اور وہ اسے کسی وجہ سے پورا نہ کرسکا ہو، تب بھی وہ نیکی اس کے حق میں لکھ دی جاتی ہے (جب کہ محض گناہ کا ارادہ کرنے پر اس وقت تک کوئی مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے)۔ یہ خاص معاملہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے ساتھ کرتا ہے، کیوں کہ وہ فیاض ہے، جتنا چاہے اپنی طرف سے کسی کو دے۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ نیکی کے بغیر اجر کا مستحق ٹھہرایا جانا عجیب بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بادشاہ اپنی خوشی سے دیتا ہے، تو اس پر کسی کے اعتراض کرنے کی کیا معقول وجہ ہوسکتی ہے؟
(درسِ مشکوٰۃ سے انتخاب رمضان کی برکات از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، صفحہ نمبر 11اور 12 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے