201 total views, 2 views today

حنفی، حنبلی، شافعی اور مالکی مکاتب روزہ چھوڑنے کی وجوہ میں سفر کو بھی شامل کرتے ہیں، بہ شرط یہ کہ سفر سحری سے پہلے شروع ہو اور مسافر اس نقطے پر پہنچ جائے جہاں نماز صبح سے پہلے قرض (Overdue) ہوجائے۔ لہٰذا اگر وہ سورج طلوع ہونے کے بعد سفر شروع کرے، تو روزہ توڑنا جائز نہیں، اور اگر ایسا کرلیا جائے، تو کفارہ کے بغیر یہ روزہ بعد میں پورا کرنا لازم ہوگا۔
شافعی ایک اور شرط عائد کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ مسافر ایسا نہ ہو جو اکثر سفر میں رہتا ہو، مثلاً ڈرائیور۔ چناں چہ اگر وہ اکثر سفر میں رہتا ہے، تو روزہ توڑنے کا مستحق نہیں۔
حنفی، حنبلی، شافعی اور مالکی مکاتب کے مطابق روزہ توڑنا اختیاری ہے نہ کہ لازمی۔ لہٰذا تمام شرائط پوری کرنے والا مسافر روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی راہ منتخب کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ حنفیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سفر کے دوران میں قصر نماز ادا کرنا لازمی ہے نہ کہ اختیاری۔
جعفری کہتے ہیں کہ اگر مسافر کے لیے قصر نماز کی شرائط پوری ہوتی ہوں، تو اس کا روزہ قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اگر کوئی شخص روزہ رکھتا ہے، تو کفارے کے بغیر چھوڑے ہوئے روزے رکھنے کا پابند ہوگا۔ یہ اس صورت میں ہوگا جب کوئی شخص دوپہر سے قبل اپنا سفر شروع کرے، لیکن اگر وہ دوپہر کے وقت یااس کے بعد ایسا کرے، تو اسے روزہ رکھنا ہوگا، اور اگر وہ روزہ توڑ لے، تو وہی کفارہ ادا کرنا ہوگا، جو دانستہ روزہ توڑنے والے کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر مسافر روزہ توڑے بغیر دوپہر سے پہلے اپنے شہر یا منزلِ مقصود پر پہنچ جائے، جہاں کم از کم دس دن قیام کرنا ہو، تو اس پر روزے جاری رکھنا واجب ہوگا۔ روزہ توڑنے کی صورت میں وہ اس شخص جیسا قرار پائے گا، جو دانستہ روزہ توڑتا ہے۔ (“اسلامی شریعت کا انسائیکلو پیڈیا” از لیلہ بختیار، ترجمہ یاسر جواد مطبوعہ “نگارشات”، پہلی اشاعت 2008ء، صفحہ نمبر 130 اور 131 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے