595 total views, 1 views today

ہر مسلمان جانتا ہے کہ ’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ جس طرح نماز فرض ہے، اسی طرح زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ قرآنِ کریم نے بے شمار مواقع پر زکوٰۃ کو نماز کے ساتھ ملاکر بیان فرمایا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہے: ’’نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘ لیکن یہ جتنا اہم فریضہ ہے اور جتنے بے شمار اس کے فائدے ہیں، اتنی ہی اس کی طرف سے ہمارے معاشرے میں غفلت برتی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں کرتے کہ ان کے دلوں میں اسلام کے فرائض، واجبات اور ارکان کی اہمیت ہی نہیں۔ جو پیسہ آرہا ہے آنے دو، غنیمت ہے اور اس کو اپنے اللے تللے میں خرچ کرتے رہو۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہم تو دینی کاموں کے لیے پیسے دیتے رہتے ہیں، کبھی کسی کام کے لیے اور کبھی کسی کام کے لیے۔ لہٰذا ہماری زکوٰۃ خود بہ خود نکل رہی ہے۔ اب الگ سے زکوٰۃ نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟
بعض لوگ وہ ہیں جن کو پتا ہی نہیں کہ زکوٰۃ کس وقت فرض ہوتی ہے، کس شخص پر فرض ہوتی ہے؟ وہ لوگ زکوٰۃ کے احکام سے ناواقف ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ذمے زکوٰۃ فرض ہی نہیں۔ حالاں کہ ان پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگ زندگی بھر زکوٰۃ کی ادائیگی سے محروم رہتے ہیں۔
شریعت نے زکوٰۃ کا ایک نصاب مقرر کیا ہے، جس شخص کے پاس وہ نصاب موجود ہوگا، اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی اور وہ نصاب ساڑھے باؤن تولہ چاندی ہے۔ اگر کسی کے پاس چاندی کی صورت میں مذکورہ نصاب ہو، یا نقد رقم یا مالِ تجارت مذکورہ نصاب کے برابر ہو، تو اس شخص پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔ بہ شرط یہ کہ یہ روپے اس کی ضروریاتِ اصلیہ سے زائد ہوں یعنی روز مرہ کی ضروریات اور اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی ضرورت سے زائد ہوں۔
البتہ اگر کسی شخص پر قرض ہے، تو جتنا قرض ہے، وہ اس زکوٰۃ کے نصاب سے منہا کر لیا جائے گا۔ مثلاً یہ دیکھا جائے کہ یہ رقم جو ہمارے پاس ہے اگر اس کو قرض ادا کرنے میں صرف کردی جائے، تو باقی کتنی رقم بچے گی؟ اگر باقی رقم مذکورہ نصاب یعنی ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی بہ قدر ہے یا اس سے زائد ہے، تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور اگر کم ہے، تو پھر فرض نہ ہوگی۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس مذکورہ نصاب کے بہ قدر نقد رقم ہے، مگر وہ ہم نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے رکھی ہے، یا مکان بنانے کے لیے رکھی ہیں، یا گاڑی خریدنے کے لیے رکھی ہے، یا حج کی سفر کے لیے رکھی ہے۔ لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہ ہوگی۔ یہ خیال غلط ہے۔ اس لیے کہ ضرورت سے مراد زندگی کی روزمرہ کی کھانے پینے کی اشیا مراد ہے، لیکن جو رقم دوسرے منصوبوں کے لیے رکھی ہے اور وہ مذکورہ نصاب کے برابر ہے، اور اس پر سال گزر گیا، تو اس رقم پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
اگر کسی شخص کے پاس نقد رقم تو نہیں، لیکن اس کے پاس زیور کی شکل میں سونا یا چاندی ہے اور وہ بقدرِ نصاب ہے، یعنی ’’ساڑھے باؤن تولہ چاندی‘‘ یا ’’ساڑھے سات تولہ سونا‘‘ تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
اکثر و بیشتر گھروں میں زیور ہوتا ہے جو نصابِ زکوٰۃ کی مقدار کو پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا جس کی ملکیت میں وہ زیور ہے، چاہے وہ شوہر ہو یا بیوی، یا بیٹا اور یا بیٹی، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر شوہر کی ملکیت ہے، تو شوہر پر۔ اگر بیوی کی ملکیت ہے، تو بیوی پر اور اگر بیٹی کی ملکیت ہے، تو بیٹی پر واجب ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کی ملکیت کا مکلف بنایا ہے۔ ہر انسان پر اس کی ملکیت کے حساب سے احکام جاری ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر باپ صاحبِ نصاب ہے، تو اس پر زکوٰۃ اس کی ملکیت کے حساب سے واجب ہے۔ اگر بیٹا بھی صاحبِ نصاب ہے، تو بیٹے پر اس کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر شوہرصاحبِ نصاب ہے، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اور اگر بیوی بھی صاحبِ نصاب ہے، تو بیوی پر اس کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے۔ ہر ایک کی ملکیت کا الگ الگ اعتبار ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ اگر باپ بیٹے کی طرف سے یا شوہر بیوی کی طرف سے یا بیٹا باپ کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یعنی وہ اجازت دے کہ میری طرف سے ادا کرے اور وہ ادا کرے تو ٹھیک ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گھر کا جو بڑا اور سربراہ ہے، چاہے وہ باپ ہو یا شوہر، اگر اس نے زکوٰۃ نکال دی، توسب کی طرف سے زکوٰۃ ادا ہوگی۔ اب گھر کے دوسرے افراد کو زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات درست نہیں۔ ہر ایک کی ملکیت کا الگ الگ اعتبار ہے۔ جس طرح باپ کی نماز پڑھنے سے بیٹے کی نماز ادا نہیں ہوتی، اس طرح زکوٰۃ کا بھی یہی حکم ہے کہ ایک کی ادا کرنے سے دوسرے کی زکوٰۃ معاف نہیں ہوگی، بلکہ گھر کے اندر جو بھی صاحبِ نصاب ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
زکوٰۃ مندرجہ ذیل چیزوں پر فرض ہوتی ہے۔
٭ نقد روپیہ جو کہ نصاب کے برابر ہو۔ خواہ بینک میں ہو یا گھر پر۔
٭ سونے چاندی اور زیور پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ چاہے زیور استعمال ہو رہا ہو، یا یوں ہی رکھا ہوا ہو، جس کی ملکیت میں ہوگا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
٭ مالِ تجارت پر فرض ہوگی، مثلاً کسی شخص نے کوئی دکان کھولی ہوئی ہے۔ اب اس دکان میں جتنا مال رکھا ہے۔ اس کی قیمت لگائی جائے گی۔ اور قیمت اس طرح لگائی جائے گی کہ اگر اس کا پورا سامان آج ایک ساتھ فروخت کیا جائے، تو اس کی کیا قیمت لگے گی؟ بس قیمت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں ادا کرنا ہوگا۔
٭ اگر کسی شخص نے کسی کمپنی کے شیئرز خریدے ہوئے ہیں، تو وہ شیئرز بھی مالِ تجارت میں داخل ہیں۔ لہٰذا ان شیئرز کی جو بازاری قیمت ہے، اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔
٭ اگر کسی شخص نے کوئی مکان یا پلاٹ فروخت اور کاروبار کی نیت سے خریدا ہے، تو اس مکان یا پلاٹ کی مالیت میں زکوٰۃ فرض ہوگی۔
٭ اگر مکان یا پلاٹ کاروبار کی نیت سے نہیں خریدا بلکہ رہائش کی نیت سے خریدا ہے، تو اس پر زکوٰۃ فرض نہ ہوگی اور اگر مکان یا پلاٹ اس نیت سے خریدا ہے کہ اس کو کرایہ پر دے کر اس سے آمدنی حاصل کروں گا، تو اس صورت میں مکان کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ البتہ جو کرایہ آئے گا، وہ نقد میں شامل ہوکر اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کیا جائے گی۔
قارئینِ کرام! مذکورہ سارے مسائل ’’اصلاحی خطبات‘‘ مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب سے اخذ شدہ ہیں۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ معلوم کرنا ہو، تو مزید معلومات علمائے کرام سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے