275 total views, 1 views today

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی تشکیل کے وقت قوم کو ایک نظریہ اور ایک نعرہ دیا۔ نظریے کے بنیادی اجزا چار تھے۔ اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔ نعرہ یہ کہ ’’ہم عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان دیں گے۔‘‘ نظریہ چلا یا نہیں، لیکن نعرہ چل گیا۔ عوام پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب کے نعرے سے متاثر ہوئے اور اپنے ووٹ کے ذریعے ان کو ملک و قوم پر حکمرانی کا حق دے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ چھے سالہ دورِ حکومت کے دوران میں عوام کو روٹی ملی نہ کپڑا اور نہ مکان ہی ملا۔ بعد میں اپنے اقدامات، جا گیردارانہ اندازِ حکومت اور افتادِ طبع کے باعث اقتدار سے محروم ہو کر پاکستانی تاریخ کے قبرستان میں دفن ہوگئے۔
یہ تمہید اس لیے باندھی کہ ہم پیپلز پارٹی کے نظریاتی ایجنڈے کا جائزہ لیں اور اس بات کا تعین کر یں کہ یہ نظریہ کس حد تک صحیح اور قابل عمل ہے؟ سب سے پہلے اس نظریے کی پہلی دفعہ کہ ’’اسلام ہمارا مذہب ہے۔‘‘ بدیہی طور پر غلط اور اسلام کی غلط تشریح و توضیح ہے۔ وہ اس طرح کہ اسلام بنیادی طور پر مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ مذہب یعنی انگریزی میں “Religion” کا لفظ عیسائی پاپائیت کے غلبے کے نتیجے میں ردِ عمل کے طور پر ابھرنے والا تصور ہے کہ مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے۔ اجتماعی زندگی حکومت و سیاست اور نظامِ زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بس انفرادی طور پر اپنے خیال، عقیدے اور فکر کے مطابق جس بات کو صحیح سمجھیں، اس کے مطابق مذہبی رسومات، پوجا پاٹ اور نذر و نیاز بجا لائیں، لیکن قرآن و سنت کے صریح الفاظ اور ان کی توضیحات کے مطابق اسلام ’’دین‘‘ یعنی نظامِ زندگی ہے۔ قرآن میں ایک جگہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا صاف الفاظ میں ارشاد ہے: ’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ (ترجمہ): ’’بیشک اللہ کے نزدیک دین یعنی نظام زندگی صرف اسلام ہے۔‘‘ دوسری جگہ قرآن میں یہ الفاظ ہیں: ’’ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ و ہو فی الاخرۃ من الخاسرین۔‘‘ (ترجمہ): اور جس نے اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کیا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والا ہوگا۔
قرآن و حدیث میں مذہب کا لفظ کہیں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ ہاں، البتہ فقہ اسلامی میں مختلف فقہی مسالک کے لیے مذہب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مذہبِ امام ابو حنیفہؒ، مذہبِ امام شافعیؒ، مذہبِ امام مالکؒ وغیرہ۔لیکن یہ محدود معنی میں مسلک کے متراد ف کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے مکی زندگی میں جب لوگوں کو اللہ کی ہدایت پہنچانے کا آغاز فرمایا، تو اس کے لیے صرف ایک جامع اور وسیع المعنی الفاظ پر مشتمل فقرے کا انتخاب فرمایا کہ ’’قولو لاالہ الا اللہ تفلحوا۔‘‘ لوگو، اللہ کو اپنا حاکم حقیقی اور معبود برحق تسلیم کرو، تو دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوگی۔
13 سالہ دعوت و تبلیغ اور وعظ و تلقین کے بعد جو معدودے چند افراد ایمان لائے، ان کی تنظیم قائم کی۔ ان کو فکری و عملی تربیت دی۔ اس کے بعد ہجرت و جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے مرحلوں سے گزر کر جب مدینے میں ایک اسلامی ریاست قائم کی، تو وہ ریاست اللہ تبارک و تعالیٰ کے براہِ راست احکامات کے مطابق دینِ اسلام کی بنیاد پر ایک اسلامی ریاست تھی۔ اس کی سیاست، معیشت، نظامِ قانون ، نظامِ تعلیم اور تمام امور، دینِ اسلام کی بنیاد پر وضع کیے گئے۔ اسلام ایک اکائی ہے۔ فکر اور عقیدے سے لے کر تمام عملی امور اس کے اجزا اور حصے ہیں۔ ان میں سے اگر ایک پرزہ بھی الگ سے اور باہر سے لگایا گیا، تو یہ اَن مل بے جوڑ پرزہ پوری مشین کو خراب کرکے رکھ دے گا۔ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ خلافتِ راشدہ کے ختم ہونے کے بعد جب خلافت کا تصور عملاً ختم کر دیا گیا، تو اسلام بحیثیتِ دین، قانون اور شریعت تو قائم رہا، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ خلافت کی ملوکیت میں تبدیل ہونے سے جیسے اسلام کی روح نکال دی گئی اور صرف بے روح جسم باقی رہا۔ اس بے روح جسم نے کچھ عرصے تک تو بظاہر کام کیا، لیکن آخرِکار دھڑام سے نیچے آگرا۔ کیوں کہ روح کے بغیر جسم کب تک گلنے سڑنے سے محفوظ رِہ سکتا ہے؟ لہٰذا چالیس سالہ دورِ خلافت کی سعادت و برکت ختم ہو کر ملوکیت و شہنشاہی کی نحوست اور بدبختی اپنا رنگ لا کر رہی۔ امتِ مسلمہ زوال و انحطاط کے مختلف مراحل سے گزر کر آج جس حالت میں ہے، وہ تمام عالم پر آشکارا ہے۔ جب ہم دین کی بات کرتے ہیں،تو اس میں معاش و معاد کے تمام امور آتے ہیں۔ آج کے دور میں انسان نے اگر ایک طرف مذہب کو چند رسومات ، پوجا پاٹ اور نذر و نیاز تک محدود قرار دے کر فرد کا انفرادی معاملہ قرار دیا، تو دوسری طرف اجتماعی زندگی کے لیے ایک نئے فلسفے کے تحت تین چار بنیاد ی امور پر مشتمل نیا دین تشکیل دیا۔ یہ دین ان اجزا پر مشتمل ہیکہ اسلامی خلافت کے بجائے عوامی جمہوریت یعنی ڈیموکریسی، معیشت کے لیے نظامِ سرمایہ دای یعنی کیپٹلزم اور خدا کی جگہ قومیت یعنی نیشنلزم کا بت تراش لیا۔ مفروضۂ جمہوریت اگرچہ اس وقت دنیا کے بیشتر حصے اور خصوصاً مسلم ممالک میں تو عملاً موجود نہیں۔ ان ممالک میں تو وہی پرائی شہنشاہیت، ڈکٹیٹر شپ اور مطلق العنانی مختلف شکلوں اور ناموں سے قائم اور نافذ ہے، لیکن جن مغربی ممالک میں یہ جمہوری نظام اپنے پورے لوازمات اور خصائص کے ساتھ موجود ہے، ان کی حقیقی صورت حال کیا ہے؟ اس نام نہاد جمہوریت میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے جو انتخابات ہوتے ہیں، کیا وہ تمام نقائص سے پاک و صاف ہیں؟ اس کے دوران میں مختلف پارٹیوں کے مقابلے میں جو حربے، چالیں اور انداز اختیار کیے جاتے ہیں اور جس کے نتیجے میں معاشرے کے وہ افراد کامیاب قرار پاتے ہیں، جو ہر لحاظ سے اقتدار کے خواہش مند اور ذاتی زندگی میں نہایت حریص، خود غرض اور مفاد پرست ثابت ہوتے ہیں۔ یہ خود غرضی مفاد پرست اور ظالم افراد جب قانون ساز اور حکومتی اداروں میں پہنچتے ہیں، تو مختارِ کل بن جاتے ہیں۔ نہ ان کو پھر عوام سے رائے لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی فیصلے میں ان کی مرضی معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پھر بادشاہ بن کر من مانے فیصلے کرتے ہیں۔ جنگِ عظیم اول و دوم برپا کرنے کا فیصلہ ہو، جاپان پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ ہو، کوریا اور ویت نام میں مداخلت کا معاملہ ہو، عراق و ایران کو لڑانے کا اور عراق کو تباہ و برباد کرنے کا فیصلہ ہو، افغانستان میں مداخلت اور قتل و غارت گری کا معاملہ ہو، پورے مشرق وسطیٰ کو خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کی سازش ہو، آخر کس معاملے میں ان چند افراد نے عوام سے رائے لی، یا عوام کی مرضی معلوم کی؟ بلکہ کوریا، ویت نام اور مختلف جنگوں کے خلاف لاکھوں عوام لندن، نیو یارک اور پیرس کی سڑکوں پر نکل آئے، لیکن ان کی آواز کو نہیں سنا گیا۔ ان کے احتجاج کو نظرانداز کیا گیا، یہ ہے ان کی جمہوریت۔
سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی قباحتیں، مضرتیں اور ہولناک نتائج تو ہر چشمِ بصیرت رکھنے والے پر واضح اور آشکارا ہیں۔ یہ دولت کا ارتکاز، یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کثیر سرمائے کی بنیاد پر چھوٹے کاروبار کو ختم کرکے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ، یہ سودی نظامِ معیشت اور بینکاری نظام پر مشتمل استحصالی نظام کا فروغ، ایک طرف غربت افلاس اور نانِ شبینہ کے محتاج عوام کا سمندر اور دوسری طرف عیش و عشرت، مسرت و شادمانی اور مال و دولت کے ریل پیل کے جزائر۔ کیا بیس بڑی معیشتوں کے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاسوں کے دوران میں لاکھوں غربت زدہ عوام کے احتجاجی پروگرامات اس حقیقت کا اظہار نہیں کہ یہ سرمایہ دارانہ سودی اور استحصالی نظام پر مشتمل ظالمانہ نظام ایک شیطانی سازش ہے، جو ترقی یافتہ ممالک نے اسلحے کے زور پر اور طاقت و قوت کے ذریعے عوام پر مسلط کیا ہے۔ آخر ڈالر کو پوری دنیا کی تجارت پر کیوں اجارہ داری دی گئی ہے اور ڈالر کو کیوں تمام معیشت کا محور و مرکز قراردیا گیا ہے؟ کیا امریکہ کے پاس ڈالر کے بدلے سونے کے ذخائر موجود ہیں؟ جب چائینہ اور جرمنی نے امریکہ سے اپنے ڈالروں کے ذخیرے کے عوض سونے کا مطالبہ کیا، تو امریکہ نے کیوں چپ سادھ لی؟ ایک طرف تو پاکستان جیسے کمزور ممالک کی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مصنوعی طور پر گرائی جارہی ہے اور دوسری طرف اپنی کٹھ پتلی افغان حکومت کی کرنسی کی قدر بڑھا دی گئی ہے۔ وہ افغانستان جس کی معیشت کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔ اس کے مقابلے میں جب ہم اسلامی نظامِ معیشت کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ سراسر انسانی ہمدردی، غم خواری اور انسانی فلاح و بہبود پر مشتمل نظام ہے، جس میں ارتکازِ زر کی ممانعت ہے۔ سودی معیشت کے استیصال اور باہمی تجارت کے فروغ کی حوصلہ افزائی ہے۔ زکوٰۃ اور عُشر کا نظام ہے، جو مالداروں پر قرض قرار دیا گیا ہے اور غربا و مساکین کا حق قرار دیا گیا ہے۔ جس دور میں اس نظام کو لاگو کیا گیا، تو اس کے اتنے شان دار اور بہترین نتائج سامنے آئے کہ معاشرے میں اتنی خوشحالی، فارغ البالی اور فراخیِ رزق کا دور دورہ ہواکہ تلاش کرنے کے باوجود زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔ اسلامی معیشت میں تقسیمِ میراث کے ذریعے اموال کی فطری تقسیم اور صدقہ و خیرات کے ذریعے محروم طبقات کی مدد و اعانت اور دیگر بہت سے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں کہ ان کو بروئے کار لایا گیا، تو معاشرے میں ایک تو طبقاتی تفاوت ختم ہو جائے گی۔انسان فکری معاش سے فارغ ہو کر ذہنی و فکری طور پر معاشرے کا ایک کار آمد اور کار فرما فرد بن جائے گا۔ یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور مسکینوں کی معاشی کفالت اور تحفظ کے لیے جو طریقِ کار اسلام نے مقرر کیا ہے، اگر وہ نافذ اور قائم کیا جائے، تو معاشرے کا ہر فرد حفاظت اور تحفظ کا ایک خوشگوار اور نتائج کے لحاظ سے اپنے اندر ایک بہترین تبدیلی محسوس کرے گا، لیکن یہ عالمی طاغوتی شیطانی قوتیں اس خیر و فلاح کے نظام کے قیام میں خود مزاحم اور رُکاوٹ ہیں۔

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے