130 total views, 1 views today

ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا جزو لائنفک ہے۔ بے شک محمدؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آنے والا۔ لیکن اس کے باوجود اسلامی تاریخ میں بہت سے جھوٹے دعویداروں نے نبوت کے دعوے کیے ہیں جن میں “احمدی”، جنہیں “قادیانی” بھی کہتے ہیں، شامل ہیں۔ یہ فتنہ انگریزوں کے دور سے شروع ہوا، تاکہ مسلمانوں میں نفاق پیدا کیا جاسکے۔
“ختمِ نبوت” نامی کتاب کے مصنف عبدالکریم بریالے صاحب اس بارے میں لکھتے ہیں کہ “مرزا غلام احمد کی پیدائش 1839ء میں ہوئی تھی۔ اس کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ پچاس سپاہی اور گھوڑے انہیں فراہم کیے جا چکے تھے اور بعد میں 85 گاوؤں کی جاگیر بھی انہیں دی گئی تھی۔ سنی مسلمانوں میں غلام احمد قادیانی جو مرزائی بھی تشخص رکھتے ہیں، اور شیعہ مسلمانوں میں محمد علی باب جو باسیوں یا بہائیوں کے نام سے وجود رکھتے ہیں، دونوں مذہبِ اسلام کی ضد میں دعوۂ نبوت کے نام وکٹورین زمانے کا ایک گہرا منصوبہ تھے اور اس پر آج تک یورپی اور امریکی عیسائیت کے علمبردار مختلف ناموں سے ان کی سرپرستی کرتے رہتے ہیں۔
چار سو دو صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت اور جامع کتاب (ختمِ نبوت) اُستاد، عالم و فاضل شخصیت عبدالکریم بریالے نے تحریر کی ہے۔ عبدالکریم بریالے، پشین بلوچستان کے رہنے والے ہیں۔ وہ کاکڑ پشتون ہیں۔ بہت پیارے اور ملنسار انسان ہیں۔ وہ سابق بیوروکریٹ رہے ہیں، اور مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان کا تعلق مشہور علمی گھرانے ملا ظریف اخوند کا کڑ سے ہے۔ بریالے صاحب نے “ختمِ نبوت” کے علاوہ پشتو گرائمر پر “پختو دود” لکھ کر بھی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
پشتو زبان میں محمد ہوتک کی پہلی تاریخی کتاب “پٹہ خزانہ” کو جب افغانستان کے علامہ عبدالحیٔ حبیبی نے دریافت کیا، تو پشتو ادب میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ مشہور عالم اور محقق قلندر مومند نے “پٹہ خزانہ فی المیزان” لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ “پٹہ خزانہ” اصلی نہیں بلکہ جعلی ہے، تو یہ جناب عبدالکریم بریالے ہی تھے، جنہوں نے قلندر مومند کی مخالفت میں “پٹہ خزانہ حقیقت کے آئینے میں” لکھ کر قلندر مومند اور اُن کے دوسرے ساتھیوں کو دندان شکن جواب دے کر یہ ثابت کرنے کی مقدور بھر کوشش کی کہ عبدالحیٔ حبیبی کی دریافت شدہ “پٹہ خزانہ” ہی اصل کتاب ہے۔ انہوں نے قلندر مومند کے ساتھ ساتھ سید گوہر اور مشتاق مجروح جیسے تمام مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اسماعیل گوہر جیسے عالم و فاضل شخص کو اس طرف راغب کیا کہ وہ “پٹہ خزانہ” کا اُردو ترجمہ کریں، چناں چہ اسماعیل گوہر نے “گنج مخفی” کے نام سے “پٹہ خزانہ” کا اُردو ترجمہ کیا، جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
عبدالکریم بریالے نظم و نثر دونوں کے ماہر ہیں۔ وہ زیادہ تر تحقیق کے میدان کے شہ سوار ہیں۔ آپ کے وہ تحقیقی مقالے جو کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں، وہ درجہ ذیل ہیں۔
٭ علامہ عبدالحیٔ حبیبی کی روح کے سائے میں۔
٭ بایزید خیر البیان محققین کے مقالوں کا تجزیہ۔
٭ اشرف غمگین شخصیت اور رسم الخط پر مقالہ۔
یاد رہے کہ یہ تینوں مقالے “تحقیق و تنقید” پر اعلیٰ پائے کے تجزیے اور تاثرات ہیں۔ اس کے علاوہ ایک شعری پشتو مجموعہ “موسمونہ خاندی” کے نام سے چھپ چکا ہے، جب کہ “حال وقال” بھی تنقید ہے۔ اُن کی تخلیقات فنی، علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھرپور ہیں۔
عبدالکریم بریالے صاحب ہمیں پشاور میں ایاز اللہ ترکزی کے اشاعتی دفتر میں ملے۔ انہوں نے بے حد محبت دی۔ بقولِ طاہر بونیرے، بلوچستان کے جتنے بھی ادیب، مصنف اور دانشور ہیں۔ وہ بہت خلیق اور ملنسار ہیں۔ سادہ مزاج رکھتے ہیں۔ راہ و رسم میں کوئی سرد مہری اور مصنوعیت نہیں۔ واقعی بریالے صاحب سے ملاقات میں ہم نے ایسا محسوس بھی کیا، کہ جیسے وہ ہمیں برسوں سے جانتے ہوں۔ آپ وسیع مطالعہ ہے اور ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے ہیں۔
موجودہ کتاب “ختمِ نبوت” 2018ء میں اعراف پرنٹرز نے شائع کی ہے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ عبدالکریم بریالے نے ہمیں (روح الامین نایابؔ اور تصدیق اقبال بابو) اپنے ہاتھوں سے بہ طورِ تحفہ اسے عنایت کیا۔ اس کتاب میں 1857ء سے لے کر موجودہ دور تک جھوٹے نبوت کی ساری داستان خصوصاً غلام احمد مرزا کی نبوت کی ہرزہ سرائیاں موجود ہیں۔ اس احمدی جھوٹی نبوی تحریک کو “قادیانی” اس لیے کہتے ہیں کہ بہ قولِ عبدالکریم بریالے: “قادیان مرکز کو مضبوط بنانے میں وائسرائے اور دیگر سرکاری افسران پیش پیش تھے۔ وائسرائے کے قادیان جانے کا ارادہ بھی اسی سیاسی مقصد کا حصہ تھا، جسے مقامی آفیسروں نے رد کیا تھا۔”
جھوٹا نبی مرزا غلام احمد وقتاً فوقتاً عجیب و غریب دعوے کرتا رہتا تھا۔ اُس کے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے بریالے صاحب مرزا کا سارا کچا چھٹا کھول دیتے ہیں۔ “مرحلہ وار دعوؤں، ولی، مجدد، مہدی، محدث، مسیح موعود اور آخر میں نبوت کے اعلان کے وقت مرزا کے تین شہروں قادیان، امرتسر اور لاہور سے مکمل رابطہ اور آنا جانا رہتا تھا۔ 1908 ء میں وفات کے وقت مرزا کی عمر 67 سال تھی، یعنی اُس کی 80 سال زندگی گزارنے کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔ قادیان میں اپنے قبرستان کو بہشتی کا نام دیا اور اپنے خاندان کی عورتوں کو پیغمبرِ اقدس کی امہاۃ المؤمنین کا لقب دیا تھا۔ اپنے مسلک کے اقوال اور کہانیوں کو حدیث کے اسلوب میں (فُلاں نے فُلاں سے روایت کی ہے) قصے کہانیاں گھڑ لی گئیں اور اپنے مریدوں کو صحابی کہنا شروع کیا۔”
عبدالکریم بریالے کتاب میں جگہ جگہ انگریز سرکار کی مذہبی تفرقہ بازی کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں کہ دراصل اپنے سیاسی تسلط اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے انگریز سرکار “لڑاؤ اور حکومت کرو” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ہندوستان کے اندر مذہبی جذبات کو بھڑکاتی رہتی تھی۔ بریالے صاحب اس سلسلے میں حقائق کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اُس وقت کے مشہور علمائے کرام کی خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: “عثمانیہ سلطنت کمزور ہوچکی تھی۔ اس لیے سُنی اور شیعہ مسلمانوں کے اندر نئے مذاہب کو تحفظ دینے کے لیے یورپ کے قابضین اپنی تہذیب کو مسلط کرچکے تھے۔ بیسویں صدی کی ابتدا تک ان کے تخلیق کردہ مسالک پنپنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ سیاسی بیداری اور مذہبی مراکز سے علما نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور انہیں خارج از اسلام قرار دیا۔ سیاسی تحریکوں میں علی گڑھ، دیوبند اور ندوہ کے علما نے علیحدہ علیحدہ دفاع کیا۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ علمی میدان میں بھی علما کا کردار بھرپور رہا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا جہانوی نے تفاسیر لکھیں۔ محمود الحسن اور ابوالکلام آزاد سیاسی میدان میں اُتر آئے۔ ہندو مسلم تضاد کی صورتِ حال میں انگریز دشمن کی ریشہ دوانیوں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیاسی فعالیت اور اشاعتِ تبلیغ کی ایک طویل جدوجہد کا آغاز ہوجاتا ہے۔”
جی ہاں، اک طویل جدوجہد ہے جو برصغیر کے مسلمانوں نے جھوٹے نبی اور ختمِ نبوت کے لیے جاری رکھی۔ حتیٰ کہ 1947ء کے بعد پاکستان میں بھی یہ جدوجہد مختلف مراحل طے کرتی رہی، لیکن عجیب المیہ یہ ہوا کہ پاکستان کی نئی کابینہ میں جناح صاحب نے وزارتِ خارجہ کا قلمدان ظفراللہ خان قادیانی کے سپرد کیا۔ غرض جو انتظامی ڈھانچا ہمیں ورثے میں ملا تھا، اس میں قادیانی زیادہ اثر انداز تھے۔ مرزا غلام احمد کے پوتے ایم ایم احمد اور عزیز احمد کے علاوہ 103 افسروں میں فوج اور انتظامیہ میں ان کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میجر جنرل آدم خان قادیانی تھے۔ لیاقت علی خان وزیراعظم کی شہادت سے پہلے قادیانی، مسلم لیگ میں ظفر اللہ کے ذریعے گُھس چکے تھے۔ جمعیت علمائے پاکستان اور احرار پارٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے کیے۔ ختمِ نبوت کو آئین میں شامل کرنے اور سر ظفر اللہ کو وزیرِ خارجہ کے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
قارئین کرام! عبدالکریم بریالے نے پاکستان بننے کے بعد قادیانوں کے خلاف جدوجہد اور ختمِ نبوت کے حق میں مختلف اوقات میں تحریکیں چلانے کی پوری تاریخ باقاعدہ سلسلہ وار مرتب کی ہے۔ بریالے صاحب نے بہت محنت کی ہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد کیا ہوا؟ کراچی، ملتان، لاہور میں قادیوں کے خلاف کیسے جلسے جلوس ہوئے؟ غرض 1952ء سے لے کر جون 1953ء تک کتنے بدامنی اور شورش کے واقعات ہوئے؟ ملتان، لاہور میں گولیاں چلیں، بے گناہ لوگ شہید ہوئے۔ پنجاب میں دولتانہ حکومت نے عام لوگوں پر کتنے مظالم ڈھائے؟ آخرِکار 1974ء میں بھٹو صاحب کی حکومت میں آئین کے ترمیم شدہ قانون کے ذریعے احمدیوں کو ہمیشہ کے لیے “اقلیت” قرار دیا گیا۔ یہ کیسے ہوا اور کیوں کر ہوا؟ اس کے علاوہ اس کتاب میں عبدالکریم بریالے نے ڈھیر ساری سازشوں اور خفیہ فیصلوں سے پردے اٹھائے ہیں۔ وہ واقعی بریالے ہیں۔ انہوں نے کسی کا لحاظ نہیں رکھا، بلکہ پوری تفصیل سے اور مکمل غیر جانب دارانہ انداز سے ختمِ نبوت کے معاملے میں تاریخی حقائق بیان کیے ہیں۔ مَیں اُن کو اس علمی، تاریخی اور معلوماتی کاوش پر مبارک باد دیتا ہوں اور ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ہمیں یہ علمی سوغات بہ طورِ تحفہ عنایت کی۔
دعا ہے کہ عبدالکریم بریالے کا زورِ قلم اور زیادہ ہو، آمین!

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے