620 total views, 2 views today

سرِدست مفتی محمد تقی عثمانیؒ کی کتاب ’’اصلاحی خطبات‘‘ سے اک اقتباس پیشِ خدمت ہے: استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آدمی دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھے۔ نیت یہ کرے کہ میرے سامنے دو راستے ہیں۔ ان میں سے جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو، اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرما دیں۔ پھر دو رکعت پڑھے اور نماز کے بعد استخارہ کی وہ مسنون دُعا پڑھے جو حضورؐ نے تلقین فرمائی ہے۔
استخارہ کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استخارہ ہمیشہ رات کو سوتے وقت ہی کرنا چاہیے، یا عشا کی نماز کے بعد ہی کرنا چاہیے۔ ایسا کوئی ضروری نہیں بلکہ جب بھی موقع ملے، اس وقت استخارہ کیا جائے۔ رات کی کوئی قید ہے، اور نہ دن کی کوئی قید، سونے کی کوئی قید ہے اور نہ جاگنے کی۔
قارئین، استخارہ میں جواب کا آنا ضروری نہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استخارہ کرنے کے بعد خواب آئے گا اور خواب کے ذریعے ہمیں بتایا جائے گا کہ یہ کام کرو یا نہ کرو۔
بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ استخارہ کرنے کے بعد خود انسان کے دل کا رجحان ایک طرف ہوجاتا ہے۔ بس جس طرف رجحان ہوجائے، وہ کام کرے۔ لیکن بالفرض اگر کسی کا رجحان کسی ایک طرف نہ بھی ہو، بلکہ دل میں پھر بھی کشمکش موجود ہو، تو تب بھی استخارہ کا مقصد حاصل ہے۔ اس لیے کہ بندے کے استخارہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ اس کے بعد حالات ویسے پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہی ہوتا ہے جس میں بندے کے لیے خیر ہوتی ہے۔
قارئین، بعض اوقات انسان ایک راستے کو بہت اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے، لیکن اچانک رکاؤٹیں پیدا ہوجاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ بندے کو اس راہ سے پھیر دیتے ہیں۔ لہٰذا استخارہ کرنے کے بعد اسباب ایسے پیدا ہوتے ہیں جس میں بندے کے لیے خیر ہوتی ہے۔ اور پھر اس کا بہتر ہونا یا تو دنیا ہی میں معلوم ہوجاتا ہے، ورنہ آخرت میں جاکر تو یقینا معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا تھا، وہی میرے حق میں بہتر تھا۔
ایک حدیث میں نبی کریمؐ کا ارشاد مبارک ہے: ’’جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو، وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا۔ اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو، وہ کبھی نا دم اور پشیمان نہیں ہوگا۔‘‘
استخارہ کا مسنون طریقہ وہی ہے جو عرض ہوا۔ یہ تو اس وقت پر منحصر ہے جب آدمی کو استخارہ کرنے کی مہلت اور موقع ہو۔ اس وقت تو دو رکعت پڑھ کر وہ مسنون دُعا پڑھے، جو مختلف کتابوں میں ذکر ہے (اس کے بارے علما سے پوچھا جاسکتا ہے) لیکن بسا اوقات انسان کو اتنی جلدی فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اس کو پوری دو رکعت پڑھ کر دعا کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس موقع کے لیے خود نبی کریمؐ نے ایک دعا تلقین فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے: اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِی۔ (ترجمہ) اے اللہ! میرے لیے آپ پسند فرما دیجیے کہ مجھے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یا یہ دعا پڑھے: اے اللہ! میری صحیح ہدایت فرما اور مجھے سیدھے راستے پر رکھ۔
یا یہ پڑھے: اے اللہ! جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل پر القا فرمادیجیے۔
ان دُعاؤں میں سے جو یاد آجائے، اس کو اسی وقت پڑھ لیں۔ اگر زبان سے نہ کہہ سکیں، تو دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے کہہ دیں کہ یا اللہ یہ مشکل اور پریشانی پیش آئی ہے۔ آپ صحیح راستہ دل میں ڈال دیجیے، جو راستہ آپ کی رضا کے مطابق ہو اور جس میں میرے لیے خیر ہو۔
اس مختصر قسم کے استخارہ کے لیے دو رکعت نفل یا وضو کی بھی ضرورت نہیں۔ لہٰذا بندہ کو چاہیے کہ وہ ہر کام میں اللہ کو متوجہ ہو اور استخارہ خود کرے۔ اس کے لیے کسی مفتی اور عالم کی خدمات نہ لی جائیں، بلکہ خود ہی دو رکعت پڑھیں یا مذکورہ آسان طریقہ اختیار کریں۔

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے