516 total views, 1 views today

عمر! یاد ہے تم پہلے عمیر کہلاتے تھے، چھوٹا سا عمیر۔ پھر تم عمر بن گئے اور اونٹ چراتے تھے اور اب تم امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب کہلاتے ہو، ہے ناں! حضرت عمرؓ بڑی بے تکلفی سے کھڑے اس بوڑھی عورت کی باتیں سن رہے تھے۔ حضرت عمرؓ جن کی شخصیت کے سامنے بڑے بڑے سرداروں کے کندھے جھک جاتے اور آوازیں پست ہوجاتی تھیں، لیکن ایک بوڑھی عورت ان کو غصہ بھرے لہجہ میں کہہ رہی تھی کہ فلاں کام کرو اور اللہ سے ڈرو۔ اور حضرت عمرؓ فرما رہے تھے کہ ٹھیک ہے، بہت اچھا! پھر جب وہ عورت چلی گئی، تو لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر المؤمنینؓ، یہ عورت کون تھی جس کے لیے آپ نے سارا مجمع روک دیا اور اس کی باتیں سننے لگے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یہ بی بی خولہ تھی جس کی درخواست اللہ نے سنی تھی۔ اس کی درخواست عمرؓ کیوں نہ سنتا؟ خدا کی قسم! اگر یہ تین دن بھی میرے ساتھ باتیں کرتیں، تو میں کھڑا رہتا۔
عزیزانِ من، یہ بی بی خولہ ایک دن دربارِ رسالتؐ میں اپنا مقدمہ لا کر کہنے لگی کہ یا رسولؐ اللہ، میرا خاوند جو میرے چچا کا بیٹا بھی ہے، میرا مال بھی کھا گیا اور میری جوانی بھی۔ آج جب میں بوڑھی ہوچکی، تو کہتا ہے کہ تو میری ماں کی طرح مجھ پر حرام ہے۔ میں کہا جاؤں، میں بوڑھی عورت ہوں؟ رسولؐاللہ نے فرمایا، خولہ تمہارے مسئلے کے بارے میں کوئی حکم اللہ کی کتاب میں نہیں۔ جب تک اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہ آئے، میں تیرے خاوند کے فیصلے کو برقرار رکھتا ہوں۔ تو بی بی خولہ غصے میں کہنے لگی، اچھا! قرآن میں سارے مسئلے ہیں، مگر میرا مسئلہ نہیں؟ تو رحمت للعالمینؐنے فرمایا، بی بی! غصہ کیوں کر رہی ہو؟ تیرے مسئلے میں ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ بی بی خولہ نے کہا، آپؐ نے میری فریاد نہیں سنی؟ ’’اشتکی الی اللہ‘‘ (مَیں اللہ کے پاس اپنی شکایت لے جاتی ہوں) اور وہ ارحم الراحمین کو فریاد کرتی ہوئی جوں ہی دربارِ رسالت سے باہر نکلی، تو اللہ نے یہ آیات نازل کیں ’’قدسمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاورکما‘‘: (ترجمہ) اے پیغمبرؐ جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت رنج ملال کرتی تھی، خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔
عزیزانِ من! بی بی خولہ کی داستان نے تاریخِ اسلام میں آزادیِ فکر کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے کہ جب خدا کا نبی سابقہ روایات کے مطابق فیصلہ سناتے ہیں، تو وہ عورت نہ صرف یہ کہ وہ فیصلہ قبول نہیں کرتی، بلکہ خدا سے اپنا حق مانگنے کے لیے فریاد کرتی ہیں اور اس کی فریاد آسمان کو چیرتی ہوئی ارحم الراحمین کے دربار تک پہنچتی ہے، تو خدا وہ فیصلہ اسی عورت کے حق میں کرتاہے اور یہ نہیں کہتا کہ ’’اے میرے بندی تیری اتنی جرأت کیسے ہوئی کہ زمین پر موجود میرے نبیؐ کا کیا ہوا فیصلہ تو میری عدالت میں لے آئی؟ اور نہ جماعتِ صحابہ میں سے کسی نے تلوار بے نیام کرکے یہ کہا کہ یہ عورت گستاخ ہے۔ یہ پیغمبرؐ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتی۔ رسولؐ اللہ کی سیرتِ طیبہ میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ فرد کو فکر و رائے کی مکمل آزادی دیتے تھے۔ چناں چہ اہلِ مدینہ نے جب اپنے ان یہودیوں کے حوالے کیے ہوئے بچوں کو جبراً مسلمان کرنے کی جو تجویز پیش کی تھی۔ اس پر بھی رسولؐ اللہ نے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی ضرب لگائی۔
عہدِنبوی اور عہدِ صحابہ و تابعین کے دورِ زریں اور تہذیبی عروج کے زمانے میں حریتِ فکر وآزادیِ رائے کی بہت اعلیٰ مثالیں ملتی ہیں۔ امام ابو یوسف کتاب الخراج میں لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اے عمر! اللہ سے ڈرو اور بار بار یہ دہرایا، تو کسی نے اسے چپ ہونے کو کہا، جس پر حضرت عمرؓ نے یہ قیمتی الفاظ کہے کہ اسے کہنے دو۔ اس لیے کہ تم میں کوئی خیر نہیں اگر تم ایسی بات مجھ سے نہ کہو، اور ہمارے اندر کوئی خیر نہیں اگر ہم اس کو قبول نہ کریں۔
عزیزانِ من! اُس زمانے میں حقیقی آزادیِ رائے اور آزادیِ فکر تھی۔ ان بندگانِ خدا سے تو ایسی روایات منقول ہیں کہ اگر آج کوئی شخص اس کا اظہار کرے، تو منبر و محراب اور دارلافتاء کے مسند نشین اہلِ علم اس پر بدعت و زندقہ سے اوپر یعنی کفر کا لیبل چسپاں کردیں۔ مثال کے طور پر عبداللہ ابن عمر کتابیہ سے نکاح کے قائل نہیں تھے۔ حضرت ابو حذیفہ سورج نکلنے تک سحری کھانے کو جائز سمجھتے تھے اور تو اور صحابہ میں ابنِ مسعود، ابنِ عباس، ابو سعید، ابو ہریرہ، اور آئمہ میں امام شعبی،امام ابنِ تیمیہ اور ابن قیم اس بات کے قائل تھے کہ کسی دن جہنم کو بھی فنا کردیا جائے گا۔
ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعود نے تقریباً 100 مسائل میں حضرت عمرؓ سے اختلاف کیا، لیکن پھر بھی حضرت عمرؓ ان کو علم و فقہ سے بھرا ہوا پیالہ سمجھتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری کے مقدمے میں 18 ایسے راوی ذکر کیے ہیں جو شیعہ تھے اور جن کی روایات بخاری میں موجود ہیں، اور صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ تمام فرقوں خوارج، معتزلہ، جہمیہ اور قدریہ وغیرہ سے اہل سنت والجماعت کے آئمہ حدیث، تفسیر اور فقہ و تاریخ نے بے شمار روایات لی ہیں، جس کی حقیقت سے کوئی بھی صاحبِ مطالعہ شخص انکار نہیں کرسکتا۔
اور محدثین کے سرخیل امام بخاری نے تو اپنی کتاب میں ایک رافضی سے بھی روایت لی ہے۔ حالاں کہ عام طور پر محدثین نے روافض کی روایات لینے سے احتراز کیا ہے۔ امام ابنِ تیمیہ سے منقول ہے کہ امام احمد بن حنبل نے جہمیہ اور قدریہ جیسے گمراہ فرقوں کی کبھی تکفیر نہیں کی بلکہ انہوں نے بسا اوقات ان کے پیچھے نماز تک ادا کی ہے ۔ اس پس منظر میں سب سے پیاری بات امام شافعی نے کی ہے۔ یونس صدقی کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقلمند اور روادار کسی کو نہیں دیکھا۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ مناظرہ کیا، پھر الگ ہوگئے، پھر ایک دن ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے ابو موسیٰ! کیا یہ چیز بہتر نہیں کہ ہم آپس میں بھائی بھائی رہیں، خوا کسی مسئلے میں بھی ہم متفق نہ ہوں۔
عزیزانِ من! ہمارے اکابر و اسلاف نے بڑی شائستگی سے ایک دوسرے کے ساتھ علمی اختلاف کیا اور اس کا برملا اظہار بھی کیا، لیکن کبھی ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی اور نہ باہمی تعلقات قطع کیے اور نہ اپنی مسجدیں الگ کیں۔ آج ہم آپس میں علمی اختلاف کرنے کا سلیقہ بھول چکے ہیں۔ آج ہم ایک دوسرے کی تکفیر بھی کرتے ہیں، اور ہم نے اپنی مساجد بھی الگ کی ہیں۔ جس کی وجہ سے فرقہ واریت پروان چڑھ رہی ہے۔ اور بڑے افسوس کے ساتھ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارے دینی مدارس میں آزادیِ فکر و رائے پر سخت پابندی ہے۔ بظاہر تو دینی مدارس میں امت کے اختلاف کو رحمت بتایا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی طالب علم اختلاف کرنے کی جسارت کرتا ہے، تو پھر اس کے لیے یہ عمل زحمت بن جاتا ہے۔ مثلاً حنفی مسلک کے مدرسے میں اگر کوئی طالب علم حنفی فقہ کی تائید میں دلائل پیش کرے، اور شافعی فقہ پر جرح کرے، تو اختلاف رحمت ہے۔ اگر وہ طالب علم اکابر علمائے احناف تو دور اپنے سامنے بیٹھے اس استاد سے اختلاف کرے، تو پھر آپ اس کا حشر دیکھیں کہ کیسے اس پر قیامت برپا کی جاتی ہے۔ اس وقت امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے مکتب فکر کے مدارس کا بھی ہے۔ دوسرے مکاتبِ فکر کے اقوال پر مروجہ طریقے سے جرح و تعدیل کرنے پر ایک زمانے میں امام العصرعلامہ محمدانورشاہ کشمیری بہت روئے تھے کہ کل بروز محشر ہم ان آئمہ، فقہا و مجتہدین کو کیا جواب دیں گے؟
میں انتہائی ادب اور بڑی معذرت کے ساتھ اس بات کو کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمارے مدارسِ دینیہ میں فکری آزادی کے ساتھ تعلیم نہیں دی جاتی، بلکہ اپنے اپنے نظریے کو ترویج دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
عزیزانِ من! میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر ہمارے دینی مدارس میں علما کسی بھی نظریے اور فرقے کا لبادہ اوڑھے بغیر ایک آزاد ماحول میں دینی علوم پڑھائیں، تو یقینا ہم میں فرقہ واریت کے ٹھیکیدار نہیں بلکہ قرآن و سنت کی دعوت کے شہسوار پیدا ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اکابر و اسلاف کی طرح اگر اختلاف کریں، تو ایک دوسرے کی رائے کا احترام بھی کریں اور سب سے بڑھ کر ہمیں امام شافعی کی بات پر عمل کرنا چاہیے کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ خواہ کسی مسئلے میں بھی ہم متفق نہ ہوں۔ نیز دینی نظریہ ہو یا سیاسی، آزادیِ فکر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے