149 total views, 1 views today

دین و مذہب مترادف الفاظ خیال کیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ حقیقت نہیں، بلکہ مغالطہ اور الفاظ و اصطلاحات کے معنی و مفہوم کو بدل کر اصل حقیقت کو مبہم و مشتبہ بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ کچھ لوگ اپنی ناسمجھی اور سادگی سے ان الفاظ کے فرق و امتیاز کو نہیں سمجھتے۔ کچھ ہوشیار و عیار اور ملحدانہ خیالات رکھنے والے لوگ جان بوجھ کر ان اصطلاحات کے معنی و مفہوم کو بدل کر پورے دین کو مشتبہ بنا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ چند مذہبی رسوم و رواج، پوجا پاٹ، نذر و نیاز اور مختلف تقریبات میں خوشی و غمی کے طور طریقوں کو مذہبی اقدار و روایات کا نام دیا جاتا ہے۔ مذہب کے نام سے جاری رسومات زیادہ تر انفرادی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اجتماعی زندگی اور قومی معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ویسے بھی اس محدود مذہبی تصور کی اجتماعیت میں نہ کوئی ضرورت ہوتی ہے اور نہ گنجائش۔
دینِ اسلام کے علمی اور تشریحی تصور میں مذہب کے لفظ کو مسلک اور فقہی مکتبۂ فکر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے فلاں مسئلے میں امام ابو حنیفہؒ کا مذہب یہ ہے اور امام شافعیؒ کا مذہب و مسلک یہ ہے۔
انقلابِ فرانس سے پہلے عیسائی مذہبی عناصر کی سائنس اور عقلیت کے خلاف غیر منطقی مذہبی استدلال اور تشدد کے نتیجے میں مذہب کے خلاف عام لوگوں میں جو مخالفانہ ردِ عمل پیدا ہوا، اس کے نتیجے میں الحاد و دہریت اور انسان کے ایک اخلاقی و روحانی شخصیت سے انکار کرنے والے خدا بیزار فلسفیوں نے ایک نیا مادی اور مخصوص مذہب ایجاد کیا، جس میں خدا کی جگہ قوم، مذہب کی جگہ سیکولرازم اور معاشی نظام کے لیے نظامِ سرمایہ داری یعنی ’’کیپٹل ازم‘‘ کا ڈھانچا تیا ر کیا اور اپنی سیاسی قوت و اقتدار کے ذریعے دنیا بھر میں اس کو نافذ اور جاری کر دیا۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریز دورِ غلامی میں مسلمانوں کو محدود معنوں میں مذہبی آزادی حاصل تھی۔ مساجد و مدارس کی تعمیر، نماز، روزے، حج، نکاح و طلاق کے عائلی قوانین اور اسی طرح کی دیگر رسوم و روایات میں انگریز حکمرانوں نے کبھی مداخلت نہیں کی۔ ہندوؤں کی رسوم و روایات، مندروں، میلوں میں پوجا پاٹ اور یاتراؤں کو تو سرے سے مذہبی حیثیت ہی حاصل نہیں تھی۔ یہ صرف مسلمان تھے جن کے پاس اللہ تبارک و تعالیٰ کی مقدس کتاب قرآن اور اللہ کے رسول محمد مصطفیؐ کی سنتِ مبارکہ کی شکل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ’’دینِ اسلام‘‘ کی شکل میں موجود ہے، جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے ہدایت و رہنمائی کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔ اسی دینِ اسلام یعنی ضابطۂ حیات کو انگریزوں نے اپنے اقتدار و غلبے کے لیے خطرہ محسوس کیا اور تمام سیاسی اور حکومتی اثرو رسوخ کے ذریعے اس دینِ اسلام کا استیصال اور قلع قمع کیا۔ اس کی جگہ اپنا نظامِ قانون جو ’’رومن لا‘‘ پر مشتمل تھا، نافذ کیا۔ مسلمانوں کے نظامِ تعلیم و تربیت کو ختم کرکے اپنا نظامِ تعلیم اس طرح تشکیل کیا کہ مسلم ملت کے ذہن و فکر کو تبدیل کرکے اس کو صرف پیٹ کا پجاری اور معاشی حیوان بنایاجائے اور اپنی غلامی پر مطمئن و قانع کیا جائے۔ اسی نظامِ تعلیم اور انگریزی زبان کے تسلط کے نتیجے میں جو تہذیبی و ثقافتی ماحول پیدا ہوا، اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کے ذہنوں سے دین یعنی نظامِ زندگی کا تصور ختم ہوا اور مذہب کا محدود تصور رواج پا گیا۔
آج تقریباً 270 سال بعد یہ صورتِ حال ہے کہ مسلم ملت میں محدود مذہبی تصور کے مطابق نماز و روزہ، حج و عمرہ اور انفرادی زندگی میں حرام و حلال کا تصور رکھنے والے نہایت نیک پاک باز اور متقی و پر ہیز گار افراد موجود ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں وہی انگریزی قوانین، نظامِ تعلیم، سود و ربا او ر قمار پر مشتمل معاشی نظام قائم و دائم اور مسلط ہے، جس کے نتیجے میں مسلم ملت کے بیشتر افراد دو رنگی، منافقت اور متضاد و متصادم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انفرادی زندگی میں اگر نماز کی باقاعدگی حج و عمروں کی کثرت، اوراد و وظائف کی معمولات شامل ہیں، تو اجتماعی زندگی میں رشوت و سفارش، کاروبار میں فریب و دروغ بیانی و ذخیرہ اندوزی، عام زندگی میں دنیا پرستی، نمود و نمائش اور ظلم و طغیان کا دور دورہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ عظیم الشان میں صاف اور صریح الفاظ میں یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ ’’ان الدین عنداللہ الاسلام‘‘ اللہ کے نزدیک دین یعنی زندگی بسر کرنے کا ضابطۂ حیات صرف اور صرف اسلام ہے۔ جب اللہ تبار ک و تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اس دین کی تکمیل فرمائی، تو قرآن میں اس کو ان الفاظ میں بیان فرما کر تمام شکوک و شبہات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔
’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘: (ترجمہ) آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کیا اور میں اس بات پر راضی ہوں کہ تمہارے زندگی کا ضابطۂ حیات اسلام ہو۔‘‘
قرآن کے سورۂ شوریٰ میں صاف الفاظ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کو امر کے صیغے میں حکم دیا کہ ’’جس طریقے یعنی دین کی وصیت میں نے نوح، ابراہیم ، موسیٰ، عیسیٰ اور اے محمد، آپ کو کی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس کے بارے میں تفرقہ بازی میں نہ پڑو اور اسی وصیت اور حکم کے مطابق حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جو حکم بھی نازل فرمایا۔ اس کو عملاً نافذ اور قائم کیا۔ شراب کی ممانعت، خواتین کے لیے پردے کا حکم، سود کی حرمت و ممانعت کا حکم، قصاص و دیت کا حکم، زنا اور فحاشی و عریانی کے سدباب کے لیے قوانین جاری کیے۔ نظام صلوٰہ و زکوٰۃ کا اجتماعی نظم قائم کر دیا گیا۔ حلال و حرام اور فرائض و واجبات کے تمام ضابطے اور قوانین جاری کیے گئے۔ صلح و جنگ، اندرونی نظم و نسق اور بیرونی اور بین الاقوامی تعلقات کے تمام امور و معاملات کے ضابطے واضح کیے۔ تعلیم و تعلم اور تربیت کا ادارہ قائم کیا اور انسان کو اپنے اور اپنے رب کی معرفت کی بنیادی تعلیم دی ۔ ایسا نظامِ تعلیم تشکیل دیا کہ جس نے سیاست و قیادت کے لیے ایسے ایسے گوہرِ نایاب پید ا کیے، جن پر انسانیت آج بھی فخر کرتی ہے۔ یہ دین جب نافذ ہوا اور بروئے کار آیا، تو انسان کو دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی نصیب ہوئی۔ ظلم و طغیان اور سرکشی و بغاوت کا خاتمہ ہوا۔ انسان کو تاریخ میں پہلی مرتبہ جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ حاصل ہوا۔ عدل و انصاف کا بول بالا ہوا۔ ایک خوشحال و پُرامن معاشرہ وجود میں آیا۔ بڑے بڑے بادشاہوں، کج کلاہوں اور ’’قہاروں و جباروں‘‘ کے تخت و تاج اور برج الٹ دیے گئے۔ قیصر و کسریٰ اور روم و ایران کی بادشاہتیں قصۂ پارینہ بن گئیں۔
دنیا میں اس وقت بھی عالمی طاغوت کی حکمرانی اور بالادستی کے باوجود جو کچھ بھی خیر اور بھلائی موجود ہے، وہ اسی دینِ اسلام کی مرہون منت ہے۔ اس لیے تو حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

……………………………………………………………..



لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے