48 total views, 2 views today

انقلابِ فرانس سے پہلے یورپ پر شاہی خاندان، جاگیردار اور پوپ کی سرکردگی میں مذہبی عناصر کی حکمرانی تھی۔ شاہی خاندان اور جاگیر داروں کو پاپائیت کی شکل میں مذہبی عناصر کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ عوام اس اتحاد ثلاثہ کے گٹھ جوڑ کے نیچے ظلم و ستم، غربت و ناداری اور ہر قسم کے استحصال کا شکار تھے۔ اس دوران میں علم کے فروغ اور عقل کے استعمال سے جو نئے نظریے یا خیالات سامنے آئے، عیسائی کلیسا نے ان کو اپنے عقائد اور تصورات کے خلاف سمجھ کر رد کردیا اور اپنے اختیارات کو استعمال کرکے پُرتشدد طریقے سے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ نئے خیالات اور نظریات کے حامل افراد کو سولی پر چڑھایا گیا، ان کو زندہ جلایا گیا اور تمام ظالمانہ طریقے استعمال کرکے علم و عقل کی روشنی کو بجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ظلم و ستم کے ردِعمل میں ’’انقلابِ فرانس‘‘ بر پا ہوا۔ یہ انقلاب بے لگام بھی تھا اور بے تحاشا بھی۔ اس کا کوئی رہنما، لیڈر اور اس کو اپنی حدود میں رکھنے والا کوئی قائد نہیں تھا۔ اس وجہ سے اس انقلاب نے ایک سیلاب کی شکل اختیار کی اور اس میں ہر وہ فرد اور شخص مجرم اور ظالم ٹھہرا جس کے ہاتھ نرم تھے، اور جس کے کپڑے سفید تھے۔ اس کے بعد جب حالات آہستہ آہستہ پُرسکون اور نارمل ہوئے، تو سب سے پہلے جو رد عمل ابھرا، وہ مذہب اور مذہبی طبقات کے خلاف تھا۔ یہ ردِعمل اتنا شدید اور بے لگام تھا کہ اس میں اچھے اور برے، حق اور ناحق کی تمیز روا نہیں رکھی گئی۔ یوں مذہب کو مکمل طور پر رد کیا گیا۔ اس کو عقل و خرد کے خلاف قرار دیا گیا۔ اس کو انسانی ترقی و نشو نما کا دشمن قرار دیا گیا اور اس کے نتیجے میں اس کو اجتماعی امور و معاملاتِ حکومت و سیاست سے عملاً بے دخل کیا گیا۔ مذہبی خلا کو پر کرنے کے لیے قومیت، عوامی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام پر مشتمل ’’تثلیث‘‘ کا نظریہ قائم اور نافذ کیا گیا اور مذہب کو فرد کا انفرادی معاملہ قرار دے کر معاشرے اور اجتماعیت سے عملاً بے دخل کیا گیا۔
یہ ہے جدید سیکولرازم کا بیک گراونڈ اور پس منظر۔
استعماری طاقتوں نے جب اپنے مفادات کے لیے دنیا کے دوسرے زرخیز علاقوں، معدنی وسائل اور انسانوں کو غلام بنانے کے لیے اپنی سائنسی ایجادات و اختراعات کا استعمال شروع کیا اور پوری دنیا کو اپنا غلام بنا کر ان کے وسائل پر قبضہ کیا، تو ہندوستان میں اپنے قبضے اور اقتدار کے لیے ایک طرف تو اپنا نظامِ تعلیم رائج کیا، جو مکمل طور پر سیکولر اور دین و سیاست کی جدائی پر مشتمل تھا۔ دوسری طرف اپنا نظامِ قانون نافذ کیا جس میں عوام کو محدود معنوں میں مذہبی رسومات، پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کی تو اجازت دی، لیکن حکومت و سیاست میں اس کا داخلہ ممنوع قرار دیا۔ چوں کہ ہندوستان میں بنیادی طور پر دو مذاہب یعنی ہندو مت اور اسلام کے ماننے والوں کی اکثریت تھی، تو ہندووں کے لیے تو یہ کوئی قابلِ اعتراض پالیسی نہیں تھی۔ اس وجہ سے کہ ہندو مت کو ئی مذہب نہیں، بلکہ چند رسوم و روایات اور پوجا پاٹ پر مشتمل ایک محدود طرزِ فکر و عمل اور طریقۂ کار ہے، لیکن مسلمان جس کے پاس اللہ کی کتاب ’’قرآن‘‘ اور اپنے رسول حضرت محمد ؐ کی سنت پر مشتمل مکمل دین یعنی ’’اسلام‘‘ بحیثیت نظامِ زندگی کا تصور موجود تھا۔ ان کو دین و سیاست کی یہ جدائی گوارہ نہ ہوئی۔
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
انگریزوں نے اپنے پورے دو سو سالہ اقتدار کے دوران میں مسلمانوں کو نماز، روزہ، انفرادی زکوٰۃ اور حج کی آزادی دی۔ نکاح و طلاق اور خلع کے عائلی قوانین میں بھی کوئی مداخلت نہیں کی، لیکن ان کا اصل مقصد اسلام کو بحیثیتِ دین، حکومت و سیاست سے نکالنا تھا۔ اس مقصد میں وہ اپنے نظامِ تعلیم اور نظامِ قانون کے ذریعے کامیاب ہوئے اور ایسے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے ایک پوری ملت کے فکر و خیال، عقیدے، عمل اور سوچنے سمجھنے کے انداز کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ انگریز کے جانے کے بعد ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوا اور بھارت کے ساتھ پاکستان بھی وجود میں آیا۔ مسلم عوام کے ذہن میں اسلامی نظامِ حکومت اور اسلام بحیثیت ایک اجتماعی نظام اتنا رچا بسا تھا کہ انگریز کے وفادار انگریزی نظامِ تعلیم کے پراسس سے نکلے ہوئے ذہنی طور پر سیکولر قیادت کو بھی پاکستان کے قیام کی خاطر عوامی حمایت کے حصول کے لیے ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ!‘‘ کا نعرہ بلند کرنا پڑا اور پاکستان کے حصول و قیام کے لیے یہ عوامی نعرہ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ ہندو اکثریت اور انگریز حکومتی طاقت کی رکاؤٹ کے باوجود پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور آج تک قائم ہے۔ لیکن انگریز کے شاگردوں، وفاداروں اور ذہنی و فکری غلاموں کے اقتدار پر تسلط کی وجہ سے اسلام بحیثیتِ دین، پاکستان کے اجتماعی اور سیاسی زندگی میں جگہ نہ پا سکا۔ اور اس کے نتیجے میں آج پاکستان گوناگوں مسائل اور مشکلات سے دو چار ہے۔
اسلام اور عیسائیت میں یہ جوہری فرق ہے کہ عیسائیت واقعی چند مذہبی رسومات کا مجموعہ ہے۔ اس میں معاشرے اور اجتماعی زندگی کے لیے کوئی ہدایات اور رہنمائی موجود نہیں، لیکن اسلام مذہب نہیں بلکہ ’’دین‘‘ ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ان الدین عندا للہ الاسلام!‘‘ (ترجمہ) اللہ کے نزدیک زندگی گزارنے کا طریقہ صرف اسلام ہے۔ اور جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کیا، وہ اللہ ہر گز قبول نہیں کرے گا۔
’’ومن یبتغ دین الاسلام فلن یقبل منہ، وھو فی الاخرۃ من الخاسرین۔‘‘

…………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے