660 total views, 1 views today

خالق کائنات نے اپنے حبیب حضورِ اکرمؐ کو قرآنِ کریم میں عمومی طور پر یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ، یا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ، یَا اَیُّہَا الْمُدِّثِر اور یَا اَیُّہَا الْمُزِّمِّلُ جیسی صفات سے خطاب فرمایا ہے۔ حالاں کہ دیگر انبیائے کرام کو ان کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔ صرف چار جگہوں پر اسمِ مبارک ’’محمد‘‘ اور ایک جگہ اسم مبارک ’’احمد‘‘ قرآن کریم میں آیا ہے۔ ’’اور محمدؐ ایک رسول ہی تو ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ (سورۃ آل عمران: 144)
(مسلمانو!) محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (سورۃ الاحزاب: 40) اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور ہر اُس بات کو دل سے مانا ہے جو محمدؐ پر نازل کی گئی ہے، اور وہی حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، اللہ نے ان کی برائیوں کو معاف کردیا ہے اور ان کی حالت سنوار دی ہے۔ (سورۃ محمد : 2)
محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ (سورۃ الفتح: 29)
اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا کہ: ’’اے بنو اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا ایسا پیغمبر بن کر آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔ (سورۃ الصف: 6) معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانہ ہی میں حضور اکرمؐ کے نبی ہونے کی تصدیق فرمادی تھی۔
٭ حضور اکرمؐ کا عالی مقام ومرتبہ:۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایسا عظیم الشان مقام عطا فرمایا ہے کہ کوئی بشر حتی کہ نبی یا رسول بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: (اے پیغمبر! ) کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتاردیا ہے، جس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی۔ اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کر دیا ہے۔ (سورۃ الشرح: 1-4)
دنیا میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جس میں ہزاروں مسجدوں کے مناروں سے اللہ کی وحدانیت کی شہادت کے ساتھ حضور اکرمؐ کے نبی ہونے کی شہادت ہر وقت نہ دی جاتی ہو اور لاکھوں مسلمان نبی اکرمؐپر درود نہ بھیجتے ہوں۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ حضور اکرمؐ کا نام نامی اس دنیا میں لکھا، بولا، پڑھا اور سنا جاتا ہے۔
٭ حضور اکرمؐ صاحبِ حوضِ کوثر:۔ خالق کائنات نے صرف دنیا ہی میں نہیں بلکہ آپؐ کو حوضِ کوثر عطا فرماکر قیامت کے روز بھی ایسے بلند و اعلیٰ مقام سے سرفراز فرمایا ہے جو صرف اور صرف حضورِ اکرمؐ کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (اے پیغمبر!) یقین جانو، ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دی ہے۔ لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نمازپڑھو اور قربانی کرو۔ یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے یعنی جس کی نسل آگے نہ چلے گی۔ (سورۃ الکوثر: 1-3) کوثر جنت کے اُس حوض کانام ہے جو حضورِ اکرمؐ کے تصرف میں دی جائے گی اور آپ کی اُمّت کے لوگ قیامت کے دن اس سے سیراب ہوں گے۔ حوض پر رکھے ہوئے برتن آسمان کے ستاروں کی مانند کثرت سے ہوں گے۔
٭ حضور اکرمؐ پر درود وسلام:۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف زمین میں بلکہ آسمانوں پر بھی اپنے نبی کو بلند مقام سے نوازا ہے، چناں چہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نبی پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اور فرشتے نبی کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی نبی پر درود وسلام بھیجا کرو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 56) اس آیت میں نبی اکرمؐ کے اس مقام کا بیان ہے جو آسمانوں میں آپؐ کو حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں آپؐ کا ذکرفرماتا ہے اور آپؐ پر رحمتیں بھیجتا ہے۔ اور فرشتے بھی آپؐ کی بلندیِ درجات کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپؐ پر درود وسلام بھیجا کریں۔
٭ حضور اکرمؐ کا فرمان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:۔ کیسا عالی شان مقام حضور اکرمؐ کو ملا کہ آپ کا کلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہوتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے: اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔ (سورۃ النجم: 4-3)
٭ حضور اکرمؐ کی لوگوں کی ہدایت کی فکر:۔ حضورِ اکرمؐ لوگوں کی ہدایت کی اس قدر فکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (اے پیغمبر!) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جارہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے! (سورۃ الشعراء: 3) ہمارے نبی کافروں اور مشرکوں کو ایمان میں داخل کرنے کی دن رات فکر فرماتے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش فرماتے، لیکن آج بعض مسلمان اپنے ہی بھائیوں کو کافر اور مشرک قرار دینے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں۔
٭ حضور اکرمؐ نبی رحمت بناکر بھیجے گئے:۔ رب العالمین نے اپنے نبی کو رحمۃ للمسلمین یا رحمۃ للعرب نہیں بنایا بلکہ رحمۃ للعالمین بنایا ہے جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء: 107) جس نبی کو سارے جہاں کے لیے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا گیا ہو، اس نبی کی تعلیمات میں دہشت گردی کیسے مل سکتی ہے؟ آپؐ نے ہمیشہ امن وامان کو قائم کرنے کی ہی تعلیمات دی ہیں۔
٭ حضورِ اکرمؐ خاتم النبیین ہیں:۔ آپؐ نبی ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی ہیں، حضرت آدم علیہ السلام سے جاری نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہوگیا، یعنی اب کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (مسلمانو!) محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (سورۃ الاحزاب: 40) حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
٭ حضورِ اکرمؐ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا:۔ متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی عالمی رسالت کو بیان کیا ہے، یہاں صرف دو آیات پیش ہیں: (اے رسولؐ! ان سے) کہو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ (سورۃ الاعراف: 158) اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لیے ایسا رسول بناکر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے۔ (سورۃ سبا:28)
٭ حضورِ اکرمؐکا اسوۂ حسنہ بنی نوع انسان کے لیے: چوں کہ آپؐ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا ہے، اس لیے آپؐ کی زندگی قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نمونہ بنائی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے امید رکھتا ہو۔ اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔ (سورۃ الاحزاب 21) حضورِ اکرمؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نمونہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضور اکرمؐ کی سنتوں پر عمل کریں۔
٭ حضورِ اکرمؐ کی اتباع:۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کے اسوہ میں دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی مضمر رکھی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی اتباع کو لازم قرار دیا۔ فرمان الٰہی ہے: (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دوکہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ (سورۃ آل عمران: ۳۱) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سیکڑوں آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ ان سب جگہوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ فرمانِ الٰہی کی تعمیل کرو اور ارشادِ نبویؐ کی اطاعت کرو۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کر دی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسولؐ اللہ کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرمؐ کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔
٭ قرآن کے مفسر اول:۔ حضور اکرمؐ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے: یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔ (سورۃ النحل: 44) اسی طرح فرمان الٰہی ہے: یہ کتاب ہم نے آپؐ پر اس لیے اتاری ہے، تاکہ آپؐ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (سورۃ النحل 64) اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر بیان فرمادیا کہ قرآنِ کریم کے مفسر اول حضور اکرمؐ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرمؐ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ آپؐ امتِ مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام و مسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ حضور اکرمؐ نے اپنے اقوال وافعال کے ذریعہ قرآنِ کریم کے احکام ومسائل بیان کرنے کی ذمہ داری بحسن خوبی انجام دی۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے