782 total views, 1 views today

حضرت عمرو بن عوف مذنیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’عالم کی لغزش سے بچو، اور اس سے قطع تعلق مت کرو، اور اس کے لوٹ آنے کا انتظار کرو۔‘‘ (کنزالعمال)
یہ حدیث اگر چہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے تمام امت نے اس کو قبول کیا ہے۔ اس حدیث میں حضورؐ نے بڑا اہم نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کو یقین سے یہ معلوم ہے کہ فلاں کام گناہ ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ ایک عالم اس گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، تو تم یہ ہر گز مت سوچو کہ جب اتنا بڑاعالم یہ گناہ کا کام کررہا ہے، تولاؤ میں بھی کرلوں بلکہ اس عالم کی اس غلطی اور اس کے گناہ سے بچو اور اس کو دیکھ کر تم اس گناہ کے اندر مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عالم کی غلطی کی پیروی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی صرف اچھائی کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ وہ عالم جوسچا اور صحیح معنوں میں عالم ہو، اس کا فتویٰ تو معتبر ہے۔ اس کا زبان سے بتایا ہوا مسئلہ تو معتبر ہے، اس کا عمل معتبر ہوناضروری نہیں۔ اگر وہ کوئی غلط کام کر رہا ہے، تو اس سے پوچھو کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں؟ وہ عالم یہی جواب دے گا کہ یہ عمل ناجائز ہے۔ اس لیے تم اس کے بتائے ہوئے مسئلے کی اتباع کرو۔ اس کے عمل کی اتباع مت کرو۔ ہماری پشتو کی ایک مثل ہے: ’’عالم چہ سہ وئی اغہ کوہ او چہ سہ کئی اغہ مہ کوہ۔‘‘
بعض لوگ یہ غلطی بھی کرتے ہیں کہ جب وہ کسی عالم کو کسی غلطی میں یا گناہ میں مبتلا دیکھتے ہیں، تو بس فوراً اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں اور اس سے بدگمان ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ مولوی لوگ سب کے سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ یوں تمام علمائے کرام کی توہین شروع کردیتے ہیں کہ آج کل علما توایسے ہی ہوتے ہیں۔
حدیث کے دوسرے جملے میں حضورؐ نے اس کی بھی تردید فرما دی کہ اگر کوئی عالم گناہ کا کام کررہا ہے، تو اس کی وجہ سے اس سے قطع تعلق بھی مت کرو،کیوں؟ اس لیے کہ عالم بھی تمہاری طرح کا انسان ہے، جو گوشت پوست تمہارے پاس ہے، وہ اس کے پاس بھی ہے۔ وہ کوئی آسمان سے اترا ہوا فرشتہ نہیں۔ جو جذبات تمہارے دل میں پیدا ہوئے ہیں، وہ اس کے دل میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ شیطان تمہارے پیچھے بھی لگا ہوا ہے اور اس کے پیچھے بھی لگا ہوا ہے۔ وہ گناہوں سے پاک ہے نہ پیغمبر ہے اورنہ فرشتہ بلکہ وہ بھی اسی دنیا کاباشندہ ہے، تو اس سے قطع تعلق مت کرو بلکہ اس کے واپس آنے کا انتظار کرو۔ اُمید ہے کہ وہ توبہ کرکے کسی وقت لوٹ آئے۔
اس لیے علما کے لیے دعا کرو کہ یا اللہ فلاں شخص آپ کے دین کا حامل ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں دین کا علم معلوم ہوتا ہے۔ یہ بے چارہ اس گناہ کی مصیبت میں پھنس گیا ہے، اس کو اپنی رحمت سے اس مصیبت سے نکال دیجیے، تو اس دعا کو مانگنے سے تمہارا ڈبل فائدہ ہے۔ ایک دعا کرنے کا ثواب ملے گا اور دوسرا ایک مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا۔ اگر یہ دعا قبول ہوتی ہے، تو تم اس عالم کی اصلاح کا سبب بن گئے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ عالم کو تو خودچاہیے کہ وہ با عمل ہو، لیکن اگر کوئی عالم بے عمل بھی ہو، تو بھی وہ عالم اپنے علم کی وجہ سے تمہارے لیے قابلِ احترام ہے۔ لہٰذا یہ پروپیگنڈا کرنا اور علما کو بدنام کرتے پھرنا کہ ’’ارے میاں، آج کل مولوی سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ آج کل کے علماء کا تویہ حال ہے۔‘‘ اس قبیل کے جملے موجودہ دور کا ایک فیشن بن گئے ہیں، جو لوگ بے دین ہیں، ان کا تویہ طرزِ عمل بن چکا ہے کہ وہ علمائے حق تک کو نہیں بخشتے۔ اس لیے کہ ان کو معلوم ہے کہ جب تک مولوی اور علما کو بدنام نہیں کریں گے، اس وقت تک ہم اس قوم کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ جب علما سے اس کا رشتہ توڑ دیں گے، تو پھر یہ لوگ ہمارے رحم و کرم پر ہوں گے۔ ہم جس طرح چاہیں گے، ان کو گمراہ کرتے رہیں گے، لیکن جو لوگ دین دار ہیں، ان کا بھی یہ فیشن بنتا جا رہا ہے کہ وہ بھی ہر وقت علما کی توہین اور ان کی بے وقعتی کرتے پھرتے ہیں کہ اے صاحب! علما کا تو یہ حال ہے۔ ان لوگوں کی مجلس ان باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ حالاں کہ اگر مسئلہ کا بغور جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ ان باتوں سے کوئی فائدہ نہیں، سوائے اس کے کہ جب لوگوں کو علما سے بدظن کردیا گیا، تو پھر انہیں شریعت کے احکام کون بتائے گا؟ پھر تو شیطان ہی آگے ہوگا اور امت اس کے پیچھے چلتے چلتے گمراہ ہوجائے گی۔
لہٰذا علما اگر چہ بے عمل نظر آئیں۔ پھر بھی ان کی اس طرح توہین مت کریں بلکہ ان کے لیے دعا کریں اور ان سے قطع تعلق مت کرو۔ ہزاروں علما کو دو تین بے عمل مولوی حضرات یا علما کی وجہ سے معتوب ٹھہرانا زیادتی ہی ہے!

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے