1,129 total views, 1 views today

قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ مرد حضرات کو حتی الامکان فرض نماز جماعت ہی کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔ کیوں کہ فرض نماز کی مشروعیت جماعت کے ساتھ وابستہ ہے۔ فرض نماز جماعت کے بغیر ادا کرنے پر فرض تو ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، مگر معمولی معمولی عذر کی بنا پر جماعت کا ترک کرنا یقینا گناہ ہے، لیکن ہندوستان کے موجودہ تناظر میں علما و دانشوارانِ قوم کو چاہیے کہ وہ فی الحال اس موضوع پر سڑکوں پر آنے کے بجائے ہندوستانی قوانین کا سہارا لے کر قانونی جنگ لڑیں، ورنہ ہم شرپسند عناصر کے مقاصد کو پورا کرنے والے بنیں گے اور یہی بی جے پی کا اصل ایجنڈا ہے کہ مسجد و مندر کے مسائل کو اٹھاکر ہندؤوں کے ووٹ حاصل کرکے چھتیس گڑھ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور پھر مرکزی حکومت پر دوبارہ قبضہ کیا جائے۔ ہاں، البتہ ہمیں ایسی کوششیں ضرور کرنی چاہئیں کہ ہمارے محلہ کی مسجدیں آباد ہوں اور مسلمان خاص کر نوجوان جمعہ کی طرح تمام نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے والے بنیں۔ کیوں کہ فرض نماز ہمیں جماعت کے ساتھ مسجد میں جاکر ہی ادا کرنی چاہیے۔ اس موضوع پر چند آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا ترجمہ پیش کررہا ہوں جس سے کم از کم ہمارے نوجوانوں کو شریعت اسلامہ میں فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی اہمیت و تاکید معلوم ہو۔
آیات قرآنیہ:۔ جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدہ کے لیے بلائے جائیں گے، تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت وخواری طاری ہوگی۔ حالاں کہ یہ سجدہ کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم یعنی صحت مند تھے۔ (سورۃ القلم 42)
حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میدانِ قیامت میں اپنی ساق (پنڈلی) ظاہر فرمائے گا جس کو دیکھ کر مومنین سجدہ میں گر پڑیں گے، مگر کچھ لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر نہ مڑے گی بلکہ تختہ (کی طرح سخت) ہوکر رہ جائے گی۔ یہ کون لوگ ہیں؟ توحضرت کعب الاحبارؓ (مشہور صحابی) قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ یہ آیت صرف ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہے جو جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتے ہیں۔
حضرت سعید بن مسیبؒ (ایک بہت بڑے تابعی) فرماتے ہیں: حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح کو سنتے تھے مگر صحیح سالم، تندرست ہونے کے باوجود مسجد میں جاکر نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
غور فرمائیں کہ نمازیں نہ پڑھنے والوں یا جماعت سے ادا نہ کرنے والوں کو قیامت کے دن کتنی سخت رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ساری انسانیت اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں ہوگی، مگر بے نمازیوں کی کمریں تختے کی مانند کردی جائیں گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ! ہم سب کی اس انجام بد سے حفاظت فرمائے، آمین!
اسی طرح فرمان الٰہی ہے: اور نمازوں کو قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع ادا کرو۔ (سورۃ البقرہ)
قرآن کریم میں جگہ جگہ نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نماز کو قائم کرنے سے مراد فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔
احادیث نبویہ:۔ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں اور ساتھ ہی نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم دوں، پھر کسی آدمی کو نماز کے لیے لوگوں کا امام مقرر کردوں اور خود ان لوگوں کے گھروں کو جاکر آگ لگادوں جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے (یعنی گھر یا دوکان میں اکیلے ہی نماز پڑھ لیتے ہیں)۔ (بخاری)
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور بلا کسی عذر کے مسجد کو نہ جائے (بلکہ وہیں پڑھ لے) تو وہ نماز قبول نہیں ہوتی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ عذر سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: مرض یا خوف۔ (ابوداود، ابن ماجہ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کہنے لگے : یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی آدمی نہیں جو مجھے مسجد میں لائے۔ یہ کہہ کر انھوں نے نماز گھر پر پڑھنے کی رخصت چاہی۔ رسول اکرمؐ نے انہیں رخصت دے دی لیکن جب وہ واپس ہونے لگے تو انہیں پھر بلایا اور پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا، ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے ارشاد فرمایا: تو پھر مسجد میں آکر ہی نماز پڑھا کرو۔ (مسلم)
غور فرمائیں کہ جب اس شخص کو جو نابینا ہے، مسجد تک پہنچانے والا بھی کوئی نہیں اور گھر بھی مسجد سے دور ہے، نیز گھر سے مسجد تک کا راستہ بھی ہم وار نہیں(جیسا کہ دوسری احادیث میں مذکور ہے)، نبی اکرمؐنے گھر میں فرض نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی تو بینا اور تندرست کو بغیر شرعی عذر کے کیوں کر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: جس گاؤں یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور وہاں باجماعت نماز نہ ہوتی ہو، تو ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے۔ اس لیے جماعت کو ضروری سمجھو۔ بھیڑیا اکیلی بکری کو کھا جاتا ہے، اور آدمیوں کا بھیڑیا شیطان ہے۔ (ابوداود، نسائی، مسند احمد، حاکم)
اقوالِ صحابہ:۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مسلمان بن کر حاضر ہو، وہ نمازوں کو ایسی جگہ ادا کرنے کا اہتمام کرے جہاں اذان ہوتی ہے(یعنی مسجد میں)۔ اِس لیے کہ حق تعالیٰ شانہ نے تمہارے نبیؐ کے لیے ایسی سنتیں جاری فرمائی ہیں جو سراسر ہدایت ہیں، اُن ہی میں سے یہ جماعت کی نمازیں بھی ہیں۔ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگوگے، جیسا کہ فلاں شخص پڑھتا ہے تو تم نبیؐ کی سنت کو چھوڑنے والے ہوگے اور یہ سمجھ لو کہ اگر تم نبیؐ کی سنت کو چھوڑ دو گے، تو گمراہ ہوجاؤگے۔ تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلم کھلا منافق ہوتا، وہ تو جماعت سے رہ جاتا (ورنہ حضور کے زمانے میں عام منافقوں کو بھی جماعت چھوڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی) یا کوئی سخت بیمار، ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے گھسیٹتا ہوا جا سکتا تھا وہ بھی صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا۔ (مسلم)
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی۔ پوچھا گیا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے؟ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے وہ مسجد کا پڑوسی ہے۔ (مسند احمد)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓسے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نفلیں پڑھتا ہے مگر جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوتا، (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟) حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایاکہ یہ شخص جہنمی ہے۔ (گو مسلمان ہونے کی وجـہ سے سزا بھگت کر جہنم سے نکل جائے)۔ (ترمذی)
آخر میں عرض ہے کہ مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کاقرآن کریم میں اعلان ہے کہ ہر پریشانی کے بعد آسانی آتی ہے۔ اس ملک کی آزادی کے لیے ہم نے کندھے سے کندھا ملاکر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بھرپور حصہ لیا ہے، اور آج بھی اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ ملک کسی مخصوص مذہب کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور پارسی سب کا ہے، اور اس پر سب کا یکساں حق ہے۔ اسی سمت میں ہمیں سوچ سمجھ کر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو سماجی بھائی چارہ کو مضبوط کریں اور دوسری اقوام کے ساتھ ساتھ ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں معاون ہوں۔ علمائے کرام و دانشورانِ قوم اور عام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ ہم اپنے اخلاق وکردار کے ذریعہ مسلم و دیگر قوموں کے درمیان پیدا شدہ فاصلہ کو کم کرنے کی کوشش کریں اور اپنے عمل سے لوگوں کو بتائیں کہ اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے