636 total views, 1 views today

دسویں صدی کے صوفی بزرگ ابوالحسن النوری نے اس سوال کا جواب یوں دیا: ’’تصوف نہ خارجی تجربہ ہے اور نہ داخلی علم، یہ صرف راستی اور تقویٰ ہے۔‘‘
جنید بغدادی نے کہا: ’’تصوف یہ ہے کہ تم کسی شرط کے بغیر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجاؤ۔‘‘
سہیل ابن عبداللہ التستری کا، جو نویں صدی کی آخری دہائی کے بزرگ ہیں، کہنا ہے کہ ’’تصوف یہ نہیں کہ کم کھاؤ، خدا سے رابطہ رکھو اور انسانوں سے دور بھاگو۔‘‘
نویں صدی کے اواخر کے ایک عراقی صوفی ’’سمنون‘‘ نے، جو لوگوں کے لیے ایک معمہ بنے رہے اور جو اپنے آپ کو ’’جھوٹا‘‘ کہتے تھے، کہا ہے کہ ’’تصوف یہ ہے کہ تمہاری کوئی مِلکیت نہ ہو اور تم کسی کی مِلکیت نہ ہو۔‘‘
تصوف کی تعریف اس طرح بھی کی جاتی ہے: ’’فنا، فنا، اپنے آپ کو فنا کر دینا، اپنی انا کو مٹا دینا۔‘‘
جنید بغدادی نے کہا: ’’یہ ایسا تجربہ ہے جس میں تم اپنے آپ کو مٹا دیتے ہو اور صرف اُس (رب) کے لیے رہتے ہو۔‘‘
اصل میں تصوف اپنی ذات کی نفی ہے، اپنی مرضی اور ارادے کی نفی، وجود کی نفی، شعورِ ذات کی نفی اور خدا کی مرضی، اس کی صفات میں اور بالآخر اس کی ذات میں اپنے آپ کو ضم کرلینا۔ صوفی کو فنا کی راہ پر جو عمل لے جاتا ہے، وہ ہے ذکر، اللہ کی یاد۔ (ضیاء الدین سردار کی ترجمہ شدہ کتاب ’’جنت کے لیے سرگرداں‘‘ (مترجم، مسعود اشعر) کے صفحہ نمبر 74 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے