718 total views, 1 views today

صوفی تبسمؔ نے قدرت اللہ شہابؔ کے بارے میں کہا تھا کہ
جب کہیں انقلاب ہوتا ہے
قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے
لیکن ہمارے آج کے ممدوح وہ شہاب نہیں جو ہر انقلاب کی وجہ سے صوفی تبسمؔ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ اُس شہابؔ نے پاکستان اور پاکستانی حکومت پہ لکھا جب کہ اِس شہابؔ نے سوات اور ریاستِ سوات پہ لکھا۔ دونوں کو اُن کی سدا بہار تحریریں زندہ رکھیں گی۔
ہمارے اِس شہابؔ نے عالمِ شباب میں (اوور سیر) کی حیثیت سے ریاستِ سوات کی سڑکوں، پلوں اور قلعوں کی تعمیرات میں اپنا خون پسینہ بہایا۔ اسی وجہ سے اُس کی رگوں میں ریاستِ سوات کی محبت کا لہو دوڑتا ہے۔ جس کے بارے میں "Swat Valley” اور "Holidays camping in swat” جیسے سفرنامے لکھے گئے۔ جہاں ملکۂ برطانیہ الزبتھ ٹیلر آکر کھلم کھلا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ سیلانی کھلی فضا میں بانہیں پھیلائے لمبی لمبی سانسیں لیا کرتے تھے۔ جہاں مدین کے ہوٹلوں کو بیس کیمپ بناکر انگریز سفید چوٹیاں سر کرنے کی مہم جوئیاں کیا کرتے تھے۔ جب کہ کالام (تحصیل) میں تو باقاعدہ ’’برٹش کالونی‘‘ ہوا کرتی تھی۔ والئی سوات کی باقیات اور انگریزوں کی سوغات (مدین پل، دیگر تعمیرات) آج بھی ہمارا منھ چڑاتی ہے۔
قدرت اللہ شہابؔ نے پاکستان اور پاکستانی حکومت پہ لکھا ہے، تو فضل رازق شہابؔ نے سوات اور ریاستِ سوات کے عہدِ زریں سے پردے سرکائے ہیں۔ آپ کا تعلق سوات کے تاریخی گاؤں ’’ابوہا‘‘ سے ہے۔ جی ہاں! یہ وہی گاؤں ہے جو ’’نمبولا‘‘ اور ’’بیگم جان‘‘ کے رومان کی وجہ سے بڑا مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں کی بیگم جان نامی دوشیزہ پر نمبولا نامی ’’جن‘‘ عاشق ہوگیا تھا۔ اس ’’جن‘‘ کو ’’ملا بہادر‘‘ نامی مولوی نے جلاکر بھسم کر ڈالا۔ ’’جن‘‘ کے لواحقین نے ملا بہادر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کی وجہ سے ملا بہادر ہر وقت وضو میں رہتا تھا۔ ایک دن جب مولوی وضو کرنا بھول گیا، تو اُسی دن نمبولا کے رشتہ دار جنوں نے ملا بہادر کو مسجد ہی میں پھانسی دے دی۔ اور پھر لاش کو ابوہا کی اِک پہاڑی پر لے جاکر درخت سے لٹکادیا (واللہ اعلم)۔
شہابؔ سے آج تک میری تین ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان کے ایک بھتیجے محبوب صاحب (ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن) میرے دوست ہیں۔ اُنہوں نے ہمارے ملانے کی سبیل نکالی جب کہ اس سے پہلے ہم اک دوسرے کو روزنامہ ’’آزادی‘‘ کے ادارتی صفحے کے باہم پڑوسی ہونے کے علاوہ نہیں جانتے تھے۔ شہابؔ صاحب کے والد صاحب ریاستِ سوات میں مرزا تھے۔ اُنہی کے توسط آپ بھی ریاستی کل پرزوں میں شامل ہوگئے۔ دورانِ ملازمت والئی سوات نے جو کچھ پڑھایا، سکھایا اور بتلایا ساری زندگی آپ اسی پر عمل کرتے رہے۔ لکھت پڑھت کے حوالے سے آپ کا کہنا ہے کہ ’’بچپن ہی سے مجھے مجھے انگریزی ادب سے لگاؤ تھا۔ یہی شوق تھا جس نے مجھے انگریزی ادب کی ہزاروں کتابیں پڑھنے کی مہمیز لگائی۔ شیکسپیئر سے لے کر جانسن، ڈکن اور ہارڈی تک کا سفر کیا۔ اردو میں اشفاق، بانو، مفتی اور شہابؔ سے لے کر شفیق الرحمان تک کی نثر کو پڑھا۔ آخرالذکر آپ کے پسندیدہ لکھاری ہیں جب کہ انگریزی میں چارلس ڈکن سے آپ متاثر ہیں۔ ’’عکسِ نا تمام‘‘ آپ کے اُن کالموں کا مجموعہ ہے جو روزنامہ ’’آزادی‘‘ میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ یہ قریباً چار سو کے لگ بھگ کالم ہوں گے لیکن کتاب ہذا میں ایک سو ستر ہی کا انتخاب کیا گیا۔
380 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت کتاب میں زیادہ تر کالم سوات اور تاریخ سوات کا احاطہ کرتے ہیں۔ بہ قولِ میاں گل شہر یار امیر زیب یہ مضامین اُن لوگوں کے لیے چشم کشا ہیں جنہوں نے سوات کا ریاستی دور نہیں دیکھا۔ فضل ربی راہیؔ لکھتے ہیں کہ ’’شہاب صاحب کی تحریروں میں ریاستِ سوات کی تاریخ اور اُس دور کی معاشرتی زندگی کی ایک جیتی جاگتی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔‘‘ جب کہ عطاء اللہ جان لکھتے ہیں کہ ’’شہاب ریاستِ سوات کے شان دار ماضی کے امین ہیں۔‘‘




فضل رازق شہابؔ صاحب کی حالیہ شائع شدہ کتاب "عکسِ ناتمام” کا ٹائٹل۔ (فوٹو: فضل ربی راہی)

شہابؔ نے کالم نگاری 67 سال کی عمر میں شروع کی۔ آج وہ 75 سال کے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس عمر میں قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں اور انسان حافظے کو روتا ہے۔ شہابؔ کا کمال یہ ہے کہ اُن کے کالموں کی ساری تاریخی دستاویزات اور معلومات اُن کے حافظے ہی کی مرہون منت ہے۔ اے کاش! وہ یہ کام جوانی ہی سے شروع کردیتے، تو مزید کمال ہوجاتا۔
شہابؔ کی نثر پختہ، شستہ اور شگفتہ ہے۔ بیانیہ سادہ اور رواں ہے۔ انہوں نے جو دیکھا، جو محسوس کیا یا اپنے بزرگوں سے سنا، اُسے بلا کم و کاست تحریر کیا۔ اس میں کوئی افسانوی اضافہ نہیں کیا۔ نہ ہی اس میں مرچ مصالحہ لگا کر چٹخارے دار بنایا گیا ہے۔ کچھ خاص الفاظ کو فضل مولا زاہدؔ کی طرح واوین اور قوسین میں قید کرکے اس کی معنی خیزیت کو مزید اُبھارا ہے۔ مثلاً ’’نر‘‘، ’’قلندرہ‘‘، ’’گرائیں‘‘ اور ’’ڈنگ ٹپاؤ۔‘‘ اسی طرح آپ کی نثر میں محاورات اور ضرب الامثال کی بھی کافی بہتات ہے۔ مثلاً ’’اللے تللے‘‘، ’’تین میں نہ تیرہ میں‘‘، ’’آوے کا آوا بگڑا ہونا‘‘، ’’چیں بہ جبیں‘‘، اور ’’ہر چہ باداباد۔‘‘
آپ نے ریاستی دور کی تعلیمی سہولتوں، منصفانہ عدالتی نظام، تعمیر و ترقی، دفاع اور انفراسٹرکچر پر خوبصورت تحریریں لکھی ہیں۔ ریاستی اہل کاروں کی حب الوطنی، خلوص اور بادشاہ سے محبت کا احوال بھی بڑا دلچسپ ہے۔ شخصی خاکہ نما کالموں میں صفحہ 335پر ’’اکامیاں‘‘ والا مضمون کتاب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ جسے پڑھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ’’ناخود کپتان‘‘، ’’عبدالحنان‘‘، ’’امیر ثواب‘‘ اور ’’سپہ سالار صاحب‘‘ کا احوال بھی خاصے کی چیزیں ہیں۔ جب کہ ماضی کے جھروکوں، ریاست سوات کے قلعے، ریاست سوات کی چند تاریخی عمارات، ریاست سوات کا انتظامی ڈھانچہ اور ریاست سوات کا عدالتی نظام، ریاست کے حوالے سے بہترین مضامین ہیں۔
کتاب پڑھنے، تحفے میں دینے اور لائبریری میں رکھنے کے لائق ہے۔

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے